BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 September, 2004, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گیان کور سے خورشید بی بی‘

گیان خورشید بی بی تو بن گئی مگر خون کو کیسے بھلائے
گیان خورشید بی بی تو بن گئی مگر خون کو کیسے بھلائے
ایک معمر کشمیری خاتون جن کے دو مذہب، دو شوہر اور دو وطن رہ چکے ہیں، گزشتہ پچاس برس سے اپنے بچھڑے ہوئے سکھ بھائی اور دوسرے رشتہ داروں سے ملنے کا بے تابی سے انتظار کررہی ہیں۔ تہتر سالہ خورشید بی بی انتہائی غیر معمولی حالات میں اپنے سکھ شوہر اور خاندان سے بچھڑگئی تھیں اور ان کی وجہ سے خورشید بی بی کے خاندان کے افراد آج مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور الگ الگ ملکوں میں رہتے ہیں۔

خورشید بی بی آج پاکستان کے صوبہ سرحد میں واقع گڑھی حبیب اللہ میں اپنے بچوں نواسوں اور نواسیوں کے ہمراہ ایک خوبصورت گھر میں رہتی ہیں اور ان کی کہانی برصغیر کی تقسیم سے شروع ہوتی ہے۔


میرا نام گیان کور تھا اور میرا تعلق سکھ مذہب سے تھا۔ میں سن اکتوبر 1948 تک مظفرآباد کے شمال میں 16 کلو میڑ کے فاصلے پر واقع پٹھکہ گاؤں میں اپنے شوہر پرتاب سنگھ کے ساتھ رہتی تھی۔

برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد کشمیر کے ہندو حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے خلاف کشمیر کے ان علاقوں میں، جو اب آزاد کشمیر میں ہیں، مسلح بغاوت شروع ہوئی جس کے باعث مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔اس سے پہلے ہم سب بھائی چارے سے رہتے تھے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے بہت سارے ہندو اور سکھ خاندان گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ ان میں میری والدہ، بھائی اور بہن بھی تھے لیکن میں اپنے شوہر کے ساتھ گاؤں میں ہی رہی اور میرے والد مدن سنگھ اور بعض دوسرے خاندانوں والوں نے بھی گاؤں نہیں چھوڑا۔ میرے والد مدن سنگھ گاؤں کے نمبردار تھے۔

News image
آج تک نہیں معلوم
 اچانک چاروں طرف سے گولیاں برسنا شروع ہوگئیں اور ایک افراتفری مچ گئی۔ اسی افراتفری کے دوران میرے شوہر مجھ سے بچھڑ گئے۔ مجھے آج تک نہیں معلوم کہ پرتاب سنگھ ساتھ ہی بہنے والے دریا کشن گنگا یا نیلم میں بہہ گئے یا قبائلیوں کی گولی کا نشانہ بن گئے۔

اس دوران اکتوبر1948ء میں پاکستان کے صوبہ سرحد سے کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے قبائلی آگئے اور انہوں نے سکھوں اور ہندوؤں کو نشانہ بنایا۔ ہم نے سن رکھا تھا کہ قبائلی آنے والے ہیں۔ ان حالات میں بہت سے سکھ اور ہندو خاندان ایک بار پھر اپنا گھر بار چھوڑ کر بھارت یا کشمیر کے ان علاقوں میں چلے گئے جو اب بھارت کے زیر انتظام ہیں۔

ان فسادات اور ہنگاموں میں کچھ سکھ اور ہندو مارے گئے اور کچھ آزاد کشمیر میں ہی رہ گئے۔ اگرچہ ہمارے اکثر عزیز بھی گاؤں چھوڑ چکے تھے لیکن میں اور میرے شوہر پھٹیکہ ہی میں رہ رہے تھے۔ اکتوبر کی ایک صبح جب قبائلیوں نے ہمارے گاؤں کے قریب سے گزرنے والی سڑک پر اچانک گولیاں چلائیں تو ہمارے پاس کوئی چارہ نہ رہا اور میں، میرے شوہر پرتاب سنگھ اور چند دوسرے سکھ خاندانوں نے گاؤں چھوڑ دیا۔

جب ہم مظفر آباد شہر کے قریب پہنچے تو اچانک چاروں طرف سے گولیاں برسنا شروع ہوگئیں اور ایک افراتفری مچ گئی۔ اسی افراتفری کے دوران میرے شوہر مجھ سے بچھڑ گئے۔ مجھے آج تک نہیں معلوم کہ پرتاب سنگھ ساتھ ہی بہنے والے دریا کشن گنگا یا نیلم میں بہہ گئے یا قبائلیوں کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس واقعہ میں کتنے لوگ گولیوں کا نشانہ بنے، کتنے دریا برد ہوئے اور کتنے بچ گئے اور ان کے ساتھ بعد میں کیا ہوا؟

میں جان بچا کر بھاگتی ہوئی اور اپنے شوہر کی تلاش میں حیران پریشان تھی کہ میری کلائی اچانک ایک مسلمان مرد نے پکڑلی۔ میں نے کلائی چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی اور وہ مسلمان مرد مجھے اپنے گھر گڑھی حبیب اللہ لے آیا۔ اس کا نام خانی زمان تھا۔

میری والدہ، بہن اور بھائی پہلے ہی گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ شوہر کے بارے میں بھی یہی خیال تھا کہ وہ مارا گیا۔ بعد میں یہ بھی معلوم ہوا کہ میرے والد بھی گاؤں میں ہی قبائلیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، ہمارا گھر جلا دیا گیا تھا اور زمینیں آج بھی مسلمانوں کے قبضے میں ہیں۔

میں اکیلی رہ گئی تھی اور خانی زمان کے گھر پہنچنے کے کچھ ہی دنوں بعد اپنی مرضی سے مسلمان ہوگئی۔ میرا نام خورشید بی بی رکھا گیا اور یوں مجھے قسمت نے 23 سال بعد گیان کور سے خورشید بی بی بنا دیا۔

News image
میں سکھی ہوں مگر۔۔۔
 مجھے اس گھر میں کبھی کسی نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی اور میں آج تک آرام سے ہوں۔ میرے میاں کا مجھ سے بہت اچھا سلوک رہا اور سسرال اور برادری والے بھی مجھ سے بہت اچھے رہے لیکن اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ مجھے ہمیشہ ستاتا ہے۔

دو ماہ بعد میری مرضی سے میری شادی خانی زمان سے ہوگئی۔ میرے خانی زمان سے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔ 1993ء میں خانی زمان وفات پاگیا اور میرا ایک بیٹا حادثہ میں مارا گیا۔ مجھے اس گھر میں کبھی کسی نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی اور میں آج تک آرام سے ہوں۔ میرے میاں کا مجھ سے بہت اچھا سلوک رہا اور سسرال اور برادری والے بھی مجھ سے بہت اچھے رہے لیکن اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ مجھے ہمیشہ ستاتا ہے۔

مجھے برسوں تک اپنی والدہ، بہن اور بھائی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا جو 1947ء کے ہنگاموں میں مجھ سے بچھڑگئے تھے۔ گو کہ میں نے حالات سے سمجھوتا کرلیا تھا مگر میں نے اپنے بچھڑے ہوؤں کی تلاش بھی جاری رکھی اور خاموش یادوں کی چنگاریاں اس وقت بھڑک اٹھیں جب سن 1975ء میں مجھے ایک رشتہ دار کے ذریعے اپنے بھائی پنجاب سنگھ کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ بھارت کے شہر ڈیرہ دون میں ہیں۔

میں نے بھائی کا پتہ حاصل کیا اور انہیں خط لکھا اور یوں اس کے ساتھ ہی ہمارے درمیان درمیان خطوط اور تصاویر کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب مجھے بھائی کی طرف سے پہلا خط ملا تو اس روز میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ میں جدائی کے غم اور خوشی میں رو رہی تھی۔ مجھے بھائی سے معلوم ہوا کہ میری والدہ اور بہن وفات پا چکے ہیں۔ میری بہن کی بیٹی اور ان کے بچے ہیں۔

دس بارہ سال قبل بہن اور بھائی کا ٹیلیفون کے ذریعے آپس میں پہلی بار رابطہ ہوا اور ہم دونوں نے طویل عرصے کے بعد ایک دوسرے کی آواز سنی۔ جب سے اب تک ہم کئی بار ملنے کا ارادہ باندھتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے سیاسی حالات اور کچھ گھریلو مجبوریاں یہ ارادے توڑ دیتی ہیں۔

مجھے سب سے زیادہ یہ دکھ ہے کہ میں اپنی والدہ اور بہن سے نہیں مل سکی اور دونوں کا انتقال ہوگیا۔ ان سے ملنے کی حسرت تو دل میں ہی رہ گئی مگر اب زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ایک بار اپنے بھائی، بھانجی اور ان کے بچوں سے مل لوں جنہیں میں نے صرف تصویروں میں ہی دیکھا ہے۔ میں اپنے بھائی کی راہ تک رہی ہوں۔

میں بیمار رہتی ہوں اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ نہ جانے کب یہ چراغ گل ہوجائے۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ اپنے بھائی اور دیگر پیاروں سے زندگی میں ایک بار ملاقات ہوجائے۔

میری تمنا ہے کہ دونوں ملکوں امن سے رہیں کیونکہ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے بربادی کے۔ میں پاکستان کے صدر مشرف اور ہندوستان کے وزیر اعظم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ منقسم خاندانوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ ہم ایک دوسرے سے ملیں اور میری طرح دوسرے بچھڑے ہوئے لوگ آپس میں مل سکیں۔


خواشید بی بی نے اپنی یہ کہانی ہمارے ساتھی ذوالفقار علی کو سنائی۔ اگر آپ کی بھی کوئی ایسی کہانی ہے تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد