کربلا سے: ’ہم سب خیریت سے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نویں محرم کو میں نے آدھی رات تک امام حسین کے مزار اور زائرین کی تصاویر لیتا رہا۔ میں تھک کر چور ہوچکا تھا اس لئے اپنے ہوٹل کے کمرے میں آگیا تاکہ کچھ آرام کر لوں۔ مجھے اگلے دن ’قمعہ زنی‘ کے لیے جلدی جاگنا تھا۔ قمعہ زنی میں لوگ اپنی پیشانیوں کو خنجر سے لہو لہان کرکے اس علم پر ملتے ہیں جو اس تقریب کے لئے لگایا جاتا ہے۔ میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ مجھے نہیں یاد میں کب سویا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد میں اپنے الارم کلاک کی آواز سے جاگا، جلدی سے کپڑے پہنے اور مزار کی طرف دوڑا۔ قمعہ زنی کرنے والے مختلف گروہوں میں امام حسین اور حضرت ابوالفضل کے مزاروں کی طرف روانہ تھے۔ یہ خاصا ہولناک منظر تھا۔ ان کے چہرے خون سے تر تھے اور۔۔۔۔ان میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ یہ خدشہ سب کے ذہن میں تھا کہ کسی بھی وقت کوئی دہشت گرد حملہ ہوسکتا ہے۔ کچھ دن قبل سے مزار پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے تھے اور مشکوک زائرین کی تھوڑی بہت تلاشی لی جارہی تھی۔ کئی مرتبہ میری تلاشی ہوئی لیکن انہوں نے میرے کیمرے کے بیگ پر ایک طائرانہ سی نظر ہی ڈالی۔ تقریباً ایک یا دو گھنٹوں بعد میں ہوٹل کے کمرے میں گیا تاکہ جو تصویریں میں لے چکا تھا اپنے کیمرے پر ڈاؤن لوڈ کر سکوں۔ اسی دوران میں نے ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکہ سنا۔ اس کے بعد سائرن کی آوازیں گونجنے لگیں۔ مجھے ہوٹل کے مینیجر نے بتایا کہ کربلا اور کاظمین میں دھماکے ہوئے ہیں۔ میں اس طرف بھاگا جہاں واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ جگہ حضرت ابوالفضل کے مزار کے پاس ہی تھی۔ تقریباً دس منٹ میں میں وہاں تھا اور جو میں نے دیکھا وہ بیان سے باہر ہے۔ دھماکے کا شکار ہونے والے کئی افراد کے جسم بہت چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ چکے تھے اور ان کی شناخت کرنا ناممکن تھا۔ زخمیوں کو ایمبولینسوں میں ڈال کر لے جایا جا رہا تھا۔ ان میں سے کئی بری طرح خون میں تر تھے۔ کئی ایرانی تھے جو محرم کے لئے عراق آئے تھے۔ صرف سائرن اور چیخوں کی آوازیں ہی سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے کوشش کی کہ میں آگے جا کر تصویریں لے لوں لیکن پولیس نے مجھے جانے نہیں دیا۔ صرف وہی فوٹوگرافر تصویریں لینے میں کامیاب ہوسکے جو جائے وقوعہ سے قریب ترین ہوٹلوں میں قیام کر رہے تھے۔ میں نے آدھے گھنٹے تک کوشش کی لیکن انہوں نے مجھے آگے نہیں جانے دیا بلکہ پولیس میرے بارے میں مشکوک ہوگئی اور انہوں نے میری تلاشی بھی لی۔ جب میں بالکل مایوس ہوگیا تو میں الحسین ہسپتال روانہ ہوگیا جس کی حفاظت پر امریکی فوجی متعین تھے۔ انہوں نے کسی کو اندر نہیں جانے دیا حتیٰ کہ ان رضاکاروں کو بھی نہیں جو زخمیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ جب میں واپس شہر پہنچا تو اس میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ ٹیلیفون بوتھ کے پاس ایرانی اور افغانی زائرین کی قطاریں لگی تھی۔ ایک قطار کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے ایک عورت کی آواز سنی۔ وہ اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی ’پلیز فون کرکے کہہ دو کہ ہم سب خیریت سے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||