آپ کے سوالات، ماہرین کے جواب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہفتہ وار پروگرام دریافت گزشتہ چند ماہ سے اب ایک نئے انداز میں جہاں نما کی بجائے اتوار کو سیربین میں نشر ہو رہا ہے۔ دریافت میں ہم نے اب طب، سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق آپ کے سوالات آپ کی آواز میں اور ان کے جوابات شامل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ آپ کے سوالات خود آپ کی آواز میں اور پھر ماہرین کے جواب اب دریافت کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اگر آپ بھی دریافت میں شامل ہونا چاہیں تو اپنے سوالات فون نمبر کے ساتھ ہمیں اس پتہ پر لکھ بھیجیں۔ urdu@bbc.co.uk اس ہفتے کے سوالات اور ان کے جواب پہلے سوال کے ساتھ پاکستان کے صوبہ سرحد سے گلدار وزیر خان: سوال: زلزلہ کی صورت میں زمین پر موجود عمارتیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اپنے مدار پر سورج کے گرد ہر لمحہ گردش کرنے کے باوجود زمین پر موجود عمارتیں متاثر نہیں ہوتیں؟ جواب: ڈاکٹر شاہد قریشی، خلائی سائنس کے ماہر، پاکستان یقیناً جناب گلدار وزیر خان کا سوال انتہائی دلچسپ ہے۔ در اصل ہوتا یہ ہے کہ نظام شمسی میں ہر سیارہ کشش ثقل کے تحت ایک دوسرے کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔ اس کشش کا ہی اثر ہے جس کی وجہ سے مختلف سیاروں کے درمیان توازن برقرار رہتا ہے اور اپنے مدار اور سورج کے گرد گردش کے باوجود زمین پر موجور مکانات متاثر نہیں ہوتے۔ جہاں تک زلزلے کا تعلق ہے تو وہ پورے کرہ ارض کی بجائے زمین کے کسی خاص حصے پر آتا ہے۔ اس سے زمین کا ایک بہت ہی محدود حصہ متاثر ہوتا ہے اور اس کی وجہ زمین کے اندر موجود لاوا اور پلیٹز کا جنبش میں آنا ہے۔ لہذا ان پلیٹز میں ذرا سی بھی حرکت اس علاقے کے اوپری سطح اور وہاں موجود مکانات کو متاثر کرتی ہے ۔ دوسرے سوال کے ساتھ صوبہ سرحد سے ہی جمعہ خان: سوال: زمین دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گردش پذیر ہے۔ لیکن اس پر موجود پانی اس سے گرتا کیوں نہیں ہے؟ ڈاکٹر شاہد قریشی: زمین پر موجود پانی گرتا ہے اور ضرور گرتا ہے۔ چونکہ ہم زمین پر ہوتے ہیں، ہمیں دوسرے سیاروں کی سمت اوپر معلوم ہوتی ہیں۔ یہاں بھی میں کشش ثقل کا ذکر کروں گا۔ اس کشش کی وجہ سے سورج اور چاند دونوں زمین کو اپنی جانب کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ جب زمین سورج اور چاند کے وسط میں ہوتا ہے، سورج اور چاند دونوں جانب سے زمین کو اپنی جانب کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ ان قوتوں کےمتحرک ہونے کی صورت میںسمندر میں جوار بھاٹا کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ جوار بھاٹا کا ہونا ہی زمین سے پانی کا گرنا ہے۔ تیسرے سوال کے ساتھ ہندوستانی ریاست بہار سے حافظ نور عالم سوال: موسم سرما کی آمد کے ساتھ میرے جسم پر پھونسیاں نکل آتی ہے۔ ڈیڑھ ، دو ماہ کے بعد یہ خود بخود غائب ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ کیا خون کی خرابی ہے یا پھر یہ ایک جلدی مرض ہے؟ جواب: ڈاکٹر اتل کوچر، جلدی امراض کے ماہر، دہلی اس طرح کی پھنسیاں الرجی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ عموماً آرٹسرس یا چھپاکے کی شکل میں انسانی جلد پر نمودار ہوتی ہیں۔ یہ الرجی کسی بھی چیز سے ہو سکتی ہے۔ یہ کسی خاص موسم سے ہو سکتی ہے، کسی خاص خوراک کے استعمال سے بھی ہو سکتی ہے یا پھر کسی دوا کے استعمال سے بھی آپ الرجی کا شکار ہوسکتے ہیں۔جب تک آپ اس خاص موسم، خوراک یا دوا کے رابطے میں رہتے ہیں، پھنسیاں موجود ہوتی ہیں۔ جیسے ہی آپ اس ماحول سے نکلتے ہیں، یہ خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ خون میں خرابی اس کی وجہ نہیں ہوتی۔ لہذا خون کا ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ نے الرجی کی نشاندہی کر لی تو آپ کو اس کے علاج کا طریقہ بھی معلوم ہو جائے گا۔ نشاندہی کے لئِے نور عالم صاحب آپ کو چاہئے کہ آپ ایک تفصیلی چارٹ تیار کریں کہ ان پھنسیوں میں اضافہ کب ہوتا ہے۔ ایسا تو نہیں ہر مرتبہ یہ کسی خاص موسم کی آمد پر ہوتا ہے یا پھر کوئی مخصوص غذا کے استعمال سے اس میں شدت آتی ہے۔ جیسے ہی آپ نے نشاندہی کر لی، آپ الرجی پیدا کرنے والے عوامل سے خود کو بچائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||