سوگ، اجتماعی جنازے اور تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں یوم عاشور پر ہونے والے دھمکوں میں ہلاک ہونے والے ایک سو بیاسی شیعہ مسلمانوں کو دفنائے جانے کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ان دھمکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے جنازوں میں ہزاروں افراد شرکت کر رہے ہیں۔ کھجور کے پتوں اور عراقی جھنڈے میں لپٹے جب یہ جنازے باہر لائے گئے تو ہزاروں سوگوار اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے بلندے کرتےہوئے قبرستان کی طرف بڑھنے لگے۔ ان جنازوں کے شرکاء مکمل طور پر پرامن رہے تاہم ان میں شدید غصے کے جذبات پائے جاتے تھے۔ عراق کے مقدس شہر نجف میں بھی بدھ کے روز اجتماعی جنازے نکالے جانے تھے۔ بہت سے سوگوار امریکی قابض فوج کو ان دھماکوں کی ذمہ دار قرار دے رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ یوم عاشور پر سوگواروں کے لیے مناست حفاظتی انتظامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دریں اثنا بدھ سے عراق میں تین روزہ سوگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ عراق جنگ کے خاتمے کے بعد سے یہ دن عراق کے لئے خون آشام دن ثابت ہوا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق بغداد میں کم از کم ایک سو بارہ اور کربلا میں ستر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ اور عراقی حکام نے ان دھماکوں کی ذمہ داری اردن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر عائد کی ہے جس کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ مبینہ تعلقات ہیں۔ تاہم اعلیٰ شیعہ رہنما آیت اللہ السیستانی نے امن و امان قائم رکھنے میں ناکامی کے لئے امریکہ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم ان حملوں کی ذمہ داری قابض افواج پر عائد کرتے ہیں جو عراقی سرحدوں کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔ انہوں نے نہ تو عراق کی قومی فوج کو اتنا مضبوط بنایا ہے اور نہ ہی ان کو ضروری اسلحہ فراہم کیا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نمٹ سکے‘۔ آیت اللہ جوکہ فوری انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، عراق میں امریکی انتظامیہ کے لئے مشکلات کا باعث ہیں۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ ان افواج کے خلاف متحد ہوجائیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے باوجود عراقیوں کو اقتدار کی منتقلی منصوبے کے مطابق جون کے آخر میں ہوگی۔ تاہم ایک امریکی ترجمان سکاٹ میکملن کا کہنا ہے کہ امریکی افواج اس وقت تک عراق میں رہیں گی جب تک اپنا کام ختم کرنے کےلئے وہ ضروری سمجھیں گی۔ عراقی حکمراں کونسل نے مرنے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر نے کہا ہے کہ عراق کے نئے آئین کی منظوری سوگ کے بعد کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||