BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیکن اپنا ملک اپنا ہوتا ہے

News image
محمد آرحم اللہ
میں، میری تین بہنیں اور دو بھائی پاکستان میں پیداہوئے۔ میری عمر سترہ سال ہے اور میں نے ابھی تک اپنا ملک افغانستان نہیں دیکھا۔ ہم نے تقریباً بیس سال پہلے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ والد صاحب کہتے ہیں کہ جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تووہ ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ ہمارا تعلق افغانستان کے مشرقی صوبہ کنڑ سے ہے۔ ہم کل نو بہن بھائی ہیں۔ دو بہنوں کی شادی ہوچکی ہے جبکہ میں بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔

ہم گزشتہ دو سالوں سے شلمان کیمپ میں رہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے ہم جلوزئی کیمپ پشاور میں تھے لیکن جب وہ بند ہوا تو ہم نے یہاں آکر ڈیرے ڈال دیئے۔ اس کیمپ میں اکثریت ایسے مہاجرین کی ہے جو طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد جنگ کی وجہ سے یہاں آ کر آباد ہوئے۔

جب یو این ایچ سی آر نےشلمان کیمپ بند کرنے اعلان کیا تو والد نے فیصلہ کیا کہ افغانستان کے حالات میں بہتری کے سبب ہمیں اپنے ملک واپس جانا چاہئے اور ہم اپنی مرضی سے واپس جا رہے ہیں۔ ہم سے پہلے جو رشتہ دار افغانستان گئے ہیں ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہاں تعمیراتی کام جاری ہیں اور حالات تیزی معمول پر آرہے ہیں۔

اپنا ملک اپنا ہوتا ہے
 مجھے شدت سے واپس جانے کا انتظار ہے۔ بلاشبہ پاکستان بہت اچھا ملک ہے۔ اس نے ہمیں پناہ دی اور ایک آزاد اور پرامن ماحول میں ہماری پرورش ہوئی لیکن اپنا ملک اپنا ہوتا ہے۔

مجھے شدت سے واپس جانے کا انتظار ہے۔ بلاشبہ پاکستان بہت اچھا ملک ہے۔ اس نے ہمیں پناہ دی اور ایک آزاد اور پرامن ماحول میں ہماری پرورش ہوئی لیکن اپنا ملک اپنا ہوتا ہے۔

واپس پہنچ کر ہم ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ سنا ہے کہ افغانستان کے دیہاتی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہے البتہ شہری علاقے قدرے بہتر ہیں۔ اسامہ بن لادن اور ملامحمد عمر کو پکڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں- اسامہ کی وجہ سے افغان عوام نے بہت مشکلات اٹھائی ہیں اور کئی بےگناہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ قصور کس کا ہے اور مر کون رہا ہے؟

لیکن ان سب باتوں کے باوجود مجھے اپنے ملک جاتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا۔ میں اب اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوں۔ میں محنت مزدوری کروں گا اور سنا ہے کہ پوست کے کھیتوں میں اچھی مزدوری ملتی ہے۔

مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا لیکن ہوش سنبھالا تو ہر طرف مصائب اور مشکلات پائے۔ شائد قدرت کو یہی منظور تھا۔ میں تو تعلیم حاصل نہ کرسکا لیکن اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کو ہر حالت میں تعلیم دلواؤں گا۔

شلمان کیمپ میں ہمیں یواین ایچ سی آر کی جانب سے ہر ماہ باقاعدہ امداد ملتی رہی ہے لیکن اس سے کام نہیں چلتا تھا اس لئے مجھے اور میرے والد کو گزر اوقات کے لئے محنت مزدوری کرنی پڑی۔

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین نے گزشتہ پچیس برس میں مشکلات اور مسائل کے سوا کچھ نہیں دیکھا اور وہ ’خوشی‘ نام کی چیز سے بےبہرہ ہیں۔

ہم افغانستان لوٹ تو رہے ہیں لیکن اس بات کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا کہ اب وہاں حالات ٹھیک رہیں گے۔



نوٹ:محمد آرحم اللہ نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد