ساقی خانے سے جیل خانے تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا تعلق راولپنڈی سے ہے اور میں باڑہ چرس پینے آیا تھا لیکن چوری اور تالا توڑنے کے الزام میں اندر ہوگیا۔ جیل میں مجھے دو مہینے سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ باڑہ تحصیل قبائیلی علاقہ ہے جو خیبرایجنسی کے حدود میں آتا ہے اور پشاور شہرسے تقریباً پانچ کلومیڑ کے فاصلے پر مشرق میں واقع ہے۔ میں اکثر باڑہ آیا کرتا تھا۔ یہاں پر چرس بیچنے والے دوکاندار بھی مجھے جانتے ہیں۔ دن کے وقت میں ان دکانداروں کے لئے قریبی علاقوں سے پانی بھر کرلاتا اور دکانوں میں جھاڑو لگاتا جس کے بدلے وہ مجھے تھوڑی بہت چرس دے دیتے۔ رات کو میں بازار کے اندر واقع مسجد میں سو جاتا۔ باڑہ کا شاید ہی کوئی ساقی خانہ ہوگا جہاں پر میں نے چرس نہ پی ہو۔ باڑہ بازار میں چرس بیچنے والی دکانوں کو ساقی خانے کہتے ہیں۔ بیس جنوری کی رات مجھے بھوک لگی اور ہوٹل کی طرف جارہا تھا کہ بازار کے اندر چوکیدار نے پکڑ لیا۔ چوکیدار کے ساتھ ایک خاصہ دار بھی تھا رات کو خاصہ دار نے مجھے اپنے پاس رکھا، خوب چرس اور قہوہ پیا اور صبح مجھے تحصیل باڑہ کے حوالات میں بند کردیا۔ پانچ گھنٹے میں باڑہ کے حوالات میں رہا جس کے بعد مجھے خیبر ہاؤس منتقل کردیاگیا۔ چوکیدار اور ایک بیکری والے نے مجھ پر چوری کا الزام لگایا۔ یہاں آکر مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر دکان کا تالا توڑنے، جیب تراشی اور اقدام قتل جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔
میں ایک ملنگ آدمی ہوں اور باڑہ صرف چرس پینے آتا ہوں۔ پنڈی میں چرس یہاں سے منہگی ہے اور یہاں بغیر چوری کےمفت میں مل جاتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ مجھ پر اقدام قتل کا الزام بھی لگایا گیا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ میں ذہنی طورپر بھی ٹھیک نہیں، ڈپریشن کا مریض ہوں۔ پہلے مجھے دورے پڑتے تھے پھر پنڈی میں ایک ذہنی امراض کے ماہر سے علاج کروایا اور اب ٹھیک ہوں۔ ڈاکڑ نے چرس پینے سے سختی سے منع کیا ہے لیکن میں اس لعنت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ یہاں پر بھی ہمیں چرس پینے کی اجازت ہے۔ خیبرہاؤس پشاور شہر کے اندر واقع ضرور ہے لیکن اس کا انتظام خیبر ایجنسی کی انتظامیہ کے سپرد ہے اسی وجہ سے چرس پینے کی ممانعت نہیں اور ویسے بھی قبائلی علاقہ جات میں چرس پینے ، فروخت کرنے اور کاشت کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ میری عمراس وقت اڑتیس سال ہے اور ابھی تک شادی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں میں ایک سوڈا فیکڑی میں کام کرتا تھا۔ فیکڑی سے فارغ ہونے کے بعد زیادہ تر وقت صرافہ بازار پنڈی میں واقع سید چراغ حسین شاہ بادشاہ کے دربار (مزار) پر جھاڑو اور صفائی میں گزارتا تھا۔ مزار پر صفائی اور جھاڑو لگانے سے مجھے بڑا سکون ملتا ہے۔ میں دوسرے بزرگوں کے مزاروں پر بھی جاتا رہتا ہوں۔ یہاں جیل میں کھانے پینے کا بڑا مسئلہ ہے۔ اُبلی ہوئی دال اور لوبیا ہماری خوراک ہے۔ ایک وقت کے کھانے میں ڈیڑھ روٹی ملتی ہے جو ناکافی ہے لیکن مجبوراً کھانا پڑتی ہے کیونکہ زندہ رہنے اور پیٹ کی آگ ختم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کھانا ہی پڑتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ بھوک لگتی ہے تو باہر سے روٹی منگواتے ہیں۔ صفائی کا نظام بھی بہت خراب ہے۔ جن برتنوں میں ہمیں کھانا دیا جاتا ہے وہ اتنے گندے ہوتے ہیں کہ اس میں میل کچیل اور گند صاف نظر آرہا ہوتا ہے۔ ہم سالن دوسرے پلیٹ میں ڈال کر پہلے اسے صاف کرتے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ گرم کرکے کھاتے ہیں۔
صبح ناشتے میں ایک کپ چائے ملتی ہے جس میں نہ تو چینی پوری ہوتی ہے اور نہ دودھ۔ چائے پیتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پانی پی رہے ہوں۔ بیرک پر مامور خاصہ دار بالکل تعاون نہیں کرتے۔ وہ قیدیوں کے ساتھ پرلے درجے کے مجرموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ بعض اوقات معمولی بات پر قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بیرک میں عمر رسیدہ قیدی بھی ہیں جو اکثر اوقات بیمار رہتے ہیں۔ یہ بزرگ قیدی معمولی جرائم میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ علاج معالجے کی کوئی سہولت نہیں۔ جیل انتظامیہ کی اپنی مرضی ہے۔ اگر ان کو رحم آیا تو ہسپتال لے جاتے ہیں ورنہ کئی کئی درخواستوں کے باوجود بھی توجہ نہیں دیتے۔ میرے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں سارے بھائی گورنمینٹ سروس میں ہیں۔ میرا ابھی تک گھروالوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ چند دن پہلے ایک خط گھر روانہ کیا تھا امید ہے جلد رابط ہوجائے گا۔ دراصل میرے بھائی میری چرس پینے کی عادت سے سخت تنگ تھے اور مجھے منع کرتے تھے لیکن میں چھوڑنے کےلیے تیار نہیں تھا اور اب اس عادت نے جیل پہنچا دیا ہے۔ میری ایک ہی خواھش ہے کہ جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنی ماں کی خدمت کروں، ان کے پاؤں دباؤں اور دعائیں حاصل کروں۔ نوٹ: جیل کہانی قیدیوں کی آپ بیتیوں اور حالات پر مشتمل ایک سلسلہ ہے جو جمعرات پانچ اپریل سے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین پر ہر ہفتے پیر، منگل اور بدھ کے روز نشر کیا جائے گا۔ عبدالواحد نے اپنی یہ کہانی اسی سلسلے میں ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی کو سنائی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||