جلیانوالہ باغ سے پاکستانی کی ڈائری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
13 اپریل 1919 کا دن برصغیر کی تاریخ میں لہو کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ اس روز برطانوی حکومت کے ایک بددماغ افسر جنرل ڈائر کے حکم پر امرتسر کے ایک احاطے میں جمع شہریوں کے اجتماع پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے سینکڑوں افراد کو ہلاک اور زخمی کر دیا گیا تھا۔ اس تاریخی مقام کو دیکھنے کی خواہش عرصہ دراز سے میرے دل میں تھی۔ لیکن بھارت اور خاص طور پر امرتسر کا ویزا حاصل کرنا کسی پاکستانی کے لئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی بغاوت اور گولڈن ٹمپل پر آنجہانی اندرا گاندھی کے زمانے میں ہونے والے آپریشن کے بعد سے پاکستانیوں کو امرتسر کا ویزا نہیں ملتا، لیکن پاکستان سوشل فورم اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجو کیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کی، جو پاک بھارت تعلقات کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان پائدار دوستی کے لئے کوشاں ہیں، بدولت مجھے امرتسر کا ویزا مل گیا۔ میں جلیانوالہ باغ آٹھ سیٹر رکشہ پر پہنچا جو امرتسر شہر کے وسط میں جی ٹی روّ سے ذرا ہٹ کر گولڈن ٹمپل سے تقریباًدو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ باغ میں داخلے کے لئے تنگ سی گلی ہے لیکن پاکستان کے پارکوں کی طرح کوئی داخلہ ٹکٹ نہیں۔ یہ قومی یادگار ہے اور باغ میں داخل ہوتے ہی اس مقام سے واسطہ پڑتا ہے جہاں کھڑے ہو کر جنرل ڈائر نے فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پر ’شعلہ آزادی‘ ہے۔ یہ شعلہ ہندوستانیوں کو اس سانحہ اور انگریزوں سے آزادی کے لئے ادا کردہ قیمت کی یاد دلانے کے ساتھ ساتھ ان میں آزادی برقرار رکھنے کا جذبہ بھی بیدار رکھتا ہے۔ باغ کے ایک کونے میں یادگاری مینار ہے جو سرخ اینٹوں سے اشوکا چکر کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ یہ جدید تعمیر اور پورا ماحول 1919 کے اس سانحے کی یاد دلاتا ہے جس میں سینکڑوں افراد صرف ایک جنرل کی خواہش اور تسکین کے لئے اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔
اس کمپاؤنڈ میں اب بھی جگہ جگہ ان گولیوں کے نشانات محفوظ ہیں جنہوں نے انسانی سینوں اور جسموں کو چھلنی کر دیا تھا۔ کمپاؤنڈ کے وسط میں سرخ اینٹوں سے بنا محراب نما کمرہ ہے جس کی دیواریں اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔ باغ کے چاروں اطراف اونچے مکانات ہیں جن کی دیواروں پر بھی گولیوں کے لاتعداد نشانات موجود ہیں جنہیں آزادی سے پہلے کی سیاسی بےچینی کے باعث ختم نہیں کیا جا سکا تھا لیکن آزادی کے بعد بھارتی حکومت نے اس جگہ کو قومی یادگار قرار دے کر گھروں کی بیرونی حالت کو جوں کا توں رکھنے کی خاطر ہر قسم کی مرمت پر پابندی عائد کر دی۔ واقعات کے مطابق 13 اپریل کو بیساکھی سے پہلے جنرل ڈائر نے شہر میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم خالصہ کمیٹی نے سکھوں کو جلیانوالہ باغ میں جمع ہونے کی ہدایت کی تاکہ اس تہوار کو حسب سابق اجتماعی طور پر منایا جا سکے۔ 13 اپریل کو شام ساڑھے چار بجے تک امرتسر اور گرد و نواح سے تقریباً پندرہ سے بیس ہزار تک افراد باغ میں جمع ہو چکے تھے۔ پانچ بج کر پندرہ منٹ پر جنرل ڈائر نے پچاس فوجیوں اور دو آرمرڈ گاڑیوں کے ساتھ وہاں پہنچ کر کسی اشتعال کے بغیر مجمع پر فائرنگ کا حکم دیا۔ اس حکم پر عمل ہوا اور چند منٹوں میں سینکڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لاتعداد لوگوں نے باغ کے کونے میں بنے ہوئے کنویں میں چھلانگیں لگائیں تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں لیکن ان پر بھی فائرنگ کر دی گئی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کنویں سے ایک سو بیس لاشیں نکالی گئیں اور باقی نہ نکالی جا سکیں۔ فائرنگ بیس منٹ جاری رہی جس کے بعد جنرل ڈائر اور ان کے ماتحت فوجی واپس روانہ ہو گئے۔ اس دوران تھری ناٹ تھری کے 1650 راؤنڈ فائر کئے گئے۔ جنرل ڈائر کے اندازے کے مطابق فائر کی گئی چھ گولیوں میں سے ایک گولی جانلیوا ثابت ہوئی۔ جنرل کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد دو سو سے تین سو تھی جبکہ برطانوی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تین سو اناسی اور زخمیوں کی تعداد بارہ سو تھی۔
تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار اس کے برعکس ہیں۔ پنڈت مدن موہن مالویہ کا، جنہوں نے اس واقعہ کے فوراً بعد امرتسر پہنچ کر اپنے ساتھیوں کی مدد سے اعداد و شمار جمع کئے، کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی۔ اتنے بے گناہ لوگوں کی جان لینے والا جنرل ڈائر خود بھی ایک المناک انجام سے نہ بچ سکا اور 13 مارچ 1940 کو اودھم سنگھ نامی ایک سکھ نے اسے لندن جا کر کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ 1920 میں جلیانوالہ باغ کو پانچ لاکھ ساٹھ ہزار چار سو بیالیس روپے میں خرید لیا گیا لیکن برصغیر کی آزادی تک یہاں یادگار تعمیر نہ کی جا سکی۔ آزادی کے فوراً بعد اس یادگار کی تعمیر شروع ہوئی جو 1961 میں مکمل ہوئی جس پر سوا نو لاکھ روپے خرچ اٹھا اور اسے شعلہ آزادی کا نام دیا گیا اور اس کا افتتاح ڈاکٹر راجندر پرشاد نے کیا جو جمہوریہ بھارت کے پہلے صدر تھے۔ مرکزی یادگار کی انچائی تیس فٹ ہے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ، جدید انسانی تاریخ اور آزادی کی تحریکوں کا سب سے المناک واقعہ ہے جو حکمرانوں کی سنگدلی اور تنگ نظری کا مظہر بھی ہے۔ جلیانوالہ باغ کا پورا ماحول اب بھی بنا پوچھے، خاموشی سے تمام داستان بیان کر دیتا ہے۔ میرے اندر اب بھی ایک سناٹا موجود ہے، کنویں سے آنے والی خاموش صدائیں اب بھی میرا پیچھا کرتی ہیں اور یہ سوال پوچھتی ہیں کہ کیا ہم غریبوں کو طاقتور کے ظلم و جبر سے نجات دلا سکیں گے۔ شاید ایسا کبھی ہو پائے لیکن فی الحال ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ڈائر نہ سہی جنرل تو اب بھی ہم پر حکمران ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||