BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 March, 2004, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انیس سوچوّن کا کرکٹ میچ

News image
پریتم سنگھ
ایک زمانہ ہوا کہ میں لاہور شہر میں 63 مونٹگمری روڈ پر رہائش پذیر تھا، لیکن برصغیر کی تقسیم کے کچھ عرصہ پہلے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے باعث میرے والدین نے بھارت کے پہاڑی مقام دیرہ دون ہجرت کر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ خطے میں دوبارہ امن قائم ہو جانے کے بعد لاہور واپسی اختیار کی جا سکے۔ لیکن ہمیں کبھی یہ گمان ہی نہ گزرا تھا کہ ہم کبھی واپس نہیں آ سکیں گے۔

امرتسر میں میڈیکل کے دورِ طالب علمی کے دوران ہم نے سنا کہ بھارتی ٹیم 1954 - 1955 کی کرکٹ سیریز کھیلنے پاکستان کے دورے پر جا رہی ہے۔ میں یہ سنہرا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا کیونکہ میں ٹیسٹ میچ دیکھنے کے علاوہ لاہور بھی جانا چاہتا تھا تاکہ وہ شہر دیکھ سکوں جس سے مجھے شدید محبت تھی اور جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔

امرتسر میں میڈیکل کالج میں پڑھنے والے میرے کئی ساتھی بھی لاہور جانے کو تیار ہو گئے اور ہم نے ایک کوچ کا بندوبست بھی کر لیا۔ اس وقت میرے پاس پاکستان کا ویزہ بھی نہیں تھا۔

جب ہم لوگوں نے واہگہ بارڈر پار کیا تو ہم سب بہت خوش تھے اور قطعاً ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ ہم کسی پرائے ملک میں ہیں۔ ہم سے تمام لوگوں کا رویہ بھی بہت اچھا تھا اور سرحد پر واقع چیک پوائنٹ پر بھی ہمیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

لاہور پہنچ کر ہم لوگ کِنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ہوسٹل پہنچے جہاں میڈیکل کے طلباء نے ہمارا خوب خیرمقدم کیا۔ ہم پانچ روز تک اسی ہوسٹل میں مقیم رہے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ میرے والد بھی دورِ طالبعلمی میں اسی ہوسٹل میں رہ چکے تھے۔

ہوسٹل میں تازہ دم ہونے کے بعد ہم میں سے چار لوگ باہر نکل کھڑے ہوئے۔ شہر میں لوگوں نے ہمیں خاصی حیرت سے دیکھا۔ میں واحد سکھ تھا جو انہیں پگڑی باندھے سڑک پر نظر آرہا تھا۔ لوگ مُڑ مُڑ کر ہمیں دیکھ رہے تھے اور کچھ عورتوں نے تو دیکھنے کے لئے اپنے نقاب تک الٹ ڈالے۔

ان کے لئے لاہور کی سڑکوں پر ایک سکھ کا آزادانہ گھومنا خاصا حیران کن منظر تھا۔ ہم مال روڈ پر اسمبلی ہال تک گئے اور وہاں سے پیدل ہی چلتے ہوئے لارنس گارڈن (اب جناح گارڈن) پہنچ گئے۔ ہم ابھی لارنس گارڈن دیکھ ہی رہے تھے کہ پولیس کی ایک جیپ آپہنچی۔ اس خدشے کے تحت کہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچے وہ ہمیں واپس ہوسٹل چھوڑ گئے۔

ایک دن میں اپنے گھر کو دیکھنے گیا جہاں ہم رہا کرتے تھے۔ وہاں اب چند خاندان بس چکے تھے۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور خاصی مہمان نوازی کی۔ ان میں سے کچھ بعد میں امرتسر بھی مجھ سے ملنے آئے۔ میں منٹگمری پارک بھی گیا جہاں میں ہاکی، کرکٹ، فٹ بال اور گلی ڈنڈا کھیلا کرتا تھا۔

ہمارا قیام خاصا خوشگوار رہا۔ دونوں میڈیکل کالجوں کے طلبا نے کئی شاموں تک ثقافتی تقاریب میں شرکت بھی کی۔ ہم لوگوں نے کِنگ ایڈورڈ کالج میں چند لیکچر بھی اٹینڈ کئے۔ اس عرصے کے دوران ہم فاطمہ جناح میڈیکل کالج بھی دیکھنے گئے۔

بالآخر جب ہم لوگ میچ دیکھنے پہنچے تو میدان شائقین سے کھچا کھچ بھرا تھا اور ماحول خاصا دوستانہ تھا۔ لاہور کا ٹیسٹ میچ بھی سیریز کے باقی میچوں کی طرح برابر رہا۔

پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تین سو اٹھائیس رن بنائے جن مقصود احمد کے ننانوے اور حفیظ کاردار کے چوالیس رن شامل تھے۔ دونوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں پاکستان کے سکور میں ایک سو چھتیس رن کا اضافہ کیا۔

بھارت نے پہلی اننگز میں دو سو اکیاون رن اور دوسری اننگز میں دو وکٹ کے نقصان پر چوہتر رن بنائے۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر ایک سوچھتیس رن بنا کر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔

بھارت کے طرف سے گپتا، تہتر عشاریہ پانچ اوور میں ایک سو تینتیس رن کے عوض پانچ وکٹ حاصل کر کے کامیاب ترین باؤلر ثابت ہوئے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک موقع پر علاؤ الدین کاٹ بیہائنڈ ہوئے لیکن ایمپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔ لیکن اس کے بعد انہیں رن آؤٹ قرار دے دیا گیا جبکہ وہ اصل میں رن آؤٹ نہیں تھے۔ اس صورت حال پر علاؤ الدین سخت برانگیختہ ہوئے۔ وہ ایمپائر پر برستے ہوئے پویلین کی طرف چل پڑے اور ان کے لبوں پر یہ الفاظ تھے کہ ’جب میں آؤٹ تھا تو مجھے ناٹ آؤٹ قرار دے دیا اور جب میں ناٹ آؤٹ تھا تو مجھے آؤٹ قرار دے دیا‘۔

وہ ایک یادگار تجربہ تھا اور اس کے باعث دونوں ممالک کے عوام کو قریب آنے کا موقعہ ملا۔

پاکستان کے دیگر شہروں کا دورہ کرنے کے لئے ہمارے پاس وقت نہ تھا اس لئے ہم دوبارہ پاکستان آنے کی تمنا دل میں لئے بھارت آ گئے لیکن پاکستان جانے کا خواب پھر کبھی پورا نہ ہو سکا۔ سرحد پر کسٹم والے محض اس بات کے درپے تھے کہ کوئی بھارتی پاکستان کا قدرتی نمک ہندوستان نہ لانے پائے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد