BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 March, 2004, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھوٹ بولنے کا بھی ایک لطف۔۔

محمد اسد عمر
محمد اسد عمر
انٹرنیٹ تو زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اب تو اسکول اور کالج کی سطح پر بھی اس کا استعمال لازم ہو گیا ہے۔ہمارے اساتذہ بھی اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ ہم انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے متعلقہ مضامین اور دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں سرچ (تلاش) کریں اور نئی آنے والی تبدیلیوں سے اپنے آپ کو آگاہ رکھیں۔

میری عمر سولہ سال ہے۔ میں نے آج سے تقریباً تین سال پہلے انٹرنیٹ کا استعمال اپنے بڑے کزن کے کہنے پر شروع کیا تھا۔ میں اُس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ تب اور اب کی انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت تبدیلی آ گئی ہے۔ اب انٹرنیٹ پر مہیا سائیٹز پہلے سے زیادہ رنگین اور معلومات سے بھر پور ہوتی ہیں۔

میں روزانہ کم از کم ڈیڑھ سے دو گھنٹے انٹرنیٹ پر صرف کرتا ہوں۔ میری پسندیدہ ویب سائیٹز میں گاڑیاں بنانے والی ویب سائیٹز ہیں۔انٹرنیٹ کی مدد سے مجھے یہ جاننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی کہ کون سا نیا موبائیل سیٹ مارکیٹ میں آنے والا ہے اور اس کی قیمت تقریباً کیا ہوگی۔

 میں نے چند ایک کے سوا سبھی دوستوں کو جن کے ساتھ میں تقریباً روزانہ چیٹنگ کرتا ہوں، اپنے بارے میں صیحح معلومات نہیں دی ہیں اور جب میں نے اُنہیں غلط معلومات دی ہیں تو ظاہری سی بات ہے کہ وہ سب لوگ بھی میرے ساتھ کیسے مخلص ہو سکتےہیں۔
محمد اسد عمر

اس کے علاوہ جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہوں تو ان سے گپ شپ کے دوران اپنے آپ کو معلومات کے حوالے سے بہت بہتر محسوس کر رہا ہوتا ہوں، اور میرے خیال میں اس کی اہم وجہ انٹرنیٹ کا استعمال ہی ہے۔ اس کے علاوہ میں ٹویوٹا اور ہونڈا کمپنی کی ویب سائیٹز پر نئی آنے والی گاڑیوں کے اشتہارات بھی باقاعدگی سے دیکھتا رہتا ہوں اور نئی نئی گاڑیوں کی تصاویر اپنے کمپیوٹر کی اسکرین پر سیو کرتا رہتا ہوں۔

ان تمام باتوں کے علاوہ میرا انٹرنیٹ پر جس چیز پر سب سے زیادہ وقت گزرتا ہے اور جس میں مجھے سب سے زیادہ مزہ آتا ہے وہ ہے چیٹنگ، میرے اکاؤنٹ میں پچاس سے زیادہ دوست ہیں اور ان میں سے صرف دو ہی ایسے ہیں جن کو میں پہلے سے جانتا ہوں۔ ان کے علاوہ باقی تمام کے تمام لوگوں سےمیری دوستی انٹرنیٹ کی ہی بدولت ہوئی ہے۔

شروع شروع میں تو چیٹنگ کا بہت مزہ آتا تھا اور باقی لوگوں سے جھوٹ بولنے کا بھی ایک اپنا سا لطف تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہ سب کچھ کم ہوتا جا رہا ہے اور میں اس حقیقت کو سمجھتا جا رہا ہوں کہ کسی کو جانے بغیر انٹرنیٹ کے ذریعے گپ شپ ایک دھوکہ سا لگتا ہے۔ کیونکہ میں نے چند ایک کے سوا سبھی دوستوں کو جن کے ساتھ میں تقریباً روزانہ چیٹنگ کرتا ہوں، اپنے بارے میں صیحح معلومات نہیں دی ہیں اور جب میں نے اُنہیں غلط معلومات دی ہیں تو ظاہری سی بات ہے کہ وہ سب لوگ بھی میرے ساتھ کیسے مخلص ہو سکتےہیں۔

کبھی کبھی تو مجھے ایسا احساس ہوتا ہے کہ شاید مجھے کرنے کے لئے اور کچھ نہیں اور شاید اس لئے میں اپنا وقت انٹرنیٹ پر ضائع کرتا رہتا ہوں، لیکن پھر محسوس ہوتا ہے کہ اس کے استعمال سے کچھ نہ کچھ تو سیکھ رہا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ کہ انٹرنیٹ کا جو مصرف ہونا چاہئے وہ نہیں ہو رہا، اور تعلیم اور معلومات کے حصول برعکس اس کا استعمال صرف تفریح کی حد تک رہ گیا اور وہ بھی صحت مند تفریح نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


نوٹ: محمد اسد عمر نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔ آپ اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ ہم ضرور شائع کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد