تیرہ برس کی عمر میں تین شادی فارم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنے باقی دوستوں کی طرح میں بھی وڈیو گیم کھیلنے کا بہت شوقین تھا اور زیادہ وقت گیم کھیلنے پر ہی صرف کرتا تھا۔ لیکن کوئی چھ ماہ پہلے مجھے انٹرنیٹ کا پتہ چلا کہ وہاں پر بھی مخلتف قسم کی گیمز کھیلی جا سکتی ہیں۔ تب سے لے کر اب تک میں اپنے سکول اور ٹیوشن سے فارغ ہونے کے بعد زیادہ وقت انٹرنیٹ کلب میں ہی گزارتا ہوں۔ لیکن اب میں وہاں صرف گیمز ہی نہیں کھیلتا بلکہ اور بھی بہت کچھ دیکھتا ہوں۔ اور مجھے ایسے لگتا ہے کے شاید میں نے پہلے جو زندگی گزاری ہے وہ تو سب کی سب بے رنگ تھی۔ انٹرنیٹ کی مدد سے میں دوسرے ممالک میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ پول گیم کھیلتا ہوں اور اس کے علاوہ اب میں نے انٹرنیٹ پر اپنے بہت سے دوست بھی بنا لئے ہیں۔ پہلے تو میں شام کے وقت اپنے محلے کے دوستوں اور کزنز کے ساتھ کرکٹ کھیلتا تھا، لیکن اب انٹرنیٹ کی وجہ سے سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ اب میری اپنی ایک دنیا ہے ’انٹرنیٹ کی دنیا‘ اور میں اس دنیا میں بہت خوش ہوں۔ میرے والدین بھی اس بات سے بہت خوش ہیں کہ میں دنیا کی برائیوں سے بچا ہوا ہوں اور ہر وقت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں مگن رہتا ہوں۔ انٹرنیٹ پر موجود میرے اکاؤنٹ میں کافی دوست ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی ہیں جن سے میں ہر موضوع پر بات کر سکتا ہوں اور شاید ہی پچھلے چھ ماہ میں کوئی دن ایسا ہو جس دن میری اُن سے بات نہ ہوئی ہو۔ وہ سب تقریباً میرے ہم عمر ہیں میں اُن میں سے کسی کے ساتھ ذاتی طور پر تو نہیں ملا ہوں لیکن پھر بھی میں انہیں بہت مِس کرتا ہوں۔ میری پسندیدہ سائیٹز میں ’فائنڈ میچ‘ (اپنا ساتھی تلاش کریں) کی ویب سائیٹز شامل ہیں اور اب تک میں تقریباً تین میرج (شادی) فارمز پُر کر کے بھیج چُکا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ذہنی طور پر اسکے لئے تیار نہیں ہوں اور یہ سب کچھ وقت گزارنے کے لئے کر رہا ہوں، مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ انٹرنیٹ کی مدد سے میری سوچ کا دائرہ وسیع ہوا ہے جو کہ شاید اِس کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ میرے خیال میں جس طرح جسمانی قوت کے لئے کھیل کود بہت ضروری ہے اسی طرح ذہنی نشو و نما کے لئے انٹرنیٹ بھی بہت اہم ہے۔ لیکن مجھے اس بات کا کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ شاید میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ میرے والدین کی توقعات کے برعکس ہے، میں اس کا انجام تو نہیں جانتا لیکن اپنے طور پر اس کے بارے میں سوچتا ضرور رہتا ہوں۔ نوٹ: محمد عدیل نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔ آپ اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ ہم ضرور شائع کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||