BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 February, 2004, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سب پروپیگنڈہ ہے

جامع مسجد آڈھ کے مولانا جلیل
جامع مسجد آڈھ کے مولانا جلیل
آج امریکہ اور برطانیہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں، یہ سب ایک ڈرامہ ہے جس میں پاکستان بھی ملوث ہے۔ ان کو جن لوگوں سے خطرہ ہوتاہے ان پرالقاعدہ اور طالبان کا لیبل لگاکر گوانتاموبے کے زندانوں میں بند کردیتے ہیں۔ طالبان کی حکومت صحیع معنوں میں ایک اسلامی حکومت تھی لیکن بدقسمتی سے مسلمان ممالک کی غداری کے باعث ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اسلامی ملیشیا کے خاتمے کے بعد افغان عوام متنفر ہوچکے ہیں۔ وہاں پر اب امن کا فقدان ہے، ہر ایک لیڈر کی اپنی فوج ہے اور صدرکا اختیار صدارتی محل تک محدود ہے۔ کرزئی حکومت اور امریکی افواج کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے ان میں طالبان ملوث نہیں ہیں یہ سب پروپیگنڈہ ہے۔

جب سے بش اور بلیئر آئے ہیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اختلافات بڑھے ہیں۔ آج مسلمانوں اور مغربی دنیا کے مابین نفرت کی آگ بھڑک رہی ہے۔ بیس سال پہلے یہ حالات نہیں تھے۔ اسلام ایک اعتدال پسند اور امن پسند مذہب ہے جو جنگ وجدل کے بالکل خلاف ہے۔ مسلمان بھی آج برائےنام مسلمان رہ گئے ہیں، انہیں دنیا کے ہر محاذ پر مشکلات نے گھیرا ہواہے اور وہ ایک بڑے امتحان سے گزرہے ہیں۔ اگر وہ اس پر صبر کرینگے تو اللہ تعالی ایک نہ ایک دن انہیں ضرور سرخروکرےگا۔

میں زندگی میں دودفعہ جیل جا چکا ہوں- پہلی دفعہ انیس سو ستتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک میں چاردن جیل میں رہا اور دوسری دفعہ انیس سو ستانوے میں جب ہنگو میں شعیہ سنی فسادات ہوئے تو میں نے تئیس گھنٹے جیل میں گزارے۔

میری زندگی میں کئی واقعات پیش آئے لیکن انیس سو اٹھانوے میں ضلع ہنگو میں جو شیعہ سنی فسادات ہوئے انہیں میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ایک چھوٹی سی بات پر پچاس لوگ مارے گئے اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ فسادات ایک سازش کا نتیجہ تھے جس میں غیر ملکی ایجنٹ اور بعض مقامی تاجر ملوث تھے۔ اس واقعہ کے بعد کئی خاندانوں نے ہنگوسے نقل مکانی کرکے دوسرے شہروں میں رہائش اختیار کرلی۔

دوہزار ایک میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس نوعیت کے فسادات میں بعض غیر معروف قسم کےشرپسند ملوث ہیں جو نہیں چاہتے کہ ہنگو میں امن ہو۔ انہی واقعات کی وجہ سے ہنگو کے تجارت پر اتنا منفی اورگہرا اثر پڑا ہے کہ تاجر حضرات ابھی تک مشکلات سے دوچار ہیں- دو ہزار ایک میں جو فسادات ہوئے تھے ان میں تو بعض سرکاری اہلکار بھی ملوث پائے گئے تھے۔ حکومت کو چاہیے کہ دونوں فرقوں کے مشیران کو اعتماد میں لے اور ایک ایسی پرامن فضا قائم کرے کہ سازشی عناصر کا قلع قمع ہو۔

میری کوئی بڑی خواہش نہیں ہے۔ لوگوں کی بڑی خواہشات ہوتی ہیں۔ بنگلے بنانا، گاڑیاں رکھنا وغیرہ لیکن یہ عارضی زندگی ہے۔ ہم سب سفر میں ہیں۔ ہماری اصل منزل تو آخرت ہے اس لئے سوچتا ہوں کہ جب مسافر ہی ہیں تو پھر اس دنیا کےلئے اتنی تیاری کیوں؟

میرا تعلق صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو سے ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ سراج الاسلام، کاہی سے حاصل کی۔ دو سال کوہاٹ میں رہا، پھر مزید تعلیم حاصل کرنے ملتان گیا اور وہاں سے قاسم العلوم کی ڈگری حاصل کی۔ انیس سو بانوے میں جامع مسجد آڈھ میں درس کی شاخ کھولی اس کے علاوہ جامعہ عثمانیہ کے نام سے اورکزئی ایجنسی میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ میں نے اکتیس مارچ انیس ستانوے میں گھر کے ساتھ واقع عمارت میں جامعہ فیض العلوم کے نام سے مستورات کا ایک مدرسہ کھولا۔ اس وقت کوئی دو سو کے لگ بھگ خواتین میرے مدرسے میں پڑھ رہی ہیں جن میں بچوں کے علاوہ شادی شدہ عورتیں بھی شامل ہیں۔ ان مدرسوں میں دینی اور اخلاقی تعلیم دی جاتی ہے۔

ہمارے علاقے میں مدرسے عوام کے تعاون سے چلتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں حکومت سے کسی قسم کی ضرورت نہیں اور نہ ہم ان کے پابند ہیں۔ یہ مدرسے عوام اور علماء کرام کے تعاون اور مشوروں سے چل رہے ہیں۔ اس وقت مستورات کے بائیس مدرسے ہماری نگرانی میں کام کررہے۔ ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے علماء کرام پر مشتمل ہماری ایک کمیٹی ہے جو ان دینی مدارس کا انتظام چلاتی ہے۔ ہم خواتین کی تعلیم کے بالکل خلاف نہیں۔ عورتوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا اتناہی حق حاصل ہے جتنا کہ مردوں کو لیکن یہ سب کچھ دائرہ اسلام کے اندر رہ کر ہونا چاہیے۔

میں نے کئی ممالک کے دورے کیے ہیں۔ میں دوبئی، ابوظہبی، کویت، سعودی عرب، ایتھوپیا اور دوسرے کئی خلیجی ممالک جاچکاہوں۔ انیس سو اکیانوے میں ابوظہبی گیا تو وہاں تین ہزار درھم کی نوکری کی پیش کش ہوئی لیکن میں نے ٹھکرادی۔ لوگوں کے زیادہ تر پیسے علاج معالجے پر خرچ ہوتے ہیں لیکن الحمداللہ میرے گھر میں ابھی تک کوئی ایسی بڑی بیماری نہیں آئی جس پر زیادہ پیسے خرچ ہوئے ہوں۔ میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں۔ آج مجھے دنیا کی ہر نعمت حاصل ہے،میں نے زندگی میں ہر وقت خدا پر توکل کیا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا۔ بس صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ جب میں مدرس ہوا تو میری کل تنخواہ پانچ سو روپے مقرر تھی جس میں سے میں تین سو روپے کوارٹر کا کرایہ ادا کرتا تھا۔ اس کے برعکس آج میری تنخواہ بارہ ہزار روپے کے لگ بھک ہے لیکن ہر طرف سے قرضوں میں جکڑا ہوا ہوں۔


نوٹ:مولانا محمد جلیل اورکزئی نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں، ہم ضرور شائع کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد