BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2003, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایسا خوف بیٹھ گیا ہے

خوف بیٹھ گیا ہے
کراچی کی جن گلیوں میں صبح تک رونق رہتی دن کو ہی سنسان تھیں۔

وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اکتوبر انیس سو پچانوے کا مہینہ تھا اور کراچی کی ان گلیوں میں موت کی خاموشی تھی جو کبھی رات کے تین بجے تک پررونق رہتی تھیں حالانکہ دن کے ڈھائی یا تین بجے کا وقت تھا۔ میں اس دن کو آج بھی یاد کرتا ہوں تو رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

میں ان دنوں بی اے پارٹ ون کر چکا تھا اور فیڈرل بی ایریا کراچی میں اپنے ماں باپ اور بھائی اور بھابھی کے ساتھ رہتا تھا۔ ان دنوں ایم کیو ایم کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر آپریشن جاری تھا۔ چونکہ میری ایم کیو ایم کے ساتھ وابستگی تھی اس لئے ہم خوف زدہ تو تھے لیکن یہ خوف زیادہ ساتھی رہنماؤں کے بارے میں تھا کیوں کہ بذاتِ خود میں صرف ایک عام کارکن تھا۔

غدار، را کے ایجنٹ

 والدہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا کسی نے انہیں دھکا دیا اور بہت سے پولیس والوں نے آکر اندر بندوقیں تان لیں۔ وہ بہت اونچی آواز میں گندی گندی گالیاں دے تھے، ہمیں مار رہے تھے اور غدار اور را کے ایجنٹ کہہ رہے تھے۔

ہم اس وقت گھر میں بیٹھے ٹی وی پر کوئی فلم دیکھ رہے تھے جب دروازہ پر دستک ہوئی۔ والدہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا کسی نے انہیں دھکا دیا اور بہت سے پولیس والوں نے آکر اندر بندوقیں تان لیں۔ وہ بہت اونچی آواز میں گندی گندی گالیاں دے تھے، ہمیں مار رہے تھے اور غدار اور را کے ایجنٹ کہہ رہے تھے۔ ان کا حملہ اتنا غیر متوقع تھا کہ ہم لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے مجھے اور بڑے بھائی کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا۔ اور ہماری قمیضیں ہماری آنکھوں پر باندھ دیں۔ ان میں سے کچھ نے گھر کو تہس نہس کرنا شروع کر دیا، الماریاں کھول کے چیزیں گرا دیں، ہر چیز کی تلاشی لی۔ یہ سب آناً فاناً ہوا اور شاید اس میں بہت زیادہ دیر نہ لگی ہو لیکن اس وقت لگتا تھا کہ جیسے بہت ہی دیر گزر چکی ہے یہ ہوتے ہوئے۔

پھر وہ تشدد کرتے ہوئے ہمیں باہر لے گئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ کلمہ پڑھ لو۔ ان دنوں میں ماورائے عدالت قتل بہت ہو رہے تھے۔ ہم دونوں بھائی شدید خوف زدہ ہو گئے۔ وہ ہمیں گاڑی میں ڈال کر تھانے لے گئے۔ انہوں نے بارہ پندرہ دن ہمیں حوالات کی ایک کوٹھڑی میں رکھا جہاں اور بھی تین چار لوگ موجود تھے۔ حوالات کی دیواریں بہت اونچی تھیں اور صرف ایک روشندان تھا جہاں سے روشنی آتی تھی۔ اس میں سوائے ننگے فرش کے اور کچھ نہ تھا اور ایک ٹوٹا پھوٹا ٹوائلٹ تھا جس سے مسلسل بدبو آتی۔ ان تمام دنوں وہ تقریباً روز ہی تشدد کرتے تھے۔ وہ حوالات میں داخل ہوتے جس پر تشدد کرنا ہوتا اس کی آنکھوں پر پٹی باندھتے اور اسے ایک اور جگہ لے جاتے جو ہم نے کبھی دیکھی نہیں۔ ہمارے ہاتھ پیچھے باندھ دیئے جاتے اور اور ان سے ہمیں لٹکا دیا جاتا۔ صرف پاؤں کے پنجے زمین کو چھوتے تھے اور کندھے شل ہو جاتے تھے۔ پھر وہ ڈنڈوں اور چھتروں سے مارتے تھے جن کے کچھ نشانات ابھی تک میری کمر پر موجود ہیں۔

خوف بیٹھ گیا ہے
ہمارے ہاتھ باندھ کر منہ پر تھیلا چڑھا دیا جاتا تھا۔

لیکن اس سے زیادہ خوفناک وقت تب ہوتا جب وہ ہمیں گاڑی میں بٹھا کر لے جاتے۔ ہمارا پورا چہرہ تھیلے کی طرح کپڑا چڑھا دیا جاتا جس میں سے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ گاڑی گھنٹوں چلتی رہتی۔ کبھی کبھی آوازوں سے لگتے کہ ہم شہر میں ہیں اور کبھی باکل کسی ویرانے میں۔ ہمیں کہاجاتا کہ کلمہ پڑھ لو۔ ہر وقت لگتا تھا کہ اب گئے کہ تب گئے۔ درمیان میں انہوں نے ہمیں امریکی قونصل خانے کے عقب میں ایک خصوصی عدالت میں ریمانڈ کے لئے پیش کیا۔ میں نے اپنی کمر سے قمیض اٹھا کر جج صاحب کو دکھائی لیکن انہوں نے پھر ہمیں تھانے بھیج دیا۔ تاہم دوسری بار جب پیش کیا گیا تو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ ہم پر جو فردِ جرم تھی وہ غیر قانونی اسلحے کی برامدگی تھی۔

جب ہم کراچی سینٹرل جیل پہنچے تو حال ہی میں ہمارے بہت سے کارکنوں کو اندرونِ سندھ کی جیلوں میں بھیجا جا چکا تھا۔ یہاں بھی ہم پر تشدد کیا جاتا اور سخت مشقت کروائی جاتی۔ وہ کہتے تھے کہ کلاشنکوف چلاؤ یا پھر پیسے دو۔ جیل میں کلاشنکوف جھاڑو کو کہتے ہیں۔ دو ہفتے انہوں نے ہمیں ایک بیرک میں رکھا جو کیرا ٹین بیرک کے نام سے مشہور تھی اور سب سے بدنام بیرک تھی۔ اس کے بعد اتفاق سے ہماری اپنے ایک سینیئر ساتھی سے ملاقات ہو گئی جنہوں نے کوشش کرکے ہمیں ایک اور بیرک میں منتقل کروایا جہاں کم از کم کچھ ہمارے ساتھی موجود تھے۔ لیکن یہ بھی ایک بند وارّ کی طرح تھی جہاں نہ تو کسی قیدی کو گھر والوں سے ملاقات کا حق تھا اور نہ ہی باہر سے کھانا یا سگرٹ وغیرہ آسکتے تھے۔ ہماری فائل عدالت تک ہی نہ جاتی، اسی لئے کبھی بھی عدالت سے بلاوا بھی نہ آتا۔

خوف بیٹھ چکا ہے
جج نے نشانات دیکھ کر بھی ریمانڈ دے دیا

دوسال بعد حالات بدلے اور حکومت کو معطل کر دیا گیا اور بالآخر میری ضمانت ہوئی۔ اگرچہ حکومت توڑنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ اس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا نہ تھا تاہم ہمارے خلاف آپریشن جاری رہا اگرچہ کھلم کھلا نہیں۔ گھر دھمکیاں آتی رہتی تھیں اور میرے گھر والے بہت خوف زدہ ہو چکے تھے۔ ایک ایجنٹ کے دریعے برطانیہ کا ویزہ لیا اور یہاں آگیا۔ وہ بعد میں بھی دو تین سال تک گھر پر چھاپے مارتے رہے اور ایک دفعہ بھائی کو لے بھی گئے تھے۔ کہتے کہ اسے پیش کرو۔ لیکن پھر ان کا یقین آگیا کہ میں واقعی ملک چھوڑ چکا ہوں۔

مجھے بہت عرصے تک رات کو نیند میں جھٹکے پڑتے اور چیخیں نکلتی تھیں اور آنکھ کھل جاتی تھی۔ میرا پیر تشدد سے بری طرح خراب ہوا تھا جس کا علاج میں نے برطانیہ آکر کروایا۔ پاکستان بہت یاد آتا ہے لیکن اس واقعے نے میری زندگی بدل دی ہے۔ ایک ایسا خوف بیٹھ گیا ہے کہ جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔


نوٹ: اس آپ بیتی کے راقم لندن میں ایک تارکِ وطن ہیں اور ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد