BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 February, 2004, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹ ڈائری: ’پہلے اور اب‘

حرا کی زندگی میں انٹرنیٹ کیا تبدیلی لایا؟
حرا کی زندگی میں انٹرنیٹ کیا تبدیلی لایا؟
میں نے انٹرنیٹ کا استعمال مجبوراً اُس وقت شروع کیا جب ایک روز میری ایک کلاس فیلو نے اپنی تمام دوستوں سے کہا کہ اُس نے ٹیچر سے نوٹس حاصل کر لئے ہیں اور اُس نے ہم سب سے ہمارا ای میل ایڈریس مانگا تاکہ وہ تمام نوٹس ای میل کے ذریعے ہمیں بھیج دے۔ اپنی تمام دوستوں کے درمیان شاید میں واحد لڑکی تھی جس کا اپنا ای میل اکاؤنٹ نہیں تھا۔ ہمارے گھر میں میرے بھائی تو انٹرنیٹ استعمال کرتے تھے لیکن میں نے کبھی بھی اس کا استعمال نہیں کیا تھا اور اس کی شاید وجہ یہ تھی کہ بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کا اسے استعمال کرنا کوئی اچھا کام تصّور نہیں کیا جاتا تھا۔

لیکن اب نہ صِرف میرا اپنا ای میل اکاؤنٹ ہے بلکہ میں دن میں کم از کم ایک گھنٹہ تو ضرور انٹرنیٹ پر گزارتی ہوں۔

میں ہوم اکنامکس کی طالب علم ہوں اور اس سے پہلے میرا زیادہ تر وقت اخبارات اور رسائل سے کپڑوں کے مختلف اور نت نئے ڈیزائن اور گھر کی سجاوٹ کے لئے استعمال ہونے والی اشیاء دیکھنے اور مختلف کھانوں کی تراکیب پڑھنے میں صَرف ہو جاتا تھا، لیکن انٹرنیٹ نے اب یہ کام آسان بنا دیا ہے۔ میری پسندیدہ ویب سائیٹز میں فیشن میگزین کی سائیٹز ہیں جن کی مدد سے مجھے نئے نئے ملبوسات کے ڈیزائن (مشرقی اور مغربی) کے بارے میں پتہ چلتا رہتا ہے اور میں اپنے کپڑے اچھی طرح سے ڈیزائن کر لیتی ہوں۔ ویسے بھی میرے لئے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ تمام میگزین بازار سے خرید سکتی اور میری یہ مشکل انٹرنیٹ نے آسان کر دی ہے۔

نیٹ کے بازار کا اپنا دستور
 انٹرنیٹ پر بھی انفارمیش بکتی ہے کیونکہ اکثر ویب سائیٹز پر بنیادی معلومات تو ہوتی ہیں لیکن ’مزید تفصیلات‘ صِرف اُسی وقت حاصل ہو سکتی ہیں جب ہم اُن کی قیمت ادا کریں گے۔ انٹرنیٹ کے بازار کا ایک اپنا دستور ہے، صِرف یہ سوچ لینا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز بے دام مل جائے گی، غلط تصور ہے۔

مجھے مختلف ممالک کے کھانے پکانے کا بھی بہت شوق ہے اور میں اب مختلف قسم کے کھانوں کی تراکیب انٹرنیٹ سے دیکھتی رہتی ہوں۔ پہلے تو مشکل یہ تھی کہ مجھے انٹرنیٹ کا استعمال نہیں آتا تھا اور اب جب میں نے اس کا استعمال سیکھ لیا ہے تو یوں لگتا ہے کہ انٹرنیٹ پر بھی انفارمیش بکتی ہے کیونکہ اکثر ویب سائیٹز پر بنیادی معلومات تو ہوتی ہیں لیکن ’مزید تفصیلات‘ صِرف اُسی وقت حاصل ہو سکتی ہیں جب ہم اُن کی قیمت ادا کریں گے۔ انٹرنیٹ کے بازار کا ایک اپنا دستور ہے، صِرف یہ سوچ لینا کہ انٹرنیٹ پر ہر چیز بے دام مل جائے گی، غلط تصور ہے۔

تقریباً دو سال پہلے جب میں نے انٹرنیٹ کا استعمال شروع کیا تھا تو اُس وقت بہت سی پاکستانی یونیورسٹیوں اور تعلمیی اداروں کی معلومات نیٹ پر موجود نہیں ہوتی تھی لیکن اب جب میں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتی ہوں تو انٹرنیٹ کی سہولت میرے لئے بہت مدد گار ثابت ہو رہی ہے۔ پہلے عید اور خوشی کے موقعوں پر میرا زیادہ وقت اچھے کارڈز ڈھونڈھنے اور انہیں بھیجنے میں صرف ہو جاتا تھا اور بہت سے ضروری کام رہ جاتے تھے لیکن اب انٹرنیٹ پر اس قدر خوبصورت اور ہر طرح کے کارڈز ہوتے ہیں کہ میں ایک ہی دن میں اپنے اکثر رشتے داروں کو اُن کے کارڈز روانہ کر دیتی ہوں۔ کئی رشتے دار اور کزنز جو ملک سے باہر رہتے ہیں، انہیں فون کرکے روز بات کرنا ناممکن تھا لیکن اب اُن کے ساتھ اکثر اور کبھی کبھی تو روزانہ انٹرنیٹ کے ذریعے بات ہو جاتی ہے۔

میرے خیال میں تو یہ انٹرنیٹ کا ہی زمانہ ہے، جس طرح بجلی، پانی اور ٹیلی فون ہر گھر کی ضرورت ہے اسی طرح انٹرنیٹ بھی اب ایک آسائش نہیں بلکہ ایک بینادی ضرورت ہو گئی ہے۔ مستقبل قریب میں تو یہ گھر کے ایک فرد کی طرح اہم ہو جائے گا۔ کیونکہ ہم اس کی مدد سے اپنے گھر کے بل، ڈاکٹر سے ملنے کا ٹائم اور اسی طرح کے کئی کام گھر بیٹھے نمٹا سکیں گے۔

لیکن دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی سہولت ہو جس کے صرف فائدے ہی فائدے ہوں اور نقصانات کوئی نہ ہوں۔ اگروہ کمپیوٹر جس پر انٹرنیٹ کی سہولت ہو اور جسے بچے استعمال کرتے ہوں، گھر کے کسی اجتماعی کمرے میں رکھا جائے تو شاید بہت سی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ کم عمر بچوں کو یہ سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ کسی چیز کا صیحح مصرف کیا ہے۔


نوٹ: حرا ملک نے اپنی کہانی ہمارے نمائندے محمد اشتیاق کو سنائی۔ آپ بھی اپنی کہانی ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد