عراقی دھماکوں کے ملزم کی نشاندہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے عراق میں دھماکوں اور 271ہلاکتوں کا ذمہ دار مبینہ طور پر القاعدہ کے ابومصعب الزرقاوی کو قرار دیا ہے۔ عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ابی زید نے کہا ہے کہ منگل کو کربلا اور بغداد میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں ملنے والی خفیہ اطلاعات کے مطابق انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان دھماکوں میں القاعدہ کے اردنی نژاد رکن ابومصعب الزرقاوی کا ہاتھ تھا۔ پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈ کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں دو سو ستر افراد کی ہلاکت کے ایک روز بعد جنرل جان ابی زید کانگریس کو تفصیلات سے آگاہ کر رہے تھے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ دھماکوں اور ہلاکتوں کے بعد عراق پر قابض امریکی اتحاد پر دباؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے اور اس صورتِ حال میں عراق میں امریکی افواج کے سربراہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ان دھماکوں کے ذمہ دار کی بلا شک و شبہ نشاندہی کریں۔ جنرل ابی زید نے یہ بھی کہا کہ ابو زرقاوی کا عراق کے سابق خفیہ اداروں کے ارکان سے بھی رابطہ ہے۔ دریں اثنا امریکہ نے عراقی سرحدوں پر حفاظتی انتظامات کو کڑا بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر کی مالیت کے پروگرام کا اعلان کیا ہے تا کہ بقول امریکہ شدت پسند عراق میں داخل نہ ہو سکیں۔
عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر نے دھماکوں کے بعد بغداد میں کہا ہے کہ عراقی سرحدوں کی نگرانی کے لیے ہزارہا محافظ بھرتی کیے جائیں گے اور انہیں تمام ممکن جدید سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ عراق میں خانہ جنگی کا ماحول سازگار بنانے کے لیے دہشت گرد عراق کے باہر سے آتے ہیں۔ بریمر کا کہنا تھا کہ کربلا اور بغداد میں ہونے والے حالیہ دھماکوں اور ہلاکتوں کا مقصد عراق میں شیعہ سنی فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||