عراق: دھماکوں کی وسیع تر مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوم عاشور پر عراق کے شہر کربلا اور بغداد میں ہونے والے دھماکوں کی دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان حملوں کے ذمہ دار افراد انسانیت سے عاری ہیں۔ انہوں نے عراق میں تعینات امریکی افواج پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ امن و امان قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے ان کارروائیوں کو بیہمانہ جرائم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ القاعدہ اور اس کے حامیوں کا ایک اور شدت پسندانہ اقدام تھا۔ انہوں نے دہشتگردوں کے خلاف اپنی بھرپور مدد کا بھی یقین دلایا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق میں نیکی اور بدی کی جنگ جاری ہے اور حملہ آور عراق کو مستحکم نہیں ہونے دینا چاہتے۔ یوم عاشور پر ایسی کارروائیوں کے خدشہ کے پیش نظر عراق میں پہلے ہی سکیورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے تھے تاہم حملہ آور ان انتظامات سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ شیعہ برادری کے ایک ترجمان ڈاکٹر حامد البایاتی کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے ذمہ دار افراد شیعہ اور سنی برادری میں نفاق ڈالنا چاہتے تھے۔ بغداد میں ایک امریکی فوجی جنرل نے کہا ہے کہ یہ محض فرقہ ورانہ حملے نہیں تھے بلکہ ان میں القاعدہ ملوث ہے۔ بغداد اور کربلا میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولینڈ کی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم بغداد میں امریکی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق چھ افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ بغداد میں ایک خودکش حملہ آور کو حملہ کرنے سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||