BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 February, 2004, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عورت: حقوق کتابوں کی حد تک‘

شاہدہ اکرم
شاہدہ اکرم
حدود آرڈیننس جیسے بہت سے قانون بنے ہیں لیکن لگتا ہے ان پر عمل درآمد صرف اور صرف کاغذ پر ہی ہوا ہے۔ ازل سے لیکر آج تک جو بھی حالات ہوئے ہوں ہمیشہ ہی ہر وقت عورت کو ہی تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ہے، خواہ وہ اسلام سے پہلے کے واقعات ہوں یا بعد کے۔ جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں عورت کو اسلام میں بہت حقوق دیے گئے ہیں لیکن صرف وہی بات ہے: کتاب کی حد تک۔

کاروکاری سے لیکر حدود آرڈیننس تک ایک ہی بات ہے، جہاں جہاں اور جس جس جگہ مرد کو موقع ملا ہے، ڈنڈی ہی ماری گئی ہے۔صرف ایک بات بتائیں: کیوں عین نکاح کے وقت اس کے ہاتھ میں کاغذات پکڑا دیے جاتے ہیں، جب سر پر ماں، باپ، بھائی، ماموں، چاچے کھڑے ہوتے ہیں؟

میں صرف یہی کہوں گی کہ عورتوں کو حدود آرڈیننس کا فائدہ گزشتہ پچیس سالوں میں کچھ نہیں ہوا اور اگلے پچیس سالوں میں بھی کچھ نہیں ہوگا۔ صرف اور صرف اس کا فائدہ ایسے لوگوں کو ہوا ہے جو مجرمانہ کارروائیوں میں بڑے دھڑلے سے شامل ہوتے ہیں اور ہم آپ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔

کیا کاروکاری کا مطلب ہمیں، آپ کو، سب کو نہیں پتا؟ سب کو پتا ہے۔ ہم سب اس معاشرے میں رہتے ہیں، کیا کسی بھی الہامی کتاب میں ذکر ہے کاروکاری کا؟ لیکن سب جانتے ہیں، پھر بھی یہ سب کچھ ہورہا ہے۔

آج ایک شائستہ کی کہانی سامنے آئی ہے، ایسی بہت سی شائستہ ہونگی اور ہیں جو اس حدود آرڈیننسن کے قانون کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں۔ کوئی بچا سکتا ہے شائستہ کو؟ طلاق کے سیاہ داغ سے وہ بیچاری اپنی جان بچاتی پھر رہی ہے اور یہ تو ایک ہی کہانی سامنے آئی ہے، ایسی نہ جانے کتنی انکہی کہانیاں ہونگی اور ہیں جو سینوں میں ہی دفن رہ گئی ہیں۔

کتنی جیلوں کی کال کوٹھریوں میں منتظر ہیں سزا پانے کو یا اپنے ناکردہ جرموں سے رہائی پانے کی منتظر ہیں، جن میں اکثر ان کے اپنے باپ، بھائی اور قبیلے والوں کی غیرت گوارہ نہیں کرتے اس بات کو جس کو خود اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے یعنی نکاح میں اپنی مرضی شامل ہونا کیا قرآن کی بات کو بھی اب نعوذ بااللہ غلطی قرار دینے والے ہوگئے ہیں۔

جو دین آج سے چودہ سو سال پہلے مکمل شریعت لیکر ہمارے لئے آیا تھا کہ چار گواہ ہوں اور نکاح جائز ہے تو حد کیسے لگ سکتی ہے؟ پھر آئے دن ہونیوالے عصمت دری کے واقعات کی صرف اور صرف سزا موت ہونی چاہئے۔ قرآن کی روشنی میں جو سزا اللہ نے تجویز کی ہے اتنی تنظیمیں بنیں لیکن کیا مائی مختاراں کے ساتھ ہونیوالے واقعات کا کوئی سدباب ہوسکا ہے؟

کیا اس کے بعد ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا؟ بہت کچھ ہوا، ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا اور بہت سی ایسی ان کہی باتیں ہیں جو شریف ماں باپ نے سینوں میں دفن کرلی ہیں یا بدنصیب لڑکیوں نے کسی کو بھی ہوا نہیں لگنے دی اور خود ذہنی انتشار کا شکار ہوگئیں۔ کچھ فرق نہیں پڑا۔

پہلے پیدا ہوتے ہیں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، آج ذرا بڑا کرکے دفنایا جاتا ہے۔ افشین مسرت کی مثال کوئی بہت پرانی نہیں ہے۔ کیا حد لگائیں گے آپ اس پر؟

پھر کیا خیال ہے آج بھی میری رائے شائع نہیں کریں گے نا؟ لیکن میں پھر بھی لکھتی رہوں گی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد