 |  سلیمان الخطیب انٹارکٹک میں |
سلیمان الخطیب ایک فلسطینی نوجوان ہیں جو اسرائیلی اور فلسطینی نوجوانوں کے اس گروپ میں شامل تھے جنہیں یروشلم میں واقع شیمون پیریز مرکز برائے امن کے ایک خصوصی پروگرام ’بریکِنگ دی آئیس‘ کے تحت انٹارکٹک لے جایا گیا تھا تاکہ وہ سیاست سے دور اسرائیلی اور فلسطینی تنازعے کے بارے میں کھلے دماغ سے بات چیت کرسکیں۔ سلیمان الخطیب کی عمر بتیس سال ہے اور وہ فلسطینی انتظامیہ کے زیرکنٹرول دیہات حجمہ کے باشندے ہیں جو یروشلم اور رملہ کے درمیان واقع ہے۔ انہوں نے آپ کی آواز کے لئے ہمارے نمائندے ہرندر مشرا سے گفتگو کی۔ اپنے انٹارکٹک مِشن کے بارے میں: ’انٹارکٹک کے سفر پر ہمیں اس بات کا موقع ملا کہ ہم سیاسی مداخلت کے بغیر کھلے طور پر اسرائیلیوں کے ساتھ تمام معاملات پر بات چیت کرسکیں۔۔۔۔ لیکن تنازعے کے بارے میں خیالات کا تبادلہ مشکل حصہ تھا۔ مجھے تعجب ہوا کہ اس گروپ میں میں واحد شخص تھا جسے اس بات پر یقین تھا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لئے ایک ساتھ جینا ممکن ہے، باقی ہر شخص نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ ایک غیرحقیقی سوچ ہے۔ ’میں ملے جلے تاثرات کے ساتھ واپس آیا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس سفر کے تجربات کو کیسے بیان کروں۔ کبھی بھی تو بحث و مباحثہ اتنا سنگین ہوگیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا مشکل ہوگیا، پھر بھی ہم لوگ اس دوران ایک ساتھ رہنے کی کوشش میں کامیاب رہے۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے درمیان تمام اختلافات کے باوجود کچھ ویسا ہی یہاں بھی ہو۔‘ ’(اسرائیلی جیلوں میں میری قید کے وقت) میری فیملی کے خلاف تمام طرح کی مشکلات پیدا کی گئیں، لیکن میں یہ سب بھولنے کے لئے تیار ہوں۔ ایک اسرائیلی لڑکی نے جو ہمارے ساتھ انٹارکٹِک مِشن میں شامل تھی اور جس کا نام یارڈین ہے، بتایا کہ اس کی ماں ڈری ہوئی تھی اور اسے اس مِشن پر بھیجنے کیلئے تیار نہیں تھی کیونکہ اس کی ماں کو بتایا گیا کہ اس سفر میں دو فلسطینی ایسے ہیں جو اسرائیلی جیلوں میں رہ چکے ہیں۔ لیکن یارڈین میری دوست بن گئی اور اب بھی ہمارے درمیان رابطہ ہے۔‘ اپنی قید کے بارے میں: ’میں ایک اسرائیلی فوجی پر قاتلانے حملے کے لئے دس برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید تھا۔ اس وقت میری عمر چودہ سال تھی۔ میں نے اس دوران ان کے تمام جیل دیکھے اور ان کی زبان سیکھی۔ اس سب کے باوجود، میں چاہتا ہوں کہ وہ ہماری زمین چرانا چھوڑ دیں، اور ہمیں ایک ریاست کا درجہ دیں جس کی سرحد انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی ہو۔ اس تنازعے سے ہمارے لوگوں کا کافی نقصان ہوا ہے۔‘ اپنے گاؤں کے بارے میں: ’میرے گاؤں کی جو زمینی حقیقت ہے اس کی وجہ سے مختلف چیلنج پیدا ہورہے ہیں۔ اسرائیلی محاصروں کی وجہ سے میں اپنے گاؤں تک محدود ہوکر رہ گیا ہوں۔ میں باہر سفر نہیں کرسکتا، اور اکثر لوگوں کو گرفتار کرنے کے لئے اسرائیلی فوج چھاپے مارتی ہے۔ ایسے حالات میں جب نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے اور لوگ پریشان ہیں، قوت برداشت برقرار رکھنا مشکل ہے۔ میرے رشتہ دار یروشلم، رملہ اور دیگر مقامات پر ہیں جن سے میرا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ہمارے گاؤں کے لوگوں کے پاس اب اسرائیلی کی تعمیراتی سیکٹر میں نوکریاں نہیں رہیں، پہلے تمام لوگوں کی معاش کا انحصار اس پر تھا۔ ا سب کی وجہ سے نوجوان مشتعل ہیں اور اس تنازعے میں گھسیٹتے چلے جارہے ہیں، ان میں ریاستِ اسرائیل کے خلاف شدید جذبات ہیں۔‘ یاسر عرفات کی تنظیم الفتح سے تعلق کے بارے میں: ’میں عام طور پر اپنی مصروفیات نوجوانوں کو مشورہ دینے اور جیسے بھی ممکن ہو لوگوں کی مدد کرنے تک محدود رکھتا ہوں۔ لیکن میں اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا ہوں، جیسا کہ میں ایک ٹین ایجر کی حیثیت سے سوچتا تھا۔ انہیں چاہئے کہ پولیس کی مدد سے ہماری زمین ہڑپنا چھوڑ دیں اور بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے لئے راضی ہوں۔ خطے میں قیام امن کے لئے یہی واحد راستہ ہے۔‘ ’ایک علیحدہ فلسطینی ریاست ہی اس مسئلے کا حل ہے۔‘ اپنی زندگی کے بارے میں: ’خطے میں تشدد کی وجہ سے میری زندگی تباہ ہوگئی ہے۔ کم عمر میں ہی میں اس سے متاثر ہوگیا اور زندگی کا آغاز اسرائیلی جیلوں میں کیا۔ مجھے اپنی زندگی کو کوئی موڑ دینے کا موقع نہیں ملا۔ میں نے یہ سوچ کر انگریزی اور ہِبریو سیکھی کہ زندگی میں کام آئے گی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مجھے زندگی کے نئے مواقع ملیں گے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کم عمر فلسطینی اس تشدد میں پھنستے جارہے ہیں جس کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔۔۔۔‘
|