BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 March, 2004, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کہانی: ’میت نہیں دیکھی‘
 زلیخا بی بی
زلیخا بی بی
پچیس سالہ زلیخا بی بی ایک کشمیری عسکریت پسند کی بیوہ ہیں۔ زلیخا کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت کے شمال مشرق میں واقع وادئ نیلم کے ایک دیہات شاردہ سے ہے۔ ان کی شادی کشمیری عسکریت پسند نذیر احمد سے سن 1996 میں ہوئی، جو 1993 میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آ گئے۔ لیکن وہ گزشتہ سال ستمبر میں کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں مارے گئے۔ زلیخا کو اپنے شوہر کی موت کی خبر انُ کی ہلاکت کے تقریبًا ایک ہفتے بعد بیس ستمبر کو ملی۔

ان کی کہانی ان کی ہی زبانی:

میں بیس ستمبر دوہزار تین کا دن کبھی نہیں بھول سکتی۔ میں اُس روز حسب معمول گھر میں کام کر رہی تھی کہ شام کے وقت تنظیم کے ذمہ داران جس سے میرے شوہر وابسطہ تھے ،گھر آئے اور ہمیں یہ اطلاع دی کہ میرے شوہر سات روز قبل بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اور اس واقعہ میں میرے دیور بھی شہید ہو گئے۔ میرے دیور بھی اُن کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لاش بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں اُن کے رشتے داروں کے حوالے کی اور وہاں اُن کو دفنا دیا۔

اُس دن نے میری زندگی کو یکسر بدل دیا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آج کے دن مجھے اپنے بہت پیار کرنے والے شوہر کی شہادت کی خبر ملے گی۔ اور میں شادی کے صرف سات سال بعد ہی ایک بیوہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاؤں گی۔ اور میرے بچے یتیم ہو جائیں گے۔

 میرے بڑے بچے مجھ سے اکثر پوچھتے رہتے ہیں کہ ہمارے ابو کب آئیں گے، تو اُس وقت مجھے اتنا دکھ ہوتا ہے اور میں بہت پریشان ہوتی ہوں۔ پھر ان بچوں سے کہتی ہوں کہ آپ کے ابو اللہ میاں کے پاس گئے ہیں اور وہ اب واپس نہیں آئیں گے اور اُس وقت میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔
زلیخا بی بی

وہ گزشتہ سال ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ کہہ کر گھر سے گئے کہ وہ تنظیم کے کسی کام سے کہیں جا رہے ہیں اور انہوں نے میرے پوچھنے پر بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کدھر جا رہے ہیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ آخری سفر پر روانہ ہو رہے ہیں، اور یہ ہماری آخری ملاقات ہو گی۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ وہ مقبوضہ کشمیر جا رہے ہیں تو شاید میں اُن کو روکنے کی کوشش کرتی۔

میرے شوہر نذیر احمد جن کا تعلق بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تھا سن 1993 میں اپنے والد اور دوسرے دو بھائیوں کے ہمراہ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے مظفر آباد آئے تھے۔ اور یہاں آباد ہو گئے اور وہ مختلف اوقات میں مختلف کشمیری تنظیموں سے رابطے میں رہے۔ تقریباً ہر سال تنظیمی کام سے مقبوضہ کشمیر جایا کرتے تھے۔ لیکن کچھ عرصے بعد واپس آ جایا کرتے تھے۔

لیکن جب بھی وہ مقبوضہ کشمیر گئے تو انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ وہاں جا رہے ہیں، شاید اس لئے کہ میں پریشان نہ ہو جاؤں یا ان کو روکنے کی کوشش کروں گی۔ البتہ واپس آنے پر وہ مجھے یہ بتا دیتے تھے کہ وہ مقبوضہ کشمیر گئے تھے۔ اور اس بار اُن کا سفر آخری سفر ثابت ہوا۔ کاش وہ مجھے بتا دیتے تو شاید میں روکتی لیکن قسمت کو کون ٹال سکتا ہے۔

میں نے جب اپنے شوہر اور دیور کی شہادت کی خبر سُنی تو زارو قطار رونے لگی۔ اور مجھے ایسا لگا جیسے سر پر آسمان گر گیا اور یکدم سب کچھ ختم ہو گیا اور ہنستی بستی زندگی لٹ گئی۔ گو کہ یہ فخر کی بات ہے کہ میرے شوہر شہید ہوئے، لیکن اُن کی جدائی کا بہت بڑا دکھ ہے۔ جہاں مجھے اُنکی جدائی کا دکھ ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ یہ دکھ بھی ہے کہ میں نے اُن کی میت نہیں دیکھی۔ اور نہ میں اُنکی قبر پر جا کر دُعا کر سکتی ہوں۔ اور یہ افسوس مجھے ہمیشہ رہے گا۔

 میں اب یہی چاہتی ہوں کہ کشمیر میں خون خرابہ بند ہو۔ اور واجپئی صاحب اور مشرف صاحب اس مسئلے کو مل بیٹھ کر پرامن طریقے سے حل کریں۔ تاکہ مزید عورتیں بیوہ نہ ہوں اور بچے یتیم نہ ہوں۔
زلیخا بی بی

میرے پاس صبر کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ میرے چھوٹے چھوٹے تین بچےہیں۔ اور ان معصوم بچوں کے لئے یہ دُکھ برداشت کر رہی ہوں۔ میری سب سے بڑی بیٹی ہے اور اُس کی عمر پانچ سال ہے، جبکہ ایک بیٹے کی عمر چار سال اور دوسرے کی دو سال ہے۔ ان معصوم بچوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اُن کے والد شہید ہو چکے ہیں۔ میرے بڑے بچے مجھ سے اکثر پوچھتے رہتے ہیں کہ ہمارے ابو کب آئیں گے، تو اُس وقت مجھے اتنا دکھ ہوتا ہے اور میں بہت پریشان ہوتی ہوں۔ پھر ان بچوں سے کہتی ہوں کہ آپ کے ابو اللہ میاں کے پاس گئے ہیں اور وہ اب واپس نہیں آئیں گے اور اُس وقت میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میرے بچے کمسنی میں ہی اپنے والد کی شفقت اور محبت سے محروم ہو گئے۔

میرے یہی بچے سب کچھ ہیں اور میں انہی کے لئے زندہ ہوں ان کی پرورش کرنی ہے ان کو پڑھانا لکھانا ہے۔ بچوں کی پرورش کے لئے اس صدمے کو برداشت کر رہی ہوں اور اپنے آپ کو حوصلہ دے رہی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ جب ایک عورت بیوہ ہو جاتی ہے اور بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ جاتا ہے تو زندگی کتنی مشکل ہو جاتی ہے۔ جب شوہر ہوتے تھے تو ہماری زندگی آسانی اور ہسنی گزر رہی تھی۔ ہمیں مالی پریشانی بھی کوئی نہیں تھی حکومت کی جانب سے گزارا الاؤئنس ملنے کے ساتھ ساتھ میرے شوہر مزدوری بھی کرتے تھے اور بچوں کی مناسب دیکھ بھال ہو رہی تھی۔

لیکن اُن کی شہادت کے بعد بہت ساری مشکلات ہیں۔ ہم حکومت کی جانب سے ملنے والے تین ہزار روپے گزارہ الاوئنس میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ اور میں اب خود سلائی کڑھائی کا کام بھی سیکھتی ہوں۔ لیکن بچوں کے باعث اُس طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکتی ہوں۔ میرے لئے اب سب سے بڑا مسلئہ بچوں کی تعلیم اور پرورش کا ہے ہمیں کسی جانب سے کوئی مالی مدد نہیں ملی۔

میں اب یہی چاہتی ہوں کہ کشمیر میں خون خرابہ بند ہو۔ اور واجپئی صاحب اور مشرف صاحب اس مسئلے کو مل بیٹھ کر پرامن طریقے سے حل کریں۔ تاکہ مزید عورتیں بیوہ نہ ہوں اور بچے یتیم نہ ہوں۔ ورنہ اس طرح لوگوں کے گھر اُجڑتے رہیں گے۔ معصوم لوگ مارے جاتے رہیں گے۔ عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوتے رہیں گے۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ہو سکے اس مسئلے کو حل کریں۔


نوٹ: زلیخا بی بی نے مظفرآباد میں ہمارے نمائندے ذوالفقار علی سے بات چیت کی۔ آپ اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھی بھیج سکتے ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد