مریخ پر چوہے بھی جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نےکہا ہے کہ مریخ پر ممکنہ انسانی مشن بھیجنے کی تیاریوں کے سلسلے میں پندرہ چوہے خلا میں بھیجے جائیں گے۔ یہ چوہے خلا میں پانچ ہفتے رہیں گے۔ امریکی اور آسٹریلوی خلائی محققین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان چوہوں کو سن دو ہزار چھ میں خلا میں بھیجا جائے گا۔ ان چوہوں کو خلابازوں یعنی ’ایسٹروناٹس‘ کی مناسبت سے ’ماؤسناٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ خلائی پروگراموں کی ابتدا سے ہی جانوروں کو خلا میں بھیجا جاتا رہا ہے تاکہ ان پر تجربات کئے جا سکیں لیکن چوہوں کا یہ مشن خلا میں جانوروں کا سب سے طویل مشن ہو گا۔ یہ پروگرام تین یونیورسٹیوں نے مرتب کیا ہے اور میسےچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پال ووسٹر اس مپوجیکٹ کے سربراہ ہیں۔ پال ووسٹر نے کہا ہے کہ چوہوں کو خلا میں بھیجنے سے ایسے اعداد و شمار حاصل ہوں گے جن سے انسان پر مرتب ہونے والے مریخ کی کشش ثقل کے اثرات کا مطالعہ کیا جا سکے گا۔ اس مطالعہ کی بنا پر یہ منصوبہ بندی کی جا سکے گی کہ مریخ پر اترنے والے سائنسدان سرخ زمین پر کیا کچھ کرنے کی قابل ہوں گے۔ پال ووسٹر نے یہ بھی بتایا ہے کہ چوہوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ہڈیوں کی ایک بیماری ’اوسٹیوپوروسز‘ پر مزید تحقیق ممکن ہو سکے گی۔ اس منصوبے کو امریکی خلائی ادارے ناسا کی مدد بھی حاصل رہے گی البتہ اس منصوبے کا شمار ناسا کی حدود سے باہر پیچیدہ ترین منصوبوں میں ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||