| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریخ، روبوٹ کے پہیّے کھل گئے
ناسا کی طرف سے مریخ سیارے پر بھیجی جانے والی ایک خود کار روبوٹ پوری طرح کھل گیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ چند دن میں وہ سرخ سیارے کے متعلق مزید معلومات اکٹھا کرنا شروع کردے گا۔ ناسا کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ڈیڑھ میٹر کے اس روبوٹ نے مریخ کی سطح پر چھ پہیوں پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم اس بارے میں سائسندانوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس خود کار روبوٹ کے مریخ پر اترنے کے لئے جو بیگ استعمال ہوا تھا کہیں وہی اس کے راستے کی رکاوٹ نہ بن جائے۔ مشن کو کنٹرول کرنے والوں کا منصوبہ اب یہ ہے کہ روبوٹ کو ایک سو بیس درجے کے زاویے پر گھما دیا جائے تاکہ بدھ سے وہ مریخ کی سطح پر اپنا سفر شروع کر سکے۔ اس روبوٹ کے پہیوں کو کھولنا اور پھر اسے سیدھا کرنا امریکی ادارے ناسا کی تازہ ترین کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ اس عمل کے انچارج کرس وورہیس کہتے ہیں روبوٹ کے پہیے کھولنے اور اسے سیدھا کرنے کا عمل خاصا اعصاب شکن تھا اور جونہی یہ عمل کامیابی سے ہمکنار ہوا، مشن کے کنٹرول روم میں تالیاں گونج اٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دشوار اور پیچدہ مرحلہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت روبوٹ بڑے ’آرام‘ سے ہے ’اور یوں سمجھ لیجیئے کہ وہ سو رہا ہے۔‘ مشن کی مینیجر جینیفر ٹراسپر کہتے ہیں کہ روبوٹ کو مریخ پر اترنے میں مدد دینے والے ہوائی تھیلے نے غالباً اس کے اہم شمسی پینل کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ لہذا اب فیصلہ ہوا ہے کہ ایک خاص زاویے پر اس کا رخ موڑ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالت میں بھی روبوٹ سے کافی اہم معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔ اس روبوٹ نے سب سے اہم کام یہ کیا ہے کہ سرخ سیارے کی رنگین تصاویر زمین پر بھیجی ہیں۔ اگلے چند دنوں میں مریخ کا تین سو ساٹھ درجے پر محیط مکمل تصویر بھی زمین پر پہنچنے کا امکان ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||