’کیا زندگی تھی بنا انٹرنیٹ کے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں انٹرنل کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرتی ہوں اور کراچی یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس کے مضمون میں ایم اے کر رہی ہوں۔ لیکن شاید ان چند سالوں میں میری زندگی میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی کمپیوٹر کا استعمال ہے۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے تک میرے پاس اپنا کوئی کمپیوٹر نہیں تھا اور میں نیٹ کیفے میں جاکر کچھ وقت گزار لیتی تھی لیکن اب میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتی اور یقین نہیں آتا کہ میں نے اتنی زندگی کیسے اس کے بغیر گزار لی۔ میں صبح آٹھ بجے اٹھتی ہوں اور تازہ دم ہونے اور ناشتہ کرنے کے بعد دفتر روانہ ہوجاتی ہوں۔ دفتر میں میں باقی لوگوں سے نسبتاً پہلے پہنچ جاتی ہوں اور آتے ہی سب سے پہلے ای میل ڈاؤن لوڈ کرتی ہوں۔ فیکس اور فون پر پیغامات وغیرہ چیک کرتی ہوں۔ اہم اور غیر اہم پیغامات کو علیحدہ کرنے کے بعد انہیں متعلقہ لوگوں تک پہنچاتی ہوں۔ دن بھر آنے والے ایجنسی کلائینٹس اور مہمانوں کا استقبال کرتی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کام زیادہ ہوتا ہے اور کبھی کم۔ لیکن شام کو گھر آکر ایک کپ کافی یا چائے کے بعد میں تازہ دم ہوجاتی ہوں۔ کچھ دیر ٹی وی دیکھتی ہوں، کھانا کھاتی ہوں اور اس کے بعد میں کمپیوٹر پر بیٹھ جاتی ہوں۔ کمپیوٹر پر میں تھوڑی بہت چیٹنگ کرتی ہوں، دوستوں کو ای میل کرتی ہوں اور ان ویب سائٹس پر جاتی ہوں جن کا لوگوں سے ذکر ہوا ہو۔ اپنا کراچی ڈاٹ کام اور کچھ بالی وڈ کی سائٹس چیک کرتی ہوں۔ پہلے میں چیٹ رومز میں جاتی تھی لیکن اب نہیں جاتی۔ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ ایک دفعہ میں ایک چیٹ روم میں تھی تو ایک لڑکے نے مجھ سے بات چیت شروع کی اور فوراً ہی اپنا ای میل ایڈریس، میل ایڈریس تصویر اور پتہ نہیں کیا کچھ بھیج ڈالا۔ اسی طرح ایک دفعہ ایک کینیڈین خاتون نے مجھ سے بات چیت شروع کی تو کہنے لگی کہ میری اس سے پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ کچھ دیر بعد وہ کہیں چلی گئی اور جب دس منٹ بعد واپس آئی تو کہنے لگی کہ تم کون ہو۔ مجھے لگا کہ شاید اس کو یاداشت کا مسئلہ ہے۔ لیکن اس طرح کے واقعات سے ثابت ہوا کہ چیٹ رومز میں وقت ضائع ہوتا ہے۔ تاہم نیٹ کی وجہ سے میرا ایک ایسی پرانی دوست باقاعدہ رابطہ ممکن ہوا جس سے میں رابطے میں نہیں رہ سکی تھی۔ میرا تو خیال ہے کہ انٹرنیٹ بڑی اچھی چیز ہے۔ باقی انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس کا استعمال کس لئے کرتا ہے۔ اچھے یا برے مقاصد کے لئے۔ تاہم لڑکیوں سے میں یہی کہوں گی کہ ہمت نہ ہاریں اور آگے بڑھیں۔ ہم مردوں سے آگے نکل سکتی ہیں۔ مرد باکل نہیں پسند کرتے کہ عورتیں آگے بڑھیں۔ جب میں نے نئی نئی جاب شروع کی تھی تو ہر قدم پر مجھے یہ احساس ہوتا تھا۔ مردوں کے لئے یہ ناقابلِ تصور بات ہے کہ کوئی عورت ان کے اوپر باس بن جائے۔ اگر لڑکیاں ویل ڈریس ہو کر نکلیں تو گھر سے دفتر یا جہاں بھی آپ نے جانا ہو وہاں تک ہر قدم پر ہزاروں نظریں مسلسل ان کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ جب میں نے جاب شروع کی تو گھر سے دفتر کے راستے میں روز ایک صاحب اسی طرح میرے پیچھے پڑ گئے۔ میں بس سے سفر کرتی تھی لیکن ان کے پاس گاڑی تھی۔ ان کی عمر کہیں تیس کے پیٹے میں تھی اور وہ کسی طرح باز نہ آتے تھے۔ اکثر گاڑی کا دروازہ کھول کر کہتے تھے کہ میری بات سنیں۔ میں نے پہلے تو انہیں ایک آدھ بار نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب ان کی کھوپڑی میں نہیں آیا تو میں نے انہیں خوب جھاڑ پلائی۔ اس کے بعد وہ ایسے دم دبا کر بھاگے کہ پھر کبھی دکھائی نہیں دیئے۔ اسی لئے میں یہ کہتی ہوں کہ مرد نرمی سے کبھی نہیں سمجھتے اور خاصے بزدل ہوتے ہیں۔ اس لئے لڑکیوں کو ہمت نہیں ہارنی چاہئے اور خود میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسی سے ہم آگے بڑھ سکتی ہیں۔ نوٹ: اگر آپ بھی اپنی ڈائری ہمیں لکھنا چاہیں تو کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||