BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوبئی دوبئی نہ نکلا

دوبئی دوبئی نہ نکلا
ظفر جو لوٹ آیا

میراتعلق پا کستان کے صوبہ سرحد کےجنوبی ضلع ھنگو سے ہے۔ میں پشاور یونیورسٹی سے تاریخ کے مضمون میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی سالوں تک بےروزگار رہا۔ اسں دوران شادی کی ایک بچہ بچی پیداہوئے۔ ہر جگہ قسمت آزمائی کی لیکن کوشش کے باوجود کہیں بھی نوکری نہیں ملی۔ ان حالات میں ایک ہی راستہ تھا کہ باہر کا سفر کیا جا ئے۔

پاکستان سے بدلی کا عالم

 پا کستان سے بددلی کا یہ عالم تھا کہ جب میں اسلام آباد ہوائی اڈے پرجہاز کی سیڑیاں چڑھ رھا تھا تو آخری با ر ہوائی اڈے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔

چھوٹے بھا ئی کی وسا طت سے جو متحدہ عرب اما رات دوبئی میں ھوتے ہیں، امارات کا ویزہ لگا۔ پا کستان سے بددلی کا یہ عالم تھا کہ جب میں اسلام آباد ہوائی اڈے پرجہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تو آخری با ر ہوائی اڈے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔

جہاز میں تقریباً سب ہی پاکستانی تھے جن کے چہروں پرغمزدگی اور افسردگی کے اَثرات نمایاں تھے۔ کسی کوبیوی بچوں، توکسی کو ماں باپ سےدوری کاغم، عزیزو اقارب سےدور رہنے کا غم تو کسی کونہ جانےکئی سالوں تک ملک سےہزاروں کلومیٹردوررہنےکاغم، وغیرہ۔ جہازمیں مجھےمحسوسں ہوا کہ مسافروں میں میرے علاوہ کوئی بھی خوش نظرنہیں آرہا۔ سب لوگ گہری سوچ میں مگن تھے جسے محسوس کرنے سے خود میں فوری طور پر ناآشنا تھا۔

ایک تیسرے درجے کے ملک سے نکل کر امیر اور تیل کی دولت سے مالامال ملک میں جانے کا تصورلئے ہوئے دل ہی دل میں جھوم رہا تھا۔ میری بےچینی بدستور بڑھتی جا رہی تھی کہ کب اپنے بھائی اور عزیزواقارب سے ملوں گا جنھیں میں نے پانچ سال پہلے، آٹھ سال اور پندرہ سال پہلے دیکھا تھا، کب مجھے نوکری ملےگی، بہترین رہن سہن اور اعلیٰ گا ڑیاں دیکھوں گا جس کی خواہش لئے میں نےاس ریتیلی مٹی پر قدم رکھا تھا۔

پہلا دھچکہ

 پہلا دھچکا اس وقت لگا جب میں نے دوبئی کی سرزمین پر قدم رکھا۔ جہاز سے اترتے ہی ہمیں چیکینگ کے لیےایک طرف لائن میں کھڑا کیا گیا۔ پاکستان سے آئےہوئے تمام مسافروں کی تلاشی شروع ہوئی، ہماری جرابیں تک اتاردی گئیں

مجھے پہلا دھچکا اس وقت لگا جب میں نے دوبئی کی سرزمین پر قدم رکھا۔ جہاز سے اترتے ہی ہمیں چیکینگ کے لیےایک طرف لائن میں کھڑا کیا گیا۔ پاکستان سے آئےہوئے تمام مسافروں کی تلاشی شروع ہوئی، ہماری جرابیں تک اتاردی گئیں لیکن بیرونی ملک کا بھوت سوار ہونے کی وجہ سے عزت نفس مجروح ہونے کا احساس نہ ہوسکا اور دوبئی ایئرپورٹ پر عزیزو رشتہ داروں کا جلوس دیکھ کر میں خوشی سے اپنےہوش و حواس پھر کھو بیھٹا۔

بھائی کی رہا ئش گاہ (دیرہ) پر پہنچا تو ہوش ٹھکانے شروع ہوا۔ دیرے کا حال یہ تھا کہ چھوٹے سے کمرے میں دسں سے بارہ افراد رہ رہے ہیں، ایک چارپائی کے اوپر دوسری چارپائی اور پھر تیسری جیسے مینارِ پاکستان ہو۔ کمرے میں ایئرکنڈیشنر لیکن کھڑکی کوئی نہیں، کمرے کا دروازہ بند کرتے تو دم گھٹنے لگتا یہ حالت دیکھ کر گا ؤں یاد آیا۔ وہ سر سبزباغ، لہلہاتے کھیت اور سب سے بڑھ کر گا ؤں کی ٹھنڈی ہوائیں۔

دوبئی میں کھانے پینے کی چیزیں بہت سستی ہیں لیکن رہا ئش بہت مہنگی ہے۔ ہمارے جو عزیزواقارب وہاں پر کام کرتےہیں وہ یا تو محنت مزدوری کرتے ہیں یا ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ وہ الگ رہا ئش نہیں رکھ سکتے کیونکہ الگ رہنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے عزیزواقارب اور دوستوں سےملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہر دوسرے شخص سے نوکری اور ان کے کام کے بارے میں پوچھتا تو دل خون کے آنسو روتا۔ ہردوسرا شخص یا تو محنت مزدوری کرتا ہے یا ڈرائیور ہے۔ ڈیوٹی بھی ان کی اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے، وہ بھی سخت گرمی میں۔ کوئی ارباب (عرب شیخ) کے گھر میں ملازم ہے۔ ڈیوٹی کے بعد دیرے پر آکر کھانہ بھی خود بنانا پڑتا ہے-

گرمی کا ذکر تو میں بھول گیا۔ متحدہ عرب امارات میں سال میں نو ماہ سخت گرمی پڑتی ہے۔ ایسی گرمی جس میں لوگ بعض اوقات گرمی کی شدت کیوجہ سے مرجاتےہیں۔ چند سیکنڈ گرمی میں کھڑا رہنے سے جسم پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ سے نیچےنہیں آتا۔ دوبئی میں زیادہ ترکام کرنے والے لوگ پاکستانی، بھارتی اور سنہالی ہیں۔ امارات کی ٹرانسپورٹ پر پختونوں کا قبضہ ہے۔ ہر دوسرا ٹیکسی ڈرائیور پختون ہے جو سخت محنت کرتے ہیں اور پاکستان میں اپنے بیوی بچوں کے پیٹ پال رہے ہیں۔

خواتین کیلئے نرم گوشہ

 دوبئی کے شیخ شلوار قمیص پہننےوالوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ابوظہبی کے انٹیلی جنس اور پولیس کے اہل کار بھی شلوار قمیض والوں سے ہتک آمیز رویہ رکھتے ہیں لیکن یہی اہلکار انگریزوں اور وسطی ایشیا سے آئے ہوئے لوگوں بالخصوص خوبصورت خواتین کےلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

دوبئی کے شیخ شلوار قمیض پہنےوالوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ابوظہبی کے انٹیلی جنس اور پولیس کے اہل کار بھی شلوار قمیص والوں سے ہتک آمیز رویہ رکھتے ہیں لیکن یہی اہلکار انگریزوں اور وسطی ایشیا سے آئے ہوئے لوگوں بالخصوص خوبصورت خواتین کےلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس عرب اسلامی ملک میں فحاشی عام ہے، کھلےعام چھکلے چلتے ہیں، نا ئٹ کلب ساری رات کھلے رہتے ہیں۔ ہمارے پختون بھائی بھی کئی ایسی عورتوں کی زلفوں کے اسیر ہوکر رہ گئے ہیں جسکی وجہ سے ان میں ایڈز جیسی خطرناک اور لاعلاج بیماری پھیلتی جارھی ہے۔

ایک این جی او نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں ا نکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے مریض سب سے زیادہ صوبہ سرحدکےجنوبی اضلاع میں ہیں اور امارات میں کام کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق انہی اضلاع سے ہے۔ ایک اسلامی ملک میں پاکستانیوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک دیکھ کر میں نے دل میں ٹھانی کہ اگر دس ھزار درہم کی نوکری کی آفر بھی ملے تو نہیں کروں گا۔ اس سے بہتر ہے کہ اپنے ملک میں بےروزگار رہوں۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا مجھے فوری طور پر ٹکٹ خرید کر دو میں واپس جانا چاہتا ہوں۔ اس نے بہت روکا مگر میں تین مہینے اس طرح دوبئی میں گزار کر سید ھا اپنے ملک پاکستان آگیا۔


نوٹ: ظفر نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد