BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈائری: محنت کے بل بوتے پر۔۔۔۔

صالحہ مرزا
صالحہ مرزا
میں تیرہ برس قبل جب اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان سے لندن آئی اور یہیں پلی بڑھی۔ البتہ اسکول کی ابتدائی چند جماعتیں پاکستان میں ہی پاس کیں۔

اس وقت میں یونیورسٹی آف لندن کے سواس اسکول سے ساؤتھ ایشیئن اسٹڈیز کے شعبے میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں لیکن میرے بیشتر کزنز نے پاکستان میں تعلیم مکمل کی ہے۔

میں گزشتہ تیرہ برسوں میں متعدد بار پاکستان بھی گئی جس دوران میں اپنے کزنز کے ساتھ تعلیمی امور پر گفتگو بھی کرتی۔ میں نے ان لوگوں کی باتوں سے یہ اخذ کیا کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے کچھ فائدے ہیں اور کچھ نقصانات۔

 پاکستان میں جب تک آپ کے کنٹیکٹس نہ ہوں اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن یہاں انسان محض اپنی محنت کے بل بوتے پر ہی بہت آگے بڑھ سکتا ہے۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم و تربیت کے دوران قدرے سختی برتی جاتی ہے جس کے باعث طالبعلم کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور یوں انہیں سیکھنے کا موقع بھی زیادہ ملتا ہے۔

تاہم پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں عموماً مخیر اور بارسوخ افراد کے بچے ہی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ چونکہ میں پاکستان کے اچھے اسکول میں زیر تعلیم تھی تو میرے والدین کو بھاری فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔ لیکن وہ بچے جو اچھے اسکولوں میں نہیں جا سکتے تھے ان کی اور ہماری تربیت اور معیارِ تعلیم میں بہت فرق تھا۔

میرے خیال میں پاکستان اور یہاں کے سسٹم میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ وہاں جب تک آپ کے کنٹیکٹس نہ ہوں اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن یہاں انسان محض اپنی محنت کے بل بوتے پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

 پاکستان میں دوسرے لوگ آپ کے کام میں بہت مداخلت کرتے ہیں اور ہر بات پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے اور وہ کیوں کیا جا رہا ہے۔

مجھے اس بات سے ہرگز اختلاف نہیں کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے ذہین اور محنتی طالبعلم بین الاقوامی سطح پر ترقی حاصل کر سکتے ہیں لیکن فرق صرف یہ کہ پاکستان کے مخیر افراد کے بچوں کو اعلیٰ اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود زیادہ رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جبکہ مغربی سسٹم میں تعلیم حاصل کرنے والا ایک عام طالبعلم محض اپنی محنت کی بنیاد پر کسی بھی ادارے میں تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور بہت آگے جا سکتا ہے۔

میں سواس میں ساؤتھ ایشیئن سوسائٹی کی ایونٹ مینیجر ہوں اور اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر پروگرام منعقد کرتی ہوں۔ ہم نے کچھ عرصہ پہلے ایک فیشن شو بھی منعقد کیا تھا۔ میں یونیورسٹی کے ہوسٹل میں رہتی ہوں اور میرا گھر بھی قریب ہی واقع ہے اور میرے والدین کی رائے میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہوسٹل میں رہنا بھی ضروری ہوتا ہے اور میں اب اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ میرے والدین کی رائے بالکل درست تھی۔

میں یہ تمام باتیں اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے یہ سب کچھ کرنا شاید اس قدر آسان نہ ہوتا۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں دوسرے لوگ آپ کے کام میں بہت مداخلت کرتے ہیں اور ہر بات پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے اور وہ کیوں کیا جا رہا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔۔۔

میں جس شعبے میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں اس کا تعلق جنوبی ایشیا میں شامل ممالک کی تاریخ اور اس خطے کی ثقافت سے ہے۔ مجھے بہت شوق ہے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں جا کر رہوں اور وہاں کام کروں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد