BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 March, 2004, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اندھیرے کا سفر: روشنی پھیلانے والا

حافظ افتخار احمد خان
حافظ افتخار احمد خان
یقین نہیں آتا کہ میں اب تینتیس سال کا ہو چکا ہوں جن میں سے زیادہ تر میں نے اندھیرے ہی میں گزارے ہیں۔ پانچویں جماعت تک میری بینائی ٹھیک تھی اور میں بھی گاؤں میں عام بچوں کی طرح اپنی زندگی موج سے گزار رہا تھا لیکن اُس کے بعد سے میری بینائی میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ مجھے رات کے وقت کچھ دکھائی نہ دیتا۔

میرے والدین اپنے تئیں جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے کیا۔ وہ مجھے بہت سے آنکھوں کے ماہرین کے پاس لے کر گئے لیکن روشنی تو شاید مجھ سے روٹھ چکُی تھی۔ پھر ایک دن کسی نے ہمیں بتایا کہ اسلام آباد میں واقع ایک غیر سرکاری تنظیم کے ہاں، جو بینائی سے محروم افراد کے لئے کام کر رہی ہے، جرمنی سے آنکھوں کےماہرین آئے ہوئے ہیں۔ ایک اور امید لئے ہم وہاں چلے گئے۔ انہوں نے میرے خون کے بہت سے ٹیسٹ کئے اور جب میرے خون کے ٹیسٹوں کی رپورٹ آ گئی تو وہ میرے گاؤں آئے لیکن ان کے پاس کوئی اچھی خبر نہیں تھی انہوں نے کہا کہ اس وقت آنکھوں سے متعلق دنیا میں چند ایک ایسی بیماریاں ہیں جن کا کوئی علاج نہیں دریافت ہو سکا ہے اور میری بیماری بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

اس خبر نے تو ہماری آس ہی توڑ دی اور مجھے یقین ہو چلا کہ اب میں کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ لیکن میں نے اُسی لمحے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ مجھے اب ہمت کرنی ہے، اس اندھیرے سے باہر آنا ہے اور اپنے اندر کی روشنی میں جینا ہے۔ مجھے راہ دیکھانے والا کوئی نہیں تھا۔ میرے گاؤں والوں کے پاس میرے لئے ہمدردی کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور اُن کے نزدیک یہ طے تھا کہ اب میں نے اپنی باقی ماندہ زندگی گاؤں ہی میں بھیڑ بکریوں کے ساتھ گزارنی ہے۔

ایک دن ہمارے گاؤں میں ماہ رمضان میں شبینہ کی محفل سجی تو میرے دل میں خیال آیا کہ میں بھی قرآن حفظ کروں۔ میں نے اپنے گھر والوں سے جب اپنے ارادے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ شاید میرے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں اپنے ماموں کے پاس اٹک شہر جانا چاہتا ہوں، انہوں نے مجھے اجازت دے دی۔ شہر میں آنے کے بعد بجائے ماموں کے گھر جانے کے ایک مدرسے میں چلا گیا اور اُن سے اپنی قرآن حفِظ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اُن کا جواب بھی میرے گھر والوں سے مخلتف نہیں تھا، انہوں نے کہا اگر میری دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے تو میں کچھ دینی مسائل کے بارے میں علم حاصل کر لوں لیکن میں بَضد تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے صرف چند دن دے دیں اگر میں قرآن پاک کو زُبانی یاد نہ کر سکا تو یہاں سے چلا جاؤں گا۔ اس شرط پر انہوں نے مجھے مدرسے میں داخلہ دے دیا۔

ہمتِ مرداں، مددِ خدا
 میں نے ان سے کہا کہ مجھے صرف چند دن دے دیں اگر میں قرآن پاک کو زُبانی یاد نہ کر سکا تو یہاں سے چلا جاؤں گا۔ اس شرط پر انہوں نے مجھے مدرسے میں داخلہ دے دیا۔

جلد ہی میں نہ صرف وہاں رہنے میں کامیاب ہوگیا بلکہ اپنی کارکردگی کی وجہ سے اپنے اساتذہ اور ساتھی طالبعلموں کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ جب میں پہلا پارہ حفظ کرنے کے بعد گھر گیا اور اُنکو یہ نوید سنائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور میری خوب ہمت بندھائی۔

اب میں ماشااللہ حافظِ قرآن ہوں اور ایک مدرسے میں بہت سے بچوں کو پڑھا رہا ہوں۔ گو کہ میں روشنی سے محروم ہوں لیکن بہت سے بچوں تک علم کی روشنی پہنچا رہا ہوں۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اگر میری بینائی نہیں ہے تو اللہ تعالٰی نے مجھے اور بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ میری یاداشت بہت بہتر ہے اور میری حِس سماعت بھی بہت اچھی ہے۔ میں لوگوں کو انکی شکل وصورت سے نہیں بلکہ ان کی آوازوں سے یاد کرتا ہوں۔ مجھے کبھی بھی اپنے کام کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی اور میرے اوقاتِ کار بھی عام لوگوں سے بہتر ہیں۔ میں صبح چار بجے سے رات دس بجے تک مصروف رہتا ہوں اور صرف ظہر سے لے کر عصر تک آرام کرتا ہوں۔

میں ایک عام آدمی کی سی طرح زندگی گزار رہا ہوں، میرا ایک پانچ سال کا بیٹا ہے جو بالکل نارمل ہے۔ میں کسی محرومی کا شکار نہیں ہوں۔ اگر میں ہمت نہ کرتا تو محتاج ہوتا اور نابینا کہلاتا لیکن اب معاشرہ میری عزت کرتا ہے۔ مجھے ایک استاد کا درجہ حاصل ہے، یعنی لوگوں تک روشنی پھیلانے والا، نہ کہ روشنی سے محروم۔

نوٹ: یہ آپ بیتی عبدالشکور نے اٹک میں ہمارے نمائندے محمد اشتیاق کو رقم کروائی۔ اگر آپ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں یا کبھی رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد