| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زندہ بچ رہنے کی کوشش
سات دسمبر دو ہزار تین کسی بھی معاشرے میں اور خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جو مسلسل حالتِ جنگ میں ہو، عورتیں، بچے اور بوڑھے سب سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں جیسے کہ غزہ میں۔ تاہم عموماً ایسے حالات کا سب سے بڑا نفسیاتی شکار جوان مرد ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو ڈیپریشن اور ذہنی امراض سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو بالکل کمزور محسوس کرتے ہیں۔ اس ہفتے میں ایک ایسے تجربے سے گزرا جس سے مجھے یہ اندازہ کرنے میں آسانی ہوئی کہ ایک عام فلسطینی مرد کو کتنی مرتبہ روزانہ اس صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہوگا۔ ہماری ایم ایس ایف کی گاڑی غزہ کے جنوبی کنارے پر واقع ایک اسرائیلی چوکی پر بڑے سیکیورٹی آپریشن میں پھنس گئی۔ فوجی بہت مستعدی سے ٹریفک کو چیک کر رہے تھے، صرف پہلے ہی گیٹ سے گزرنے میں ہمیں ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ جس کے بعد ہمیں ایک چیک پوائنٹ پر تقریباً تیس دوسری گاڑیوں کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا۔ ہمیں گاڑی کے اندر ہی رہنے کا حکم دیا گیا جبکہ ایک بڑے چبوترے سے ایک ہیوی مشین گن کی نالی گاڑیوں کی قطار سے باری باری گزرتی رہی۔ سپاہی جس طرح گاڑیوں کے درمیان سے بار بار گزر رہے تھے اس سے لگتا تھا کہ انہیں خاص لوگوں کی تلاش ہے۔ یہ تقریباً چار گھنٹے جاری رہا جس کے دوران صرف لوگوں کو اتنی اجازت دی گئی کہ وہ سب کے سامنے جاکر ایک دیوار کی طرف منہ کرکے پیشاب کر سکتے تھے۔ ان میں سے چند ایک کو، جواپنی قمیضیں اور پتلونیں اوپر کر کے دکھا چکے تھے کہ انہوں نے اپنے کچھ نہیں چھپا رکھا، پیدل جانے کی اجازت دے دی گئی۔ میں انہیں بتانا چاہتا تھا کہ ہم ایک طبی عملے کے افراد ہیں اور ہمیں اس طرح نہیں روکا جانا چاہئے لیکن مجھے گاڑی سے باہر نکلنے تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ مجھے مکمل طور بے بس اور محکوم کر لئے جانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تکلیف اور غصے کا احساس ہوا۔ میں محسوس کر سکتا تھا کہ کیسے ایک زبردست فوجی طاقت کا پورا جبر ان لوگوں کی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کیا جاتا ہے جن کے ساتھ میں کام کررہا ہوں۔ ایک فلسطینی ڈرائیور نے جو دیکھ چکا تھا کہ ہم غیرملکی ہیں، اپنی گاڑی کی کھڑکی سے باہر کو جھک کر کہا ’اب تم بھی ہم میں سے ہو‘۔
کسی مرد، کسی باپ، کسی شوہر کو اپنے مقبوضہ علاقوں سے فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں اور ذمہ داریوں سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اپنے کنبے کو کچھ نہیں دے سکتے کیوں کہ روزگار نہیں ہے، نہ ہی وہ انہیں تحفظ فراہم کر سکتے ہیں کیونکہ تشدد روز کا معمول ہے۔ کم از کم مائیں بچوں کی دیکھ بھال، گھر کے کام کاج اور اگلے وقت کے کھانے کی تلاش کے ضروری اور عملی کام میں مصروف رہ سکتی ہیں مگر زیادہ تر مرد مایوسی اور دماغی تکلیف کا شکار رہتے ہیں۔ درحقیقت یہی چیزیں ہیں جو میں ان کے علاج کےلئے استعمال کرتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ یہ مرد ان چیزوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں جو ان کے بس میں نہیں ہیں جیسے کہ اسرائیلی فوج، ان کے گھر کو لاحق خطرات یا اقتصادی حالات۔ ان کی گھبراہٹ اور احساسِ بے بسی کو کم کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ وہ ان پہلوؤں پر نظر رکھیں جہاں وہ کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں یا منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ اس سے انہیں اپنی زندگیوں پر کسی قدر اختیار کا احساس واپس لوٹ آتا ہے۔
سب سے خوفناک مسئلہ گھروں کا ہے اور ایک ڈاکٹر کے طور پر یہ میرا بھی مسئلہ ہے۔ جو مرد خطرناک ترین علاقوں میں رہتے ہیں وہ مسلسل اپنے کنبوں کو نسبتاً زیادہ محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت اور اپنے گھروں اور زمین سے چپکے رہنے کے درمیان بھٹکتے رہتے ہیں کیونکہ یہی ایک مزاحمت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ ہم ان گھروں کو چھوڑ کر گئے تو اسرائیلی آکر انہیں گرا دیں گے اور ہم کبھی واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔ میرے لئے مسئلے کا گمبھیر پہلو یہ ہے کہ میں ان کی مدد کروں کیوں کہ طبی طور پر ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ خطرے کی حد سے باہر نکل جائیں۔ لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ زمین کا قبضہ فلسطینیوں کی سیاسی جدوجہد کے لئے مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس اور جذباتی مسئلہ ہے۔ جو مجھے قبول کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ میں ان کا عارضی علاج کرتا رہوں۔ میں ان کے اردگرد موجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا اور انہیں معلوم ہے کہ کوئی امید رکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ہم صرف یہی کرسکتے ہیں کہ زندہ بچ رہنے کی کوشش کرتے رہیں اور عموماً کسی کنبے کے سربراہ کے لئے یہی سب سے مشکل کام ہے۔ مائیکل میکالک غزہ کی پٹی میں طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی ایک گشتی ٹیم کے رکن ہیں جو علاقے میں جاری تشدد سے متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ متاثرین عموماً بمباری، تباہ کاری اور جنگی صورت حال کے باعث صدمے اور خوف کا شکار رہتے ہیں۔ ڈاکٹر میکالک نے اپنے ہفتے بھر کی مصروفیات کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مریضوں کا احوال اپ کی آواز میں ایک روز نامچے کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے اس تازہ ترین ڈائری پر آپ کیا رد عمل ہے؟ ہمیں لکھئے۔ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||