ناسا سے بھارتی طالبعلم کی ڈائری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان سے سائنس کے دو طالب علموں کو امریکی خلائی ادارے ناسا میں مریخ مِشن کے مطالعے کے لئے چنا گیا ہے۔ ان میں سے ایک نئی دہلی کے ساتوِک اگروال ہیں۔ بی بی سی ہندی سروِس کے لئے ساتوِک اگروال نے ناسا سے اپنی ڈائری لکھنی شروع کی ہے۔ یاد رہے کہ ان دنوں دو امریکی خلائی گاڑی یعنی روور مریخ پر ہیں اور وہاں زندگی کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ساتوِک اگروال کے پہلے دن کی ڈائری: ’سب سے پہلے ہمیں جیٹ پروپیلشن لیبارٹری لے جایا گیا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں مریخ کو بھیجے گئے روور بنائے گئے تھے۔ پہلے سے موجود طلباء نے ہمیں دکھایا کہ روور کا ٹیسٹ کیسے ہوا تھا۔ ہمارا پورا دن سائنسدانوں کی الگ الگ ٹیموں سے ملاقاتوں میں گزرا۔ ہم نے دیکھا کہ سائنسدان کس طرح مریخ سیارے سے ایک دن پہلے آنیوالے انفارمیشن کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس پر کیسے بحث کرتے ہیں۔ پھر اسی دن کی تازہ اطلاعات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کئی ملاقاتوں کے درمیان بچے ہوئے وقت میں ہمیں لیبارٹری کے کچھ سائنسدانوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ پہلے دن مجھے یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ روور کے سولر پینل پر کس طرح دھول جم جاتی ہے اور اسے کس طرح اس کے کام کرنے کی طاقت کمزور پڑجاتی ہے۔ آخر میں ہمیں کہا گیا کہ ہم ایک رپورٹ لکھیں کہ ہم نے دن بھر کیا دیکھا اور کیا سمجھا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||