ناسا ڈائری: روور کی آنکھ سے مریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج ناسا پہنچتے ہیں ہم نے مریخ سے آئی ہوئی تصاویر کا تجزیہ کرنا شروع کردیا۔ یہ تو میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ جب ساری تصویریں چن لی جائیں گی تو ہم ایک فلم بنائیں گے تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ روور کی آنکھ سے مریخ کیسا دکھائی دیتا ہے۔ آج ہمارا کام تھا ان تصویروں کا تکنیکی رقبہ معلوم کرنا۔ کسی بھی تصویر میں ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک کی دوری کی پِکسل میں نشاندہی کی جاتی ہے۔ ہمارا کام تھا کہ تصویروں کے کسی بھی حصے کو چن کر پکسل میں اس کا رقبہ بتانا۔ یہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ یہ جانا جاسکے کہ فوٹو کیمرہ جو ویلو بھیج رہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ہمیں سائنسدان جیف لینڈِف نے فضائی گہرائی کے بارے میں بتایا۔ بعد میں مختلف سائنسدانوں کی ایک میٹِنگ ہوئی جو کافی لمبی چلی۔ لیکن جو منصوبہ تیار کیا گیا وہ مریخ پر موجود روور تک نہیں پہنچ سکا۔ میٹِنگ کے سربراہ نے مشورہ طلب کیا کہ مریخ پر موجود کھائی میں کس جگہ اگلا تجربہ کیا جائے۔ مختلف سائنسدانوں نے کئی مشورے دیے۔ ایک مشورہ یہ بھی تھا کہ اگلا تجربہ مریخ پر موجود چٹانوں پر کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||