دس سالوں میں دنیا بھر کے دھکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں پاکستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا لیکن اب سپین کے شہر بارسلونا میں رہتا ہوں جہاں میرا اپنا ایک سائبر کیفے ہے۔ لیکن گجرات سے بارسلونا کا یہ سفر آسان نہ تھا۔ یہ دنیا بھر میں دس طویل سال دھکے کھانے کی کہانی ہے جن کے دوران کئی بار میں موت کے بالکل قریب سے گزرا مگر بچ نکلا۔ میں نے بی ایس سی کیا تھا اور کمپیوٹر میں ڈپلومہ بھی۔ اگست انیس سو بانوے میں میں گجرات سے جرمنی جانے کے لئے نکلا کیونکہ میرے دو بڑے بھائی جرمنی میں رہتے تھے۔ انہوں نے مجھے بہت منع کیا کہ تمہیں یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں، اپنی تعلیم مکمل کرو لیکن میں دیکھا دیکھی چل نکلا کہ کل کو میں بھی ’یورپ کا سٹیزن‘ ہوں گا۔ میرا پروگرام بلغاریہ کے راستے جرمنی نکلنے کا تھا۔ اور میرے پاس بلغاریہ کا چھ مہینے کا ویزہ تھا۔ میں اگست انیس سو بانوے کو صوفیہ پہنچا۔ مجھے یہاں کچھ عرصہ گزر چکا تھا جب مجھے ایک شخص ملا جس کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں۔ اس سے بات ہوئی تو وہ پاکستانی نکلا۔ وہ ایک بلغارین فیملی کے ساتھ قریب کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اس نے پیش کش کی تو میں اس کے ساتھ شفٹ ہوگیا۔ ایک دن وہاں ایک اور پاکستانی آگیا۔ میں کسی کام کے لئے باہر نکلا ہوا تھا تو وہ میرا بیگ اور پاسپورٹ لے کر غائب ہو گیا۔ میں نے اپنے میزبان کے ساتھ بہت لڑائی کی اور کہا کہ تم بھی اس میں ملے ہوئے تھے لیکن اس نے قسمیں کھائیں کہ اسے کچھ پتہ نہیں تھا۔ جب باہر نکل کر میں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ بلغاریہ میں تو پاکستان کا سفارت خانہ ہی نہیں ہے۔ پاسپورٹ بھی نہیں تھا، سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کروں۔ پھر ایک انڈین ایجنٹ کا پتہ چلا جو دو ہزار ڈالر لیکر لوگوں کو آسٹریا سمگل کر تا تھا۔ کسی طرح بھاگ دوڑ کر کے اس کو پیسے ادا کئے اور بس میں سوار ہوگئے۔ بس میں کیا سوار ہوئے، ہمیں بس میں لیٹرین کے پیچھے ایک خفیہ خانے میں چھپا دیا گیا جہاں بمشکل آٹھ لوگ اکڑوں بیٹھتے تھے۔ ایجنٹ نے بتایا کہ صوفیہ سے آسٹریا تک چوبیس گھنٹے کا سفر ہے، ہم اس دوران اندر ہی چھپے رہیں گے کھائے پئے بغیر لیکن جو بات اس نے ہمیں نہیں بتائی تھی وہ یہ تھی کہ بلغاریہ کی سرحد پر اس سے قبل دو بسیں پکڑی جا چکی تھیں۔ چوبیس گھنٹے تو کیا گزرتے، ایک ہی گھنٹہ بعد یوگوسلاویا کی سرحد پر بس کی تلاشی ہوئی اور ہمیں برآمد کر لیا گیا۔ ہم باہر نکلے تو بس کو فوج نے گھیر رکھا تھا۔ یہ بلقان کی جنگ کے دن تھے، سربوں نے بوسنیا کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ تمام رستے بند تھے اور کوئی سرحد پار کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا تھا۔ ہمیں ایجنٹ نے سختی سے کسی قسم کے بھی شناختی کاغذات اپنے ساتھ لے جانے سےمنع کیا تھا۔ میرے ساتھ کے لوگوں میں تین بھارتی باشندے اور تین پاکستانی تھے۔ یہ پاکستانی اپنے پاسپورٹ ساتھ لے کر آئے ہوئے تھے جو تلاشی میں برآمد ہو گئے۔ ہمیں پکڑنے والے سرب فوجیوں نے پاسپورٹ دیکھتے ہی ہمیں مجاہد قرار دے دیا اور جنگل میں لے جا کر ہمیں گولی مارنے کا حکم دے دیا۔ ساری رات انہوں نے ہمیں جنگل میں کھڑا رکھا اور تشدد کرتے رہے۔ یہ نومبر انیس سو بانوے کے دن تھے، شدید سردی تھی اور زمین برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ ہمیں یقین تھا کہ یہ ہماری آخری رات ہے۔ ہماری قسمت کہ ان کا ایک ایسا افسر ہمیں مل گیا جسے ہماری طرح ٹوٹی پھوٹی انگریزی آتی تھی۔ ہم نے اس سے بات کی کہ بھائی ہماری بات تو سن لو۔ ہماری کہانی سننے کے بعد وہ ہمیں لے گئے، تین دن تک جیل میں رکھا اور پھر عدالت میں پیش کیا۔ ہمارے بیانات سننے کے بعد جج نے ہمیں واپس بلغاریہ بھیجنے کا حکم دیا اور بس کے ڈرائیوروں کو جیل کی سزا سنا دی۔ ہمیں سرحدی فوج کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے پھر ہمیں دو دن سرحد پر برف میں کھڑا کئے رکھا۔ نہ ہمیں کچھ کھانے کو دیا گیا نہ پینے کو۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں بلغارین گورنمنٹ کے حوالے کر دیا گیا۔ بلغاریہ میں ہمیں جرمانے کی سزا سنائی گئی اور حکم دیا کہ ہم دو ہفتے کے اندر اندر ملک چھوڑ دیں۔ ہم نے ایجنٹ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ غائب ہوچکا تھا۔ اس دوران کچھ لوگ دوست بن چکے تھے جو میری طرح یہاں سے آگے یورپ جانےکے چکر میں تھے۔ ان میں سے تقریباً روز کوئی نہ کوئی رات کو چھپ کر یونان سے لگنے والی سرحد پار کرنے کی کوشش کرتا اور پکڑا جاتا۔ پھر انہیں چھوڑ دیا جاتا اور یوں چھ مہینے اسی طرح گزر گئے۔ اس کے بعد یہاں سے میں ایروفلوٹ کی فلائیٹ پر صوفیہ سے ماسکو پہنچا، جہاں پاکستانی سفارت خانے سے ایک خط بنوا کر کراچی آکر اترا اور آتے ہی پھر دھر لیا گیا۔ میں نے انہیں خط بھی دکھایا لیکن اپنے پاکستانی بھائی بھی سربوں سے کم نہ تھے، انہوں نے مجھے حوالات میں بند کر دیا۔ نوٹ:اس آپ بیتی کے راقم پاکستان کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھتے ہیں اور اب وہیں قیام پذیر ہیں۔ ان کی اپنی خواہش پر ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں یا اس سے کبھی گزرے ہیں تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||