طالبعلم:’معافی، بے عزتی علیحدہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں روزانہ صبح چھ بجے جاگتا ہوں اور جوگنگ کے لئے باہر نکل جاتا ہوں۔ ساڑھے سات بجے تک ورزش کرکے لوٹتاہوں، ہلکا پھلکا ناشتہ کرتا ہوں اور اگر کالج کا کام پچھلی رات مکمل نہ ہوا ہو تو اسے مکمل کرتا ہوں ورنہ سو جاتا ہوں۔ بارہ بجے چوک رشید آباد ملتان میں واقع اپنے کالج جس کا نام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے، پہنچتا ہوں۔ حیران مت ہو ئیے، نجی کالجوں میں کلا سوں کے مختلف اوقات ہوتے ہیں۔ ہماری کلاسز بارہ بجے سے شام سات بجے تک ہوتی ہیں جن میں ہفتے کے تین دن لیکچرز پر مشتمل ہوتے ہیں اور تین دن لیب میں جہاں ہم ان تمام چیزوں کو اپلائی کرتے ہیں جو ہم نے پڑھی ہوتی ہیں۔ کالج کی فیس ملتان کے حساب سے اچھی خاصی ہے۔ تقریباً تیس ہزار ایک سمیسٹر کے لئے جو کہ پانچ مہینوں کا ہوتا ہے۔ تاہم سہولیات اچھی ہیں۔ ہماری لیب میں پی فور کمپیوٹرز ہیں اور یہ سرکاری کالجوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے۔ فیس زیادہ ہونے کے وجہ سے صرف متوسط طبقے یا خوشحال گھرانوں کے بچے ہی پڑھنے آتے ہیں۔ ہمارے کالج میں مخلوط تعلیم ہے۔ کمپیوٹر کی فیلڈ میں ستر فیصد لڑکے اور تیس فیصد تک لڑکیاں ہیں جب کہ کامرس میں لڑکیاں پچاس فیصد تک ہیں۔ جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لڑکیوں کو گھر میں کمپیوٹر پر کام کرنے کا موقعہ کم ملتا ہے۔ کالج کا ماحول سخت ہے اور ڈسپلن کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔ کینٹین میں یا باہر لڑکوں اور لڑکیوں کو مل کر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم کلاس روم میں عموماً دونوں آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور فرینک ہو جاتے ہیں۔ آٹھ بجے تک میں واپس گھر لوٹتا ہوں۔ کچھ دیر کھانا کھا کر اور ٹی وی دیکھنے کے بعد نو دس بجے تک کمپیوٹر پر پیٹھ کر ہوم ورک شروع کر دیتا ہوں۔ اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ کالج کی انٹرانیٹ سائٹ بھی ہے اور ٹیچرز کی اپنی سائٹس بھی جہاں سے پڑھنے کے لئے مواد مل جاتا ہے۔ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت عموماً زیادہ تر ٹیچرز آن لائن ہوتے ہیں اس لئے کوئی بھی مسئلہ ہو تو ان کو ای میل یا چیٹنگ کے ذریعے پو چھ لیتے ہیں۔ دوسرے لڑکے بھی آن لائن ہوتے ہیں تو ایک طرح سے مل کر پڑھنے کا سماں بن جاتا ہے۔ چیٹنگ بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے لیکن نقصان دہ بھی کیونکہ ہمارے کچھ ساتھی تو رات رات بھر بیٹھے رہتے ہیں۔ تفریح کا موقعہ چھٹیوں کے علاوہ کم ہی ملتا ہے۔ زیادہ تر باہر جاکر کہیں کھانا وغیرہ مل کر کھا لیتے ہیں یا کینٹ بازار میں گھوم لیتے ہیں۔ بلکہ اب تو وہ بھی کم ہو گیا ہے جس کی وجہ ایک واقعہ ہے۔ ہوا یوں کہ کچھ دوستوں کو کوئی چکر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کچھ کزنز ہیں جنہیں ایک لڑکا تنگ کر رہا ہے۔ ملتان میں ویسے ہی لڑکوں کو غیرت مند بننے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہوتا ہے اس لئے جب انہوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کو سبق سکھائیں گے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ہم نے جاکر اس لڑکے کو اس وقت پکڑا جب وہ اس لڑکی کو پی سی او سے فون کر رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ دو چار لگا کر چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے اسے خوب مارا، اس کت ٹنڈ کروائی اور اس کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ رات کو تقریباً گیارہ بجے تک ہم گھر آکر سو گئے۔ بارہ بجے کے قریب اس لڑکے کے دس پندرہ ساتھی اسلحہ لیکر ہمارے گھر آگئے۔ میرے ابو نے خیر انہیں کسی طرح رخصت تو کر دیا لیکن میری بے پناہ بےعزتی ہوئی۔ اس کے بعد وہ باقی لڑکوں کے گھر پہنچے جنہیں چھپنا پڑا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ لڑکی بھی ان کی کزن نہیں تھی بلکہ معاملہ کچھ اور تھا۔ بیس پچیس دنوں تک وہ ہمیں دھمکیاں وغیرہ دیتے رہے اور ہم چھپے رہے جبکہ ساتھ ساتھ بڑوں نے خوب بے عزتی کی۔ اس کے بعد بڑوں کی کوششوں سے صلح ہوئی، معافی مانگی اور تب جا کے معاملہ رفع دفع ہوا۔ اس سے یہ سبق سیکھا کہ کسی کے معاملے میں ٹانگ نہ اڑاؤ بلکہ اپنے معاملے میں بھی سوچ سمجھ کے قدم اٹھاؤ۔ نوٹ: اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی، کوئی واقعہ یا ڈائری ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ اگر آپ اپنی کہانی کے کسی کردار کا نام یا اپنا نام صیغہِ راز میں رکھنا چاہیں تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||