| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعدی بلا سے لڑسکتا ہے
چار دسمبر، دو ہزار تین شعدی غزہ پٹی کے جنوبی کنارے پر رہتا ہے جہاں اسرائیلی فوج کافی سرگرم ہے اور ٹینک اور بلڈوزر شہری نقشے کا حصہ بن گئے ہیں۔ شعدی کے والد نے لگ بھگ تین ماہ قبل اس کی مدد کے لئے ہم سے ملاقات کی۔ شعدی میں ذہنی پریشانی کی کچھ علامتیں نمایاں تھیں: اسے نیند نہیں آتی تھی، بھوک کی کمی تھی، وہ اداس رہتا تھا اور اسے اپنی زندگی اور اپنے مستقبل میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب میں نے اس سے ملاقاتیں شروع کیں تو یہ بات ابھر کر سامنے آئی کہ اسے خوفناک خواب آتے تھے۔ خود اس کے الفاظ میں: ’ایک بلا میرا پیچھا کررہی ہے، میرا قتل کرنے کے لئے۔ میں اس سے بچ نہیں سکتا اور جب وہ میرے قریب پہنچنے کو ہوتی ہے اسی وقت میں جگ جاتا ہوں، میرے اوپر خوف طاری ہوتا ہے۔ وہ پیلے یا کبھی کبھی سبز رنگ کی ہے۔ وہ ایک انسان کی طرح دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے جسم پر کافی بال ہیں اور وہ ایک بالٹی، ایک چاقو، ایک تلوار اور ایک کلہاڑی لیے ہوتی ہے جیسے وہ مجھے قتل کردینا چاہتی ہے۔‘ شعدی اور اس کے گھر والے اس علاقے میں فائرنگ سے بچنے کے لئے اکثر راتوں کو تہہ خانے میں پناہ لیتے ہیں۔ شعدی نے مجھے حقیقی انسانوں کے بارے میں بھی بتایا جو اس کے پڑوس میں مارے گئے۔ اس کا ایک دوست اسکول کے ایک کمرے میں تھا جب وہ بندوق کی ایک گولی کا نشانہ بن گیا۔ شعدی کے خوفناک خواب اور نہ جینے کی خواہش کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ میں شعدی پر یہ واضح کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ اس کا ردعمل غلط نہیں ہے، کہ اس کے سامنے ایک مستقبل ہے اور وہ اس بلا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کئی ملاقاتوں کے بعد شعدی اور میرے درمیان بھروسہ قائم ہوسکا۔ میں غیرملکی ہوں لیکن میرا غیرملکی ہونا شعدی کے ساتھ اعتماد قائم کرنے میں رکاوٹ نہ بنا، بلکہ ہمارے درمیان ایک مترجم کو بھی قابل اعتماد سمجھا گیا۔ اس طرح کی مشاورتی ملاقاتوں کے بارے میں میرا اجنبی ہونا ضروری ہے کیونکہ ایک اجنبی شعدی جیسے لوگوں کی زندگی کی کہانی بہتر طور پر سن سکتا ہے۔ ہماری کوشش تھی کہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ اس طرح کے خوفناک خواب دیکھنا غلط نہیں ہے۔ میں شعدی کو بتاتا ہوں کہ میں نے اس طرح کی کہانیاں اور جذبات کا سامنا بچوں میں پہلے بھی کیا ہے۔ شعدی کے بھائی بہن خوش قسمت ہیں کہ انہیں اس طرح کے ذہنی مسائل نہیں ہیں۔ ہم طبی ماہر ایک طریقہ استعمال کرتے ہیں: بچوں کو بتاتے ہیں کہ انہیں جس چیز سے ڈر لگتا ہے وہ اس کی تصویر بنائیں۔ میں نے شعدی سے کہا کہ وہ اس طرح کا نقشہ کھینچے جس سے اس بلا سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اس نے جو اگلی تصویر بنائی اس میں وہ خود اس بلا پر ایک گرینیڈ پھینک رہا تھا جس کے نتیجے میں یہ بلا تباہ ہوجاتی ہے۔ میں اور شعدی اس بات پر متفق ہوئے کہ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے اس بلا سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی ملاقاتوں کے ذریعے پیدا ہونے والے اعتماد کی بنیاد پر ہم نے شعدی کی خوفناک یادداشتوں کے بارے میں باتیں جاری رکھیں۔ شعدی کی حالت میں اب بہتری آرہی ہے۔ اس کے والد اس بات پر یقین نہیں رکھتے تھے کہ غزہ کے جو حالات ہیں ان میں شعدی کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔ لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ شعدی اب دوبارہ ایک استاد بننے کی خواہش ظاہر کررہا ہے۔ اب وہ ہمیشہ غمگین نہیں رہتا اور کھانا بھی ٹھیک وقت پر کھاتا ہے۔ اس کے والد نے مجھے بتایا: ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ آپ سے کچھ حاصل کررہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آپ اس سے ملاقات کے لئے کب آنیوالے ہیں، وہ اس کے بارے میں بات بھی کرتا ہے، اور تیار ہوکر آپ سے ملنے کا منتظر رہتا ہے۔‘ مجھے اس بات کی امید ہے کہ میں جلد ہی اس کی بہتری کے ساتھ ساتھ اس سے اپنی ملاقاتوں میں کمی کرنا شروع کروں گا۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ مریض کی زندگی کو بہتر بنایا جائے اور اسے اس طریقۂ کار سے روشناس کرایا جائے جس کے ذریعے وہ اپنی پریشانیوں کو ہلکا کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کام میں اس کے ذہن میں یہ بات اہم رہی ہے کہ میں اس کے گھروالوں کے ہمراہ رہا ہوں۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ حالات خراب ہونے پر میں واپس آسکتا ہوں اور اس کے ذہن میں جو تصویر بن رہی ہے اس سے یہ واضح ہے کہ وہ کن حالات سے گذر چکا ہے۔ مائیکل میکالک غزہ کی پٹی میں طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی ایک گشتی ٹیم کے رکن ہیں جو علاقے میں جاری تشدد سے متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ متاثرین عموماً بمباری، تباہ کاری اور جنگی صورت حال کے باعث صدمے اور خوف کا شکار رہتے ہیں۔ ڈاکٹر میکالک نے اپنے ہفتے بھر کی مصروفیات کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مریضوں کا احوال یوں بیان کیا۔ ان کے اس مضمون پر آپ کیا رد عمل ہے؟ ہمیں لکھئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||