| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمد کا بچپن کہاں ہے؟
اگرچہ غزہ میں آباد لوگ عموماً مشکلات کا شکار رہتے ہیں لیکن گزشتہ چند روز ان کے لئے خاصے دشوار تھے۔ پیر کے روز جب اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر دراندازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے اس وقت ہماری رابطہ کار غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے رفح میں موجود تھیں۔ اس وقت شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں معمول کی صورت حال درہم برہم ہو گئی۔ مجھے اگلے روز اسی علاقے میں جانا تھا اس لیے ہماری رابطہ کار نے مجھے ان جگہوں کی تفصیلات بتائیں جہاں وہ متاثرہ خاندان آباد تھے جن سے میں باقاعدگی سے ملنے جاتا تھا۔ منگل کے روز جب میں وہاں پہنچا تو ان لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی اور وہ بری طرح مصیبت میں گھرے ہوئے تھے۔ غزہ میں کام کا آغاز کرنے کے بعد سے جس خاندان کو میں سب سے زیادہ جانتا تھا اور گزشتہ تین ماہ سے میری ان سے ملاقات بھی جاری تھی، وہ خاندان جنگی صورت حال سے انتہائی بری طرح متاثر ہوا تھا۔ ان لوگوں کا گھر براہ راست ایک بلند اسرائیلی نگراں فوجی چوکی کے سامنے تھا اور ارد گرد کے گھر تباہ ہو چکے تھے۔ اس علاقے میں مسلسل فائرنگ ہوتی رہی تھی جس کے نتیجے میں گھر کی اندرونی دیواروں پر جابجا گولیوں کے نشانات تھے۔ مجھے دھات کے ٹیڑھے میڑھے ٹکڑے زمین پر بکھرے دکھائی دیئے۔ چونکہ زیادہ تر فائرنگ رات کے وقت ہوتی اس لئے والدین اپنے سات بچوں کو گھر کے قدرے محفوظ مقام پر لے جاتے جہاں گولیوں کی رسائی نہیں ہے۔ یہ محفوظ جگہ گھر کی پہلی منزل پر بنا سٹور تھا۔ یہاں بچوں کے لیٹنے کی جگہ تو ہے لیکن بچوں کے والدین کے لیے صرف بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی جگہ بچتی ہے۔ البتہ بچے فائرنگ کے شور کے باعث یہاں سو نہیں سکتے۔
ان والدین کا بارہ برس کا بیٹا جسے میں احمد کے نام سے پکاروں گا، میری تحریر میں توجہ کا مرکز رہے گا کیونکہ وہ علاقے میں جاری تشدد کے باعث بےقابو ہو چکا ہے اور اس کی شخصیت میں خاصی تبدیلی آ چکی ہے۔ وہ کسی جنونی کی طرح اسرائیلی فوج کی تباہ کاریوں کی زد میں آنے والے گھروں کی طرف مدد کے لیے نکل بھاگتا ہے اور یوں خود کو خطرے سے دوچار کر لیتا ہے۔ گزشتہ تین برس سے جاری انتفادہ اور مسلسل لڑائی کے باعث مقامی بچے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ احمد کے رویئے میں غصہ اور اشتعال بھر گیا ہے اور اس کے دوست اس سے خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ وہ اسکول کا کام بھی نہیں کرتا۔ احمد سے گفتگو کے دوران میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کے رویہ سے خطرناک اور نقصان دہ عادات ختم کی جا سکیں اور وہ عام بچوں کی طرح زندگی گزارنے کے دوبارہ قابل ہو جائے۔ میں اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہوں کہ احمد کے والدین اپنے بیٹے کو مائل کرتے رہیں کہ لوگوں اور والدین کے حوالے سے بچوں کے فرائض کیا ہوتے ہیں۔ میں کئی برس سے متاثرہ خاندانوں اور بچوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں لیکن احمد کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ احمد بظاہر سب باتیں غور سے سنتا ہے اور ان پر توجہ بھی دیتا ہے اور وہ اس بات سے بھی متفق ہے کہ اسے اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ پورا تعاون کرنا چاہئے اور ان کا کہا ماننا چاہئے تاکہ اس کی زندگی کسی خطرے میں نہ پڑے۔
میں احمد کو یہ احساس دلانے کی کوشش بھی کرتا ہوں کہ وہ بڑا ہو کر بحیثیت ڈاکٹر یا وکیل معاشرے کی خدمت کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ معصومیت سے کہتا ہے کہ ’میں جانتا ہوں کہ میں گولی لگنے سے مر سکتا ہوں لیکن مجھے ہر صورت ان لوگوں کی مدد کو پہنچنا ہے جو حملوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ مجھے ویسے بھی اپنے گھر میں تحفظ کا احساس نہیں ہوتا، اس لیے میں شہید ہونے کو ترجیح دیتا ہوں‘۔ پیر کے روز اسرائیلی دراندازی کے باعث مچنے والی بھگدڑ میں احمد کا چودہ سالہ دوست گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ احمد نے مجھے اس لڑکے کے پیٹ میں گولی لگنے کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس کے پیٹ سے بری طرح خون بہہ رہا تھا اور ایمبولینس اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکی تھی۔ البتہ اسے ایک ٹیکسی میں ہسپتال روانہ کیا گیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی‘۔ احمد کا ردِ عمل تکلیف دہ اور پریشان کن تھا کیونکہ لڑکے کی موت کا واقعہ سناتے ہوئے اس کے رویئے میں ایک جبری لاتعلقی سی تھی۔ اس کے لبوں پر بےیقینی کی مسکراہٹ کسی معصوم بچے کے رویئے کا تاثر نہیں دیتی تھی۔ میری تین ماہ سے جاری کوششوں کو نئے پرتشدد واقعات سے خاصا نقصان پہنچا کیونکہ چند ہفتے قبل ایسا دکھائی دینے لگا تھا کہ احمد کی طبیعت پرسکون ہوتی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں احمد کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اس کے والدین نقل مکانی کر کے کسی دوسری جگہ چلے جائیں۔ مائیکل میکالک غزہ کی پٹی میں طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی ایک گشتی ٹیم کے رکن ہیں جو علاقے میں جاری تشدد سے انتہائی متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ متاثرین عموماً بمباری، تباہ کاری اور جنگی صورت حال کے باعث صدمے اور خوف کا شکار رہتے ہیں۔ ڈاکٹر میکالک نے اپنے ہفتے بھر کی مصروفیات کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مریضوں کا احوال یوں بیان کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||