کتابی علم اور عملی زندگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امرتسر سے میٹرک اور انٹرمیڈیئٹ تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرا مزید تعلیم حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی عام سا کورس کر کے اپنے والد کے بزنس میں ان کا ہاتھ بٹاؤں۔ تاہم میں نے سوچا کہ چونکہ ہمارا ایکسپورٹ کا بزنس ہے اس لئے مجھے بیرون ملک جا کر مزید تعلیم حاصل کرنی چاہئے کیونکہ باہر تعلیم حاصل کرنے سے میری ذہنی وسعت میں اضافہ ہو گا جو بالآخر کاروبار کے فروغ میں مددگار ہو گا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اب میں اپنے والد کے بزنس میں ہاتھ بٹا رہا ہوں۔ اس دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ فرض کر لیجئے کہ اگر اس کاروبار میں تین لوگ پارٹنر ہیں اور وہ کسی معاملے پر مجھ سے اگر کوئی صلاح مانگتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں نے بیرونِ ملک سے تعلیم حاصل کی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ کہ ان لوگوں کو یہ احساس ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے اور مختلف طرح کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے سے میری کشادہ نظری اور ذہنی وسعت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس بنا پر میں حال ہی میں لندن کے سکول آف فنانس اینڈ مینیجمنٹ سے، جو آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی سے منسلک ہے، انٹرنیشنل بزنس ایڈمنسٹریشن کے موضوع پر بی اے آنرز کی ڈگری مکمل کر کے امرتسر واپس لوٹا ہوں۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ بھارت کے تعلیمی نظام میں زیادہ زور کتابی مطالعے اور تھیوری پر دیا جاتا ہے جبکہ بیرونی ممالک میں تعلیم کی عملی شکل اور پریکٹیکلز کو بھی متوازی اہمیت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں بی کام کورس کے دوران ایک یا دو عملی یا پریکٹیکل اسائنمنٹ کرائی جاتی ہیں جبکہ لندن میں دو برس تک تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں نے چوبیس پریکٹیکل اسائنمنٹ کیں جس سے طالبعلم کے اعتماد میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ لندن آنے کے بعد ابتدا میں کسی حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ آپ ایک اجنبی جگہ پر بالکل تنہا ہوتے ہیں لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔ البتہ ان طلباء کو زیادہ دشواری کا سامنا ہوتاہے جنہیں اقتصادی مسائل کا سامنا ہو کیونکہ انہیں پڑھنا بھی پڑتا ہے اور اپنے اخراجات کے لئے کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ لندن میں تعلیمی تجربے سے مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کا طریق تعلیم بھارت کے مقابلے میں قدرے سہل ہے۔ میری رائے میں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اتنی ہی تعلیم دی جاتی ہے جتنی کہ عملی زندگی میں اس کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں طلباء کو موٹی موٹی کتابیں تھما دی جاتی ہیں اور جن کا عملی زندگی میں کوئی خاص فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ بیرون ملک تعلیم کا دوسرا اور اہم فائدہ یہ ہے کہ یہاں مختلف رنگ و نسل کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، آپ ایک کثیرالثقافتی معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی عوام پاکستانیوں کے بارے میں کچھ اور ہی سوچتے ہیں لیکن جب میں لندن آ کر پاکستانی باشندوں سے ملا، ان سے بات چیت کی اور ان کے ساتھ رہا بھی تو پتہ چلا کہ وہ تو بالکل ہماری طرح کے لوگ ہیں۔ ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ برطانیہ کے تعلیمی نظام میں خاصی لچک ہے جس کی بنا پر کوئی بھی طالبعلم اپنی تعلیم میں وقفہ بھی ڈال سکتا ہے جو کہ بھارت میں رہتے ہوئے قطعاً ممکن نہیں ہے۔ لندن میں قیام کے دوران میں نے تمام تر توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھی اور دو برس کے دوران صرف ایک ہی دن کام کیا جو کہ خاصی معمولی نوعیت کا تھا۔ لیکن اس تجربے نے مجھ پر دور رس اثرات مرتب کئے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں کام کی نوعیت چاہے کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو انسان کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا جاتا جبکہ بھارت میں اس کے بالکل برعکس ہے اور لوگ اپنے سے کمتر کام کرنے والے لوگوں کو ڈانٹ ڈپٹ بھی لیتے ہیں۔ لندن میں رہ کر میں نے یہ بات بڑی اچھی طرح سیکھ لی ہے کہ ہر انسان کی عزت برابر ہوتی ہے اور معاشی یا نوکری کی نوعیت پر کسی کی عزت کم یا زیادہ نہیں ہو جاتی۔ لندن میں حصول تعلیم کے دوران میں نے یہ بھی دیکھا کہ اساتذہ کا طلباء سے رویہ بہت دوستانہ ہوتا ہے اور وہ تعاون بھی زیادہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں کسی یونیورسٹی کے فنکشن کے دوران طلباء اپنے پرنسپل کے ساتھ بیئر بھی پیتے ہیں اور کسی حد تک بے تکلفی سے بات چیت بھی کر لیتے ہیں لیکن بھارت میں اس بات کا تصور کم ہے۔ میرے خیال میں ایشیائی برادریوں میں یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ جب یہاں کے لوگ کسی بڑے عہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو ان میں انا کا مسئلہ خاصا بڑھ جاتا ہے۔ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا کے لئے میں یہ کہا چاہتا ہوں کہ وہ جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ برٹش ہائی کمیشن سے یونیوسٹیوں کی فہرست حاصل کریں اور ہر طرح کی تسلی کر لینے کے بعد ہی کسی جگہ داخلہ لیں۔ کیونکہ برطانیہ میں بھی بعض ایسے ادارے ہیں جنہوں نے تعلیم کو کاروبار بنا رکھا ہے اس لئے برطانیہ آنے سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لینی چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||