کشمیر کہانی: کوئی عورت بیوہ نہ ہو، بچے یتیم نہ ہوں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس سالہ نجمہ بی بی ایک کشمیری عسکریت پسند میر محمد کی بیوہ ہیں۔ میر محمد کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولہ سے تھا۔ وہ کشمیر میں مسلح جدو جہد شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد پاکستان آئے، اور مظفر آباد میں آباد ہو گئے۔ میر محمد تین سال قبل بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مارے گئے اور وہ اسی دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے وہاں گئے تھے۔ نجمہ کے میر محمد سے چار بچے ہیں۔ جن میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، سب سے بڑے بیٹے کی عمر آٹھ سال اور سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر چار سال ہے۔ نجمہ بی بی خود اپنے الفاظ میں: میرا تعلق ضلع مظفر آباد کے علاقے چکار سے ہے۔ میری شادی سن 1993 میں میر محمد سے ہوئی۔ ہم ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ہماری زندگی آرام اور سکون سے گزر رہی تھی اور کوئی پریشانی نہیں تھی۔ میرے شوہر بہت اچھےتھے، وہ بہت خیال رکھتے تھے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ قسمت یہ کھیل کھیلے گی اور میرے شوہر مجھ سے اس طرح جدا ہو جائیں گے۔ میرے شوہر تین سال قبل اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر گئے، ان کو اس عسکری تنظیم نے وہاں بھیجا جس کے ساتھ وہ منسلک تھے۔ کشمیر جانے کے بعد دو سال تک مجھے اپنے شوہر کے بارے میں کوئی علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، وہ زندہ ہیں یا شہید ہو چکے ہیں۔ اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا۔ لیکن ایک سال قبل ہمیں تنظیم کے ذمہ داروں نے یہ بتایا کہ وہ تین سال قبل یہاں سے جاتے ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ یہ خبر سن کر یوں لگا کہ جیسےمیری ساری دنیا ختم ہو گئی ہو۔ دکھ یہ ہے کہ میں ان کا منہ بھی نہ دیکھ سکی، میرے بچے بھی اپنے والد کی محبت اور شفقت سے محروم ہو گئے۔ لیکن مجھے ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ میرے شوہر شہید ہو چکے ہیں۔ کیونکہ میں نے ان کی میت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ کیا وہ واقعی شہید ہو چکے ہیں؟ جب سے وہ گئے ہیں انہوں نے کبھی بھی کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی خیریت کی اطلاع دی۔ اگر وہ زندہ ہوتے اور تو اپنی خریت کی اطلاع دیتے یا اب تک وہ واپس آگئے ہوتے۔ وہ پہلے بھی تنظیم کے کام سے کشمیر جاتے رہے ہیں اور کچھ دنوں بعد واپس آ جاتے تھے۔ میں اب بھی غیر یقینی کی زندگی گزار رہی ہوں۔ اور اب بھی آس ہے کہ شاید میرے شوہر زندہ ہوں اور وہ ایک دن گھر واپس آئیں گے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ وہ گھر واپس آئیں، مجھے اپنے شوہر بہت یاد آتے ہیں۔ بچے بھی دعا کرتے ہیں کہ ابو واپس آ جائیں۔ ان کے جانے کے بعد ہمیں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ مجھے بالکل سکون نہیں رہا، میں برباد ہو گئی ہوں۔ اب اللہ تعالٰی کے سوا میرا اور میرے بچوں کا کوئی نہیں ہے۔ ان کی موجودگی میں ہمیں کوئی مالی پریشانی نہیں تھی۔ ہم آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے ملنے والے گزارا الاونئس کے ساتھ ساتھ مزدوری بھی کرتے تھے، بہت اچھا وقت گزر رہا تھا۔ لیکن ان کے جانے کے بعد ہمیں بہت مشکلات کا سامنا ہے، میں اپنے بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہتی ہوں۔ البتہ میرے دو بچوں کو تنظیم والوں نےاسلام آباد کے مدرسے میں داخل کروایا ہے۔ ہم اب آزاد کشمیر کی حکومت کی جانب سے ملنے والے چار ہزار روپے گزارا الاؤنس پر گزارا کرتے ہیں اور بہت مشکل سے زندگی کی گاڑی چل رہی ہے۔ دوسرے لوگ جو اپنے بچوں کے لئے چیزیں لاتے ہیں خاص کر بڑے دنوں پر تو دیکھ کر میرے بچے بہت اداس ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کے لئے چیزیں لانے والا کوئی نہیں۔ ان کے والد ہوتے تو وہ بھی ان کے لئے چیزیں لاتے۔ میں اپنے بچوں کو دکھی اور مایوس دیکھ کر بہت پریشان ہوتی ہوں اور اس وقت سوچتی ہوں کہ بچوں سمیت خود کشی کر کے اس پریشانی سے نجات حاصل کروں۔ میں اپنے بچوں کو اداس نہیں دیکھ سکتی، ان بچوں کے ابو نہیں ہیں کہ ان کے لئے چیزیں لائیں، میں کہاں سے لاؤں، مشکل سے اخراجات پورے ہو رہے ہیں۔ مجھے تنظیم والوں نے شوہر کی شہادت پر پچاس ہزار روپے دیے جو انہوں نے خود ہی بچوں کے نام بینک میں رکھ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ مجھے کسی کی مدد نہیں چاہئے، بس مجھے اپنا شوہر چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ مسلئہ کشمیر پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعہ حل ہو تاکہ میری طرح کوئی اور عورت بیوہ نہ ہو اور میرے بچوں کی طرح کوئی اور بچے یتیم نہ ہوں۔ میرے سر سے چادر چھن گئی ہے اور میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں، اس طرح کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کی بھی بہنیں، مائیں اور بچے ہیں اور وہ ہمارے دکھ کا احساس کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے مل بیٹھ کر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کریں تاکہ مزید معصوم لوگوں کی جانیں ضائع نہ ہوں اور خون خرابہ بند ہو اور لوگ امن اور سکون سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ نوٹ: نجمہ بی بی نے اپنی روداد ہمارے صحافی ذوالفقار علی سے لکھوائی۔ اگر آپ بھی کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ ہم ضرور شائع کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||