BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز: دوائیں اور سیاست

دوائیں
ایڈز کی دواؤں کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش جاری ہے

دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے ساٹھ لاکھ سے زائد افراد ایڈز کے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں اور انہیں ایسی طاقتور دواؤں کی ضرورت ہے جو لمبی عمر اور صحت مند زندگی کو ممکن بنا سکیں۔ لیکن ایسی دوائیں صرف تین لاکھ متاثرین کو ہی میسر ہیں۔

دنیا کے کُل چار کروڑ بیس لاکھ متاثرہ افراد میں سے پچانوے فیصد متاثرین کا تعلق غریب ممالک سے ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافے سے کہ جن کا عارضہ اس نہج پر پہنچ جاتا ہے جنہیں ’اینٹی ریٹرو وائرل ڈرّگز‘ نامی طریق علاج کی ضرورت ہوتی ہے، ایڈز کی دواؤں کی مانگ میں اضافہ ہو جائے گا۔

تاہم ایچ آئی وی سے متاثرہ ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہو گی جو یہ دوائیں خریدنے کے متحمل ہوں گے۔ ان دواؤں کو غریب ممالک تک پہنچانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن اس عمل کی رفتار خاصی سُست ہے۔

سن دو ہزار میں جب سے علاج کی غیر مساوی سہولیات کا مسئلہ بین الاقوامی ایجنڈے پر آیا ہے، دوا ساز کمپنیوں نے ان مخصوص دواؤں کی قیمتیں کم کر دیں ہے۔

اس کے باعث ’اینٹی ریٹرو وائرل‘ نامی طریق علاج کی فی مریض سالانہ قیمت چھ ہزار ڈالر سے کم ہو کر ایک سو اسی ڈالر کے برابر رہ گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان دواؤں کا حصول لاکھوں ایسے افراد کی دسترس سے باہر ہے جو ایک ڈالر فی کس روزانہ سے بھی کم پیسوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

2005 تک دوائیں ملنے کی توقع
ایڈز کا علاج لاکھوں لوگوں کی دسترس سے باہر ہے

سیاستدانوں، بین الاقوامی ایجنسیوں اور کاروباری اداروں کے مابین ایسے اشتراک عمل میں آ رہے ہیں جو ’اینٹی ریٹرو وائرل‘ دوائیں کسی مخصوص برانڈ کے بجائے ’جینیرِک‘ طریقے سے (یعنی دوا کے اصل نام سے) تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

متعدد ایجنسیاں اس کوشش میں بھی ہیں کہ طبی تربیت کے دیگر اہم مراکز اور کلینک قائم کیے جائیں تاکہ ایڈز کے مریض بحفاظت اور مؤثر طریقے سے دوائیں استعمال کر سکیں۔

ایڈز سے متاثرہ افراد کے لیے کام کرنے والا امدادی ادارہ ’دی بِل کلنٹن فاؤنڈیشن‘ نے حال ہی میں ’جینیرک‘ یا اصل ناموں سے دوائیں تیار کرنے والی کمپنیوں سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت یہ کمپنیاں موزمبیق، روانڈا، جنوبی افریقہ اور تنزانیہ جیسے ممالک کو ’اینٹی ریٹرو وائرل‘ دوائیں آدھے دام پر فروخت کریں گے۔

تاہم آکسفام جیسی امدادی ایجنسیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس ضمن میں کی جانے والی کوششیں سن دو ہزار پانچ میں مشکلات کا شکار ہو جائیں گی کیونکہ اس وقت ترقی پذیر ممالک کے پاس جینیرک دوائیں تیار کرنے کا حق نہیں رہے گا۔

البتہ بہت سے ممالک اس وقت اپنا یہ حق استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی دو بڑی وجوہات میں مطلوبہ ٹیکنالوجی کا میسر نہ ہونا اور ان ممالک میں ممکنہ سیاسی محرکات شامل ہیں۔

کینکن میں منعقد ہونے والے عالمی ادارہ تجارت (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے اجلاس سے پہلے، اگست سن دو ہزار تین میں طے پانے والے معاہدے میں ان تجارتی قوانین کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی جو ’پیٹنٹ‘ یا رجسٹرڈ ناموں کو تحفظ دیتے ہیں اور مذکورہ دواؤں کی تیاری کے ضمن میں غریب ممالک کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

ایچ۔آئی۔وی وائرس
ایڈز کا باعث بننے والا ایچ۔آئی۔وی وائرس

عالمی ادارہ تجارت کے معاہدے کے تحت خصوصی لائسنس جاری کر کے ترقی پذیر ممالک کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ خاص برانڈ کی دواؤں کی نقول سستے داموں درآمد کر سکیں گے۔

اس کے باوجود متعدد امدادی ایجنسیوں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدہ بیوروکریٹک نوعیت کا ہے اور زیادہ تر اختیارات بڑی دوا ساز کمپنیوں کو ہی حاصل ہوں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا اطلاق دواؤں کی محدود تعداد پر ہوگا اور ایڈز کے مرض پر پوری طرح قابو پانے کے لیے دواؤں کی مطلوبہ تعداد حاصل نہیں ہو پائے گی۔

بھارت، جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور کینیا ایڈز کی دواؤں کی نقول تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

تاہم عالمی ادارہ تجارت دو ہزار پانچ تک تیس لاکھ مریضوں کو دوائیں فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔

ایڈز اب برطانیہ جیسے امیر ممالک میں انتہائی ہلاکت خیز مرض تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ ان ممالک میں ’اینٹی ریٹرو وائرل‘ دوائیں دستیاب ہیں۔

تاہم ان ممالک کے اپنے علیحدہ مسائل ہیں۔ یہ دوائیں متواتر استعمال کرنے والوں میں ان دواؤں کے خلاف مدافعت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جس کے باعث ان لوگوں کے علاج میں دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں کیونکہ ان دواؤں کا ابھی کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد