عراق: اقتدار کی منتقلی جون میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ عراق میں بم حملوں کے باوجود عراقیوں کو جون میں ہی خود مختاری دینے کے پہلے سے طے شدہ منصوبے پر عمل کیا جائے گا اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایک سو بیاسی افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت تک عراق میں رہے گا جب تک کہ وہاں تحفظ کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔ تاہم عراقی شیعہ علماء نے امریکہ اور برطانیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان حملوں کو روکنے میں نا کام رہے اور انہوں نے عراقیوں کو بھی ایسے وسائل مہیا نہیں کئے کہ وہ خود اپنی حفاظت کر سکتے۔ دریں اثناء دیگر عراقی رہنماؤں نے عراقیوں سےقومی اتحاد کی اپیل کی ہے عراقی گورننگ کونسل کے اراکان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کی کوششیں نا کام ہوں گی۔ ایران نے بغداد اور کربلا میں ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں شرمناک دہشت گرد حملے قرار دیا ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا کہ عراق میں بدی اور نیکی کے درمیان جنگ چل رہی ہے اور حملہ آور عراق کو ایک مستحکم اور جمہوری ملک نہیں بننے دینا چاہتے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اپنے ترجمان کے ذریعے ایک بیان میں اس حملے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||