عاشور، کربلاو بغداد میں 182 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یومِ عاشور پر عراق کے شہروں کربلا اور بغداد میں دھماکوں سے تقریباً ایک سو بیاسی افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ جبکہ اسی دوران تقریباً چار سو تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں سے کربلا میں ایک سو بارہ افراد اور بغداد میں ستر کے ہلاک ہوئے۔ ایک امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ بغداد کے دھماکے تین خودکش حملوں کا نتیجہ تھے جبکہ ایک اور حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا۔ کربلا میں ہونے والا دھماکہ بھی ایک خود کش حملے کا نتیجہ تھا۔ اس کے علاوہ حملے میں خود کار اسلحے اور دستی بموں کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ کربلا میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صرف بغداد کے راکٹ حملوں میں تقریباً ستر سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ایک مسجد پر کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ ان دھماکوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایران سے آئے ہوئے کئی زائرین بھی شامل ہیں۔ بظاہر بغداد اور کربلا کے دھماکے ایک ہی وقت پر ہوئے ہیں۔ مسلم دنیا کے اکثر ممالک کی طرح کربلا میں بھی آج یومِ عاشور منایا جا رہا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں غم گسار، پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین اور ان کے اعزہ و اقرباء کی شہادتوں پر عزاداری میں مصروف ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جس وقت دھماکے ہوئے اس وقت کربلا کی سڑکیں عزاداروں اور دیگر لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔ حلملوں سے بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں کئی لوگوں کے کچلے جانے کی خبر بھی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ کربلا میں دھماکوں کے بعد افراتفری کا منظر تھا۔ نامہ نگار کے مطابق ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ عورتیں بھگدڑ میں اپنے بچوں کو تلاش کرتی پھر رہی تھیں۔ صدام حسین کے خاتمے کے بعد کئی عشروں میں پہلی مرتبہ اہلِ تشیع کو آزادی کے ساتھ یومِ عاشور منانے کا موقع اور اجازت تھی۔ مختلف خدشات کے پیشِ نظر کربلا میں حفاظتی انتظامات کافی سخت کر دیے گئے تھے لیکن پھر بھی دھماکے نہیں روکے جا سکے۔ ادھر عراقی پولیس نے بتایا ہے کہ بغداد کے شمال مغرب میں چار دھماکے ہوئے ہیں جن سے ضلع کاظمیہ لرز اٹھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||