BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2003, 19:13 GMT 00:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بقیہ حصہ: دس سال میں دنیا بھر کے دھکے
دنیا بھر کے دھکے
دنیا بھر کے دھکے

اتفاق سے میرے پاس ایک دوست کا ٹیلی فون نمبر تھا جو بلغاریہ میں میرا دوست بنا مگر واپس کراچی لوٹ کر آچکا تھا۔ میں نے اسے فون کیا تو اس نے آکر ان سے بات چیت کی اور پچیس ہزار دے کر جان چھڑائی۔ واپس آکر گجرات میں زندگی عجیب لگتی تھی۔ نوکری کی کوشش کی تو ملی نہیں، شرمندگی علیحدہ۔ میں نے ادھر ادھر سے پیسے جمع کیے اور ایک ایجنٹ نے تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے لے کر کینیڈا کا چھ ماہ کا وزٹ ویزہ لگوا دیا۔

چھ مہینے کے اندر اندر میں نے کشمیر سے تعلق کی بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروا دی۔ کیس صحیح نہیں تھا اور چھ مہینے گزر چکے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ میری درخواست مسترد کرتے میں ایک کینیڈین عورت کی مدد سے گاڑی میں بیٹھ ایک ایسی جگہ سے سرحد پار کرکے امریکہ میں داخل ہو گیا جہاں پکڑے جانے کا کوئی خدشہ نہیں تھا۔ امریکہ آکر میں غائب ہوگیا۔

امریکہ میں میں پانچ سال نیو جرسی میں رہا۔ یہاں پیپلز پارٹی سے تعلق کی بنیاد پر سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی جس کی درخواست ایک سال بعد ہی مسترد کر دی گئی۔ یہاں کام بہت مشکل سے ملتا تھا اور میرے حالات خاصے خراب تھے۔ میں نے تنگ آکر شادی کا چکر چلانے کی کوشش کی۔ جس لڑکی سے بات کی اس نے کہا کہ دس ہزار ڈالر پیشگی ہوں گے اور دس ہزار بعد میں۔ میں مان گیا اور کاغذی طور پر شادی ہوگئی اور درخواست جمع کروا دی۔ وہ پہلے ٹیسٹ وغیرہ لیتے ہیں جیسے کہ خون کا اور پھر شادی کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں۔ بعد میں دوبارہ انٹرویو لیتے ہیں اور پھر عدالت میں لڑکی کے ساتھ پیش ہونا ہوتا ہے۔

ہم علیحدہ علیحدہ رہتے تھے، پتہ نہیں کیا ہوا کہ مسئلہ خراب ہوگیا۔ مجھے نہیں معلوم لیکن میرا خیال ہے کہ لڑکی کے گھر والوں نے شاید اسے ڈرا دیا۔ تو جولائی انیس سو اٹھانوے کو جس دن میں عدالت پہنچا تو لڑکی پیش نہیں ہوئی۔ عدالت نے دو ہفتے کا وقت دیا۔ میں نے اسے ڈھونڈھا، بات ہوئی تو وہ کہنے لگی ’اچھا، میں سوچتی ہوں۔‘ لیکن وہ جہاں نوکری کرتی تھی وہ بھی اس نے چھوڑ دی اور غائب ہو گئی۔ جب میں عدالت پہنچا تو کیس مسترد ہوگیا۔

میں ایک دن کام سے گھر واپس آرہا تھا جب عدالتی کاروائی پر پولیس گھر پہنچی ہوئی تھی۔ انہوں نے گرفتار کرکے نیو جرسی جیل میں ایک ہفتہ رکھنے کے بعد پاکستان ڈیپورٹ کر دیا۔ کراچی جب اترا تو صرف پاسپورٹ تھا، کپڑے تھے اور گلے میں ایک سونے کی چین تھی۔ رقم سب جا چکی تھی۔ جناح ٹرمینل پر انہوں نے رات بھر رکھا۔ میں بھی کچھ سخت جان ہو چکا تھا، انہوں نے سونے کی چین مانگی، میں نے کہا کہ میرے پاس ایک پیسہ نہیں ہے اور مجھے آگے گجرات تک جانا ہے۔ باہر نکل کر وہ چین اونے پونے داموں بیچی اور بڑی مشکل سے ٹرین کی ٹکٹ خرید کرکے لاہور اور پھر وہاں سے گھر گجرات پہنچا۔

پاکستان بہت مایوس ہوکر پہنچا تھا۔ بہت سے قیمتی سال در بدر بھٹکتے ہوئے نکل گئے تھے۔ رقم بھی کہیں مستقل رہنے کا حق حاصل کرنے کے چکر میں خرچ ہو چکی تھی۔ لوگوں کو دکھانے کیلئے سوائے شرمندگی کے کچھ نہ تھا اور اپنے وطن میں ہر لمحے یہی لگتا کہ یہاں تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔

آج تک سمجھ میں نہیں آتا کیا دھن سمائی ہوئی تھی کہ اگست انیس سو ننانوے میں میں ایک بار پھر نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے پیسے خرچ کرکے بینکاک کے ذریعے قبرص کا ویزا حاصل کیا اور قبرص میں نکوسیا سے فرانس کا ویزہ لیا۔ قبرس میں وہ مجھے ’اینٹری‘ (داخلہ) نہیں دے رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ کیوں آئے ہو۔ میں نے دھکے کھائے ہوئے تھے تو اعتماد آچکا تھا۔ میں نے کہا کہ سیر کرنے آیا ہوں۔ بالآخر ایک طویل انٹرویو کے بعد انہوں نے داخل ہونے دیا۔ دو ہفتے قبرص رہا اور وہاں سے پیرس پہنچ گیا۔ وہاں ایک دوست کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔

دو ہزار ایک میں بارسلونا کے کلیساؤں میں پاکستانی، بھارتی ، بنگلہ دیشی اور کچھ دوسرے غیر قانونی تارکینِ وطن نے بھوک ہڑتال شروع کردی تھی کہ انہیں قانونی طور پر کام کرنے کا حق دیا جائے۔ اس کے دباؤ میں آکر حکومت نے ان لوگوں کیلئے امیگریشن کھول دی جو کئ سالوں سے غیرقانونی طور پر وہاں تھے۔ ہم نے یہ سنا تو ہم بھی کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچ گئے اور اندراج کروادیا کہ ہم بھی یہیں رہ رہے ہیں۔

یہاں ساری ساری رات لائن میں لگے رہتے۔ ہزاروں لوگ تھے۔ بالآخر یہاں کی قانونی شہریت مل گئی اور سفر کا اختتام ہوا۔ اب بھی کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ’یارا، کیسی کیسی دنیا دیکھی اس راستے میں۔‘


نوٹ:اس آپ بیتی کے راقم پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور اب بارسلونا میں قیام پذیر ہیں۔ ان کی اپنی خواہش پر ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں یا اس سے کبھی گزرے ہیں تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد