BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 02 December, 2003 - Published 17:27 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مونا کا انوکھا علاج

ڈاکٹر مائیکل میکالک
ڈاکٹر مائیکل میکالک

اٹھائیس نومبر، دو ہزار تین

مونا سے تین مرتبہ مفصل گفتگو کے بعد میں مجھے اس کی غیر معمولی قوتوں کے علاوہ اس بات کا بھی احساس ہوا کہ وہ ذہنی طور پر کس قدر کمزور اور عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہے۔ مونا کی عمر غالباً پینتیس سے پینتالیس برس کے درمیان ہے اور وہ علاقے میں جاری جنگی صورت حال کے نتیجے میں خوف اور صدمے کا شکار ہے۔



اس طرح کے صدمے کی ملی جلی علامات میں بعض تو جسمانی طور پر واضح ہونے لگتی ہیں مثال کے طور پر نیند کا نہ آنا، جسم کے مختلف حصوں میں درد ہونا اور اس کے علاوہ رویئے میں کچھ ایسی تبدیلیاں بھی آتی ہیں جن کے پس پشت جذباتی علامات کارفرما ہوتی ہیں۔

مونا کو سوتے میں ڈراؤنے خواب آتے ہیں، بھوک اڑ چکی ہے، فائرنگ سے خوفزدہ رہتی ہے، نہ صرف یہ بلکہ ٹی وی پر جنگ کے مناظر دیکھتے ہی خوف سے سہم بھی جاتی ہے۔

مونا کی ڈیپریشن کا علاج جاری ہے اور گزشتہ دو برس کے دوران اس کا طبی ریکارڈ بھی خاصی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

ان تمام مسائل کا آغاز محض ایک واقعے سے ہوا۔ اس وقت مونا شدید چھڑپوں اور تباہ کاریوں کے شکار علاقے غزہ کے عین وسط میں رہتی تھی۔

مونا کے گھر کے قریب ایک روز انتہائی شدید دھماکہ ہوا اور جلد ہی یہ بات سب کو معلوم ہو گئی کہ ایک شخص اس دھماکے کی زد میں آیا ہے۔ لیکن تلاش کے باوجود اس شخص کی لاش کا کوئی نشان نہ ملا۔

مونا بھی انہی کوششوں میں شامل تھی لیکن جب وہ گھر لوٹی تو صحن میں جا بجا پھیلے جسم کے ٹکڑوں پر سے پھسلتے پھسلتے بجی۔ یہ منظر مونا کے ذہن پر کندہ ہو گیا جسے وہ کبھی فراموش نہ کر پائی۔

یہ واقعہ پیش آنے سے پہلے تک مونا نے علاقے میں جاری تشدد سے پیدا ہونے والے خوف پر قابو پانے کے لئے جو طریقہ اپنا رکھا تھا، وہ خطرناک ضرور تھا لیکن بظاہر مؤثر بھی تھا۔

وہ شدید خطرات مول لے کر اسرائیلی فوج کا نشانہ بننے والے خاندانوں کی مدد کو پہنچتی۔ مثال کے طور پر اسرائیلی فوجی لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لئے مکانوں پر بنی پانی کی ٹینکیوں کو نشانہ بناتے۔ لیکن لوگوں کو علم تھا کہ اگر وہ گھروں سے باہر نکلیں گے یا چھت پر لگی ٹینکی مرمت کرنے کی کوشش کریں گے تو اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں مونا اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کی چھتوں پر پہنچ جاتی۔ اسرائیلی فوجی مونا پر گولی نہ چلاتے اور یوں بہت سے لوگ مونا کی پیروی کرتے ہوئے پانی کی ٹینکی مرمت کرنے کی کوشش کرتے۔

علاقے میں موجود صحافیوں کا حال بھی انہی لوگوں کا سا تھا۔ گولیوں کی زد میں آ جانے کے خوف سے وہ تازہ واقعات کی اطلاع دیتے، نہ فلم بندی کرتے۔ مونا نے ان صحافیوں کے لئے بھی مثال قائم کی اور ہاتھ میں ’پریس‘ کا بینر اٹھا کر سڑک پر نکل آئی اور یوں صحافیوں میں بھی اپنے فرائص کی ادائیگی کا حوصلہ پیدا ہوا۔

گفتگو کے دوران مونا نے مجھے تفصیل سے بتایا کہ وہ قطعاً خوفزدہ نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے لئے یہ سب کچھ کرنے کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔ خوف پر قابو پانے کا یہ اس کا انوکھا طریقہ تھا جو اسے یہ احساس دلاتا تھا کہ اس نے دشمن کو ششدر کر دیا ہے۔

گفتگو کے دوران مجھے احساس ہونے لگا کہ مونا کے اس طریق کار اور نظریئے کو ہتھیار بنا کر مونا کو اس اذیت سے نجات دلائی جا سکتی ہے جو اسے اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹتی جا رہی ہے۔

میں نے مونا سے کہا کہ ’تمہاری یہ جرات اور بہادری تمہارے دل میں موجود باقی تمام خوف اور صدمے ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ لڑائی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے تمہارے چہرے پر وہ تمام جذبات نمایاں تھے جو تم نے اصل موقعے پر محسوس کئے تھے اور یہی وہ طاقت ہے جو تمہیں تمام صدموں سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا دلا دے گی‘۔

مونا کو اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جائے اور تحسین کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہمیں اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ تین ملاقاتوں کے بعد مونا کو ڈراؤنے خواب آنے بند ہو گئے ہیں، پیٹ کا درد بھی جاتا رہا ہے اور اب تو مونا اشتہا سے کھانا بھی کھانے لگی ہے۔

جس طرح ٹوٹی ہوئی ہڈی آہستہ آہستہ ہی دوبارہ جڑتی ہے اسی طرح مونا کی صورت حال درست ہونے میں بھی کچھ وقت تو لگے گا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر آپ صحیح سمت میں کام کریں تو زخم بھر ہی جاتے ہیں۔


مائیکل میکالک غزہ کی پٹی میں طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی ایک گشتی ٹیم کے رکن ہیں جو علاقے میں جاری تشدد سے انتہائی متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ متاثرین عموماً بمباری، تباہ کاری اور جنگی صورت حال کے باعث صدمے اور خوف کا شکار رہتے ہیں۔ ڈاکٹر میکالک نے اپنے ہفتے بھر کی مصروفیات کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مریضوں کا احوال یوں بیان کیا۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد