کون؟ انسان، کہاں سے؟ زمین سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقریباً تین سال پہلے جب میں انٹرنیٹ سے بالکل بے خبر تھا، مجھے یہ نہایت ہی انوکھی چیز لگتی تھی۔ اور اکثر گپ شپ کے دوران جب میرے دوست ایک دوسرے کو اپنی شناخت یعنی آئی ڈی بتاتے تو میں حیران ہوتا کہ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے۔ اور پھر اسی جستجو میں ایک دن ہمت کر کے میں انٹرنیٹ کلب چلا گیا۔ کچھ معلومات تو میں نے اپنے دوستوں سے حاصل کر رکھی تھیں اور باقی کچھ انٹرنیٹ کلب پر موجود ایک اہلکار نے میری رہنمائی کر دی۔ اور اس طرح مجھے انٹرنیٹ کا چسکا پڑا۔ لیکن اب میں دن میں تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے انٹرنیٹ پر گزارتا ہوں۔ میری پسندیدہ ویب سائیٹز میں بیرون ملک یونیورسٹیوں کی سائیٹز ہیں، جن کی مدد سے میں اپنی مطلوبہ معلومات آسانی سے حاصل کر سکتا ہوں اور شاید یہ سب کچھ انٹرنیٹ کی ہی وجہ سے ممکن ہوا ہے، ورنہ میرے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ میں اتنی زیادہ معلومات کہیں اور سے حاصل کر سکتا، اور خاص طور پر دوسرے ممالک کے تعلیمی ادراوں کے بارے میں۔ اور اگر میں یہ کہوں تو حق بجانب ہونگا کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے اب پوری دنیا قدموں میں محسوس ہوتی ہے۔ بیرون ملک یونیورسٹیوں کے علاوہ میں انٹرنیٹ کی مدد سے مختلف قسم کے کمپیوٹر کے مسائل کو حل کرنے والی ویب سائیٹز کو بھی دلچسپی سے دیکھتا ہوں جن کی مدد سی نت نئی آنے والی تبدیلیوں سے اپنے آپ کو آگاہ کرتا رہتا ہوں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی اکثریت کی طرح میں بھی چیٹِنگ پر اپنا کافی وقت صَرف کرتا ہوں، میرے اکاؤنٹ میں تقریباً سو کے قریب دوست ہیں اور اُن میں سے کچھ تو میری پریشانی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ جب میں اُن سے اُن کا تعارف کروانے کے لئے کہتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم انسان ہیں اور کچھ نہیں کہتے، اور اگر اُن سے یہ پوچھوں کہ وہ کہاں رہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں زمین پر اور اِس طرح کے فضول جوابات، لیکن کیا کیا جائے ۔۔۔۔ اِسی طرح چیٹنگ کےدوران میری دوستی فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے سے ہوئی اور چند ماہ کی بات چیت کے بعد ایک روز اُس نے مجھے اپنے مسائل بتانے شروع کر دیے اور مجھ سے ایک ہزار روپے ادھار مانگے، دوستی کی وجہ سے میں نے منی آرڈر کے ذریعے اُسے یہ روپے بھیج دیے۔ لیکن اب وہ کہتا ہے کہ میں اُس سے ملنے فیصل آباد جاؤں جو ظاہری سی بات ہے میرے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ اِسی لئے میں چَیٹنگ کو ’چِیٹنگ‘ (دھوکہ دہی) کہتا ہوں۔ لیکن بحیثیت ایک نوجوان ہم لوگ اور کیا کریں؟ معاشرے میں ہر طرف ہی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن میں اپنی حد تک یہ ضرور کہوں گا کہ اب مجھے اور میری طرح کے اور بہت سے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کا سینس (سمجھ) آ رہا ہے کہ یہ چیٹنگ اور فضول کاموں کے علاوہ کچھ اور بھی ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں بھی کبھی کبھی ’چُسکی‘ لگا لیتا ہوں، یعنی وہ سائیٹز بھی ؟ انٹرنیٹ کا اور اس سے وابستہ لوگوں کا تو مستقبل نہ صرف روشن بلکہ بہت ہی شاندار ہوگا لیکن ہم جیسے نوجوان جو گھنٹوں کے حساب سے اپنا قیمتی وقت اس پر ضائع کرتے رہتے ہیں،ان کے بارے میں مجھے تشویش ضرور ہے۔ نوٹ: راشد محمود نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔ آپ بھی اپنی کہانی ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||