BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 March, 2004, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کہانی: زندگی برباد ہوئی اور ملا کیا؟

ہم سب اپنے گھر میں بہت خوش تھے۔
ہم سب اپنے گھر میں بہت خوش تھے
کشمیر میں موجودہ مسلح تحریک شروع ہونے سے پہلے میں اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی تھی۔ میرے خاوند درزی کے کام کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداری بھی کرتے تھے۔ ہماری اپنی زمین بھی ہے جس میں ہم چاول، مکئی اور سبزیاں وغیرہ اُگاتے تھے اور پھل بھی اپنے ہوتے تھے۔ گھر کی زمینیوں میں ہر چیز میسر تھی اور باہر سے ہمیں کوئی چیز نہیں خریدنی پڑتی تھی۔ زندگی بہت احسن طریقے سے گزر رہی تھی اور ہم سب اپنے گھر میں بہت خوش تھے۔

ہماری مشکلات کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب کشمیر میں موجودہ مسلح تحریک کا آغاز ہوا۔ میرے شوہر انیس سو نوّے میں ایک کشمیری عسکری تنظیم سے وابستہ ہو گئے اور اسی دوران وہ ہمیں بتائے بغیر آزاد کشمیر آئے اور ایک سال تک یہاں مقیم رہے۔ اس ایک سال کے دوران ہم ان کے بارے میں بہت پریشان رہے کہ وہ کہاں ہیں اور ہمارا اُن سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔

چونکہ میرے خاوند گھر پر موجود نہ تھے اس لئے بھارتی فوجی بھی ان کی تلاش میں ہمارے گھروں پر وقتاً فوقتاً چھاپے مارتے اور اُن کے متعلق ہم سے پوچھتے رہتے تھے۔ انیس سو نوّے میں میرے والدین، بہن اور بھائی جو دوسرے گاؤں میں رہتے تھے، بھارتی افواج کے ظلم سے تنگ آکر لائن آف کنٹرول عبور کر کے مظفرآباد آ چکے تھے۔

انیس سو اکیانوے میں جب میرے خاوند گھر واپس آئے تو مخبروں کی مدد سے بھارتی فوج کو علم ہو گیا کہ وہ گھر واپس آگئے ہیں۔ لیکن بھارتی فوج کے چھاپے سے قبل ہی میرے خاوند گھر سے نکل گئے۔ جب بھارتی فوج نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا تو انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور میرے خاوند کو وہاں نہ پا کر ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ مسلسل میرے خاوند کے بارے میں پوچھتے رہے لیکن ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔

یوں بھارتی فوج کی جانب سے آئے روز ہمارے گھر پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ چھاپے دن اور رات کو کسی بھی وقت مارے جاتے، اُن کا کوئی وقت متعین نہ تھا اور ہر بار ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ یہاں تک کہ چھاپوں کے خوف سے ہم نے اپنا گھر ہی چھوڑ دیا اور گاؤں میں مختلف لوگوں کے گھروں میں رہنے لگے اور خاوند سے ملاقات بھی کبھی کبھار مہینوں بعد ہوتی۔ ہمیں ہر طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ کھانے، پینے، پہننے کے لئے مشکلات کا سامنا تھا۔

ہم نے اپنی زندگی کے بہترین پانچ چھ سال اسی طرح دربدر گزارے۔ ایک طرف تو ہمیں اس طرح کی مشکلات کا سامنا تھا اور دوسری طرف ہمیں سن انیس سو پچانوے میں یہ افسوسناک خبر ملی کہ میری والدہ یہاں مظفر آباد میں وفات پا چکی ہیں۔ میری اپنے والدین کے ساتھ آخری ملاقات انیس سو نواسی میں ہوئی تھی۔ مجھے اپنی والدہ سے ملنے کا بہت ارمان رہا۔ سینے میں یہ دکھ آج بھی دفن ہے کہ میں ماں سے نہ ملاقات کر سکی اور نہ ہی ان کا چہرہ دیکھ سکی۔

ادھر ہم جن لوگوں کے گھروں میں رہ رہے تھے وہ بھی ہم سے تنگ آچکے تھے۔ اس بار میرے خاوند نے جب مجھ سے رابطہ کیا تو حالات کا سن کر کہا کہ یہاں مشکلات ہیں اس لئے میں تمہیں مظفر آباد چھوڑ آتا ہوں۔ یہ سن انیس سو چھیانوے کا بہار کا موسم تھا۔ ہم رات کے بارہ بجے آزاد کشمیر کے لئے اپنے گاؤں سے نکلے۔ ہم تین لوگ تھے، جن میں میرا خاوند اور میری اکلوتی بیٹی شامل تھی۔ یہ سفر انتہائی کٹھن تھا، نہ ہمارے پاس جوتے تھے نہ مناسب کپڑے تھے اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء۔ ہم نے بھوکے پیاسے جنگلی گھاس کھا کر یہ سفر جاری رکھا۔ دن کو بھارتی فوج سے بچنے کے لئےپہاڑوں اور جنگلوں میں چھپ جاتے اور رات کو اپنا سفر جاری رکھتے۔ تین دن کے سخت سفر کے بعد ہم لائن آف کنٹرول عبور کر کے آزاد کشمیر کے علاقے میں پہنچ گئے جہاں چند دن رہنے کے بعد ہم مظفرآباد آئے اور یہاں پر ہمیں کشمیریوں کے پناہ گزین کیمپ میں منتقل کیا گیا۔

میرے شوہر ہمیں یہاں چھوڑنے کے کچھ ہی عرصہ بعد واپس مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ ہم جب یہاں پہنچے تو میرے والد اور بہن بھائی بہت خوش ہوئے، لیکن میری آنکھیں میری ماں کو تلاش کرتی تھیں جو مَنوں مٹی تلے دب چکی تھی۔

ابھی میں سنبھل ہی پائی تھی کہ اسی دوران ہمیں یہ اطلاع ملی کہ ہمارے اور میرے دیور کے گھر کو بھارتی افواج نے جلا دیا ہے۔ یہ دکھوں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ اسی سال ستمبر انیس سو چھیانوے میں میرے خاوند مقبوضہ کشمیر سے ہمیں ملنے آرہے تھے کہ لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی افواج کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور شہید ہو گئے۔ ہمیں ان کی شہادت کی اطلاع اس واقعہ کے چند روز بعد اُن لوگوں کے ذریعے ملی جو اُن کے ساتھ آزادکشمیر آ رہے تھے۔

جب مجھے اپنے خاوند کی شہادت کی خبر ملی تو میری آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا اور یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری دنیا ہی لٹ گئی ہو۔ میں اور میری بیٹی رو دھو کہ چپ ہو گئے۔ کیونکہ صبر کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ میرے دل سے یہ دکھ کبھی نہیں نکلے گا کہ میں اپنے شوہر کا چہرہ نہیں دیکھ سکی۔ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ انہیں دفن بھی کیا گیا یا نہیں اور اگر دفن کیا گیا ہے تو کس مقام پر۔ میرے خاوند کہا کرتے تھے کہ میری ماؤں اور بہنوں پر ظلم ہو رہا ہے، میں دشمنوں کے خلاف لڑ کر اپنی عزت بچانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے خاوند کو روکتی تھی لیکن وہ نہیں مانتے تھے۔

ابھی میں خاوند کے ہی سوگ میں تھی کہ انیس سو ستانوے میں مجھے خبر ملی کے میرے دیور مقبوضہ کشمیر میں وفات پا گئے ہیں۔ جن دنوں میرے شوہر شہید ہوئے تھے انہی دنوں میرے دیور کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہیں ایک سال تک حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑدیا گیا۔ لیکن حراست کے دوران اُن پر شدید تشدد کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بعد میں زیادہ دن زندہ نہ رہ سکے۔

اس وقت ہم جس پناہ گزین کیمپ میں رہ رہے ہیں یہاں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے ہمیں پندرہ سو روپے گزارہ الاؤنس ملتا ہے جس پر ہم گزارہ کرتےہیں۔ کسی جانب سے ہماری کوئی مدد نہیں ہو رہی۔ یہاں تک کہ تنظیم والوں نے بھی ہماری مدد نہیں کی۔ ہم صبرو شکر کر کے دن گزار رہے ہیں۔ ہمارے پاس دو کمرے ہیں۔ محکمہ بحالیات کی طرف سے ہمیں سر چھپانے کے لئے چھت کے ٹین ملے تو وہ بھی کم تعداد میں جس کی وجہ سے ہماری آدھی چھت ابھی بھی کھلی ہے اور بارش کے دوران ٹپکتی رہتی ہے۔ محکمے سے بہت شکایات کیں، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

ایک عورت کی عزت اس کے خاوند سے ہوتی ہے، خاوند کی وجہ سے گھر آباد رہتا ہے لیکن میرا خاوند شہید ہو چکا ہے۔ میری بچی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکی۔ بچی کا کہنا ہے کہ پیٹ پالنے کے لئے وسائل نہیں ہیں جو سب سے زیادہ ضروری ہیں تو پڑھنے کے لئے ہمارے پاس وسائل کہاں سے آئیں گے۔ میں خود بھی بیمار ہوں، پریشانیوں کی وجہ سے بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے۔ اب بچی جوان ہے اس کی شادی بھی کرنی ہے لیکن جب کھانے کے لئے ہی پیسے پورے نہ ہوں، بچی کی شادی کیسے ہوگی؟ یہاں نہ سکون ہے، نہ مناسب جگہ۔ اکثر سوچتی ہوں کہ جائیداد گئی، خاوند شہید ہوا، زندگی برباد ہو گئی اور ملا کیا؟

اب ہمارا اللہ ہی ہے۔ میری بچی نے یہاں پر ہی کڑھائی سلائی سیکھی ہے۔ دعا کرتی ہوں کہ اس کی نوکری لگ جائے تاکہ زندگی کچھ آسان ہو۔ اس طرح وہ بھی اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو جائے گی۔ میں اپنے گھر میں واپس جانا چاہتی ہوں لیکن موجودہ حالات میں ہم مقبوضہ کشمیر نہیں جا سکتے۔ اپنا دیس اپنا ہی ہوتا ہے اور اپنا گھر ہی جنت ہوتی ہے۔ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا ہے اور وہاں امن ہو جاتا ہے تو ہم واپس جائیں گے۔ کیونکہ وہاں ہماری زمین ہے اور جائیداد ہے۔ میں اپنی بیٹی کی شادی بھی کشمیر میں اپنے رشتہ داروں میں کرنا چاہتی ہوں۔ میں یہاں آزادکشمیر مظفر آباد میں اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ اللہ کرے کہ کشمیر کے مسئلہ کا کوئی حل ہو وہاں امن ہو اور خون خرابہ بند ہو۔ ہمارے واپس جانے کا کوئی بندوبست ہو تاکہ اپنے وطن واپس جا کر سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔ ہم نے بہت دکھ سہہ لئےہیں اب مزید دکھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔


نوٹ: شمیم بی بی کا تعلق بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے ہےاور اب وہ مظفرآباد میں پناہ گزینوں کے ایک کوارٹر میں رہتی ہیں۔ اُن کے گاؤں کا نام اسلئے نہیں دیا گیا تاکہ اُن کے باقی ماندہ خاندان کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اسی لئے ان کے خاوند کا نام بھی نہیں دیا گیا۔ شمیم نے اپنی کہانی مظفرآباد میں ہمارے نمائندے ذوالفقار علی کو سنائی۔ آپ اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھی بھیج سکتے ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد