’ہریونیورسٹی میں داخلہ ممکن ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے وہیں سے او لیولز بھی کیا تاکہ مستقبل میں کسی اچھی غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں تقریباً سبھی جگہ او لیولز کو تسلیم کیا جاتا ہے اور میٹرک کو نہیں کیا جاتا۔ اس موقع پر میں نے اے لیولز کرنے کے بارے میں ابھی زیادہ نہیں سوچا تھا لیکن ایک بات جو طے تھی وہ یہ تھی کہ مجھے مزید تعلیم بزنس سٹڈیز میں حاصل کرنی ہے۔ پاکستان کے بیشتر تعلیمی اداروں میں بزنس سٹڈیز کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن جن مخصوص مضامین کی میں خواہشمند تھی مثال کے طور پر بزنس میڈیا اور بزنس لاء، اس کا حصول پاکستان میں تقریباً ناممکن تھا۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں کسی بیرونی ملک سے ہی تعلیم مکمل کروں گی۔ لندن آنےکا فیصلہ یوں ہوا کہ ہم لوگوں کے بہت سے رشتہ دار پہلے سے ہی یہاں آباد تھے اس لئے میرے والد نے بھی یہی مشورہ دیا کہ میں لندن جاؤں اور وہیں تعلیم حاصل کروں کیونکہ ظاہر ہے کہ ہمارے معاشرتی طرز زندگی میں رشتہ دار ایک سپورٹ ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ کے باعث آپ خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے۔ میں اس وقت لندن میں اے لیولز کے فرسٹ اِئر میں ہوں۔ اے لیولز مکمل کرنے کے بعد میں امریکہ اور برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیوں میں ایڈمشن کے لئے اپلائی کروں گی اور بی بی اے اور ایم بی اے کی تعلیم مکمل کرنا چاہوں گی۔ لندن میں رہتے ہوئے مجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ یہاں کے تعلیمی ادارے غیرملکی طلباء کو مقامی طلباء پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک سے آئے ہوئے طلباء تقریباً تین گنا فیس ادا کرتے ہیں۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بڑے اور نامور تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے لئے یا تو انتہائی محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے یا یہ کام واقفیت اور تعلقات کی بنا پر بھی ممکن ہوتا ہے لیکن یہاں محض زیاہ فیس ادا کر کے بڑی سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لینا ممکن ہے۔ لندن سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں پاکستان جانا چاہوں گی اور اپنے والد کے بزنس میں ان کا ہاتھ بٹاؤں گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان میں کام کرنا دشوار لگے لیکن تعلیم ہمیں مشکلات کا مقابلہ کرنا ہی تو سکھاتی ہے۔ میرے خیال میں پاکستان میں طلباء کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے جس کے باعث انہیں زیادہ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے دوران مطالعے اور تھیوری پر زیادہ زور دیا جاتا ہے لیکن یہاں تعلیم کے عمل کو قدرے آسان بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک بات تو انتہائی بری ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے طلباء پیسے دے کر زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر لیتے ہے ہیں جس کی وجہ سے ایسے طلباء کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو تہہِ دل سے محنت کرتے ہیں۔ یہاں کے تعلیمی نظام میں فیسوں کی زیادتی ہی ایک برائی ہے لیکن اس کے علاوہ تعلیمی معیار کے حوالے سے یہاں کا نظام ہر طرح سے بہتر اور جامع ہے کیونکہ جتنی تعلیمی سہولیات میں نے یہاں دیکھی ہیں، پاکستان میں اس کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقابلے میں یہاں کے اساتذہ طلباء کے ساتھ زیادہ تعاون کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||