| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو مذاہب کی ماں
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے باعث ایک معمر سکھ خاتون چار دھائیوں سے زائد عرصہ کے بعد اپنے بچھڑے ہوئے مسلمان بچوں سے ملاقات کر سکی ہیں۔ ستتر سالہ ہربنس کور پیر کے روز اپنے مسلمان بچوں 53 سالہ زینت اور 48 سالہ منظور حسین سے ملنے کے لیئے مظفر آباد پہنچیں۔ انہوں نے اپنے بچھڑے ہوئے بچوں سے ملاقات کے لیئے ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد سے مظفر آباد تک کا یہ طویل سفر طے کیا۔ ہربنس کور 1950 کی دھائی میں اپنے مسلمان بچوں کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت چھوڑنے پر مجبور ہوئیں جب پاکستانی حکام نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت کور کو بھارت میں مقیم اس کے سابق سکھ شوہر کے حوالے کیا۔ ہربنس کور کی تین بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں اور انکے غیر معمولی ذاتی حالات کے باعث ان کے بچے دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہربنس کور کی کہانی دراصل برِصغیر پاک و ہند کی تقسیم کی کہانی ہے۔ 1947 میں تقسیم کے وقت وہ سکھ مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کا سکھ شوہر اور دوسرے گھر والے 1948 میں ان کو اور ان کی ایک معصوم بیٹی کو اپنے ساتھ ہندوستان نہیں لے جا سکے اور وہ مظفر آباد سے سولہ کلومیٹر دور اپنے آبائی گاؤں پٹہکہ میں ہی رہ گئیں۔ ان کے ساتھ کچھ اور ہندو اور سکھ بھی فسادات کے دوران ہندوستان نہ جا سکے اور بعد میں مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہو گئے اور یہیں رہنے لگے۔ ہربنس کور نے مظفر آباد کے قریب چھتر نامی علاقے کے رہائشی ایک مسلمان ہدایت اللہ سے شادی کر لی اور بعد میں ان کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ بعد میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا کہ برِصغیر کی تقسیم کے دوران ہندو مسلم فسادات میں اغوا ہونے والی عورتوں کو بازیاب کر کے ان کے خاندانوں سے ملایا جائے۔ اس طرح 1950 کی دھائی میں پاکستانی حکام نے کور کو اپنے پہلے سکھ شوہر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 1947 کے اس معاہدے کے تحت بازیاب ہونے والی خواتین کو ہر صورت میں اپنے خاندانوں کے حوالے کرنا تھا اور اس معاہدے کی رو سے ان خواتین کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اس طرح اب ہربنس کور کے پاس واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور انہیں واپس جانا پڑا۔ ہندوستان میں وہ دوبارہ سکھ مذہب اختیار کر گئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگیں۔ سکھ شوہر سے ان کے تین بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کا سکھ شوہر وفات پا گیا تھا۔ ہربنس کور گزشتہ پیر کے روز چالیس برس بعد مظفر آباد پہنچیں جہاں ان کی مسلمان بیٹی زینت رہتی ہیں۔ کور کے ہمراہ ان کا سکھ بیٹا دلویر سنگھ اور بہو ستویر سنگھ ہیں۔ ان کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والے ان کے مسلمان بیٹے، بیٹی اور ان کے بچوں نے واہگہ کی سرحد پر خوش آمدید کہا۔ ہربنس کور اپنے مسلمان بچوں سے مل کر بہت خوش ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اتنے لمبے عرصے کے بعد اپنے بچوں، نواسے، نواسیوں اور پوتے، پوتیوں سے مل رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میری یہ خواہش تھی کہ میں مرنے سے پہلے اپنے بچھڑے ہوئے بچوں سے ملوں۔ ’اس کے بعد چاہے موت بھی آ جائے تو کوئی افسوس نہیں ہوگا۔‘ وہ خوش ہیں کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو گئی ہے۔ ہربنس کور اور ان کا بیٹا اور بہو ایک ماہ کے ویزے پر پاکستان آئے ہیں۔ وہ سولہ دسمبر کو ہندوستان واپس چلے جائیں گے۔ ہربنس کور کے مسلمان شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ مظفر آباد کے نواح میں واقع اپنے گاؤں پٹہکہ جائے جہاں وہ تقسیم کے کچھ عرصہ بعد تک اپنے خاندان کے بزرگوں کے ہمراہ رہتی رہی ہیں۔ ہربنس کور کی ایک سکھ بیٹی، داماد اور نواسی دو دسمبر کو احمد آباد سے مظفر آباد پہنچ رہے ہیں۔ وہ بس کا ٹکٹ نہ ملنے کے باعث اس غیر معمولی ملاقات کی یادگار گھڑیاں نہ دیکھ سکے۔ ہربنس کور کا کہنا ہے کہ اگر اجازت ملی تو وہ بچوں سمیت اپنے آبائی گاؤں جائیں گی۔ ان کے مسلمان بیٹے منظور حسین نے کہا کہ ہم چار دہائیوں سے زائد عرصہ تک اپنی والدہ کی شفقت سے محروم رہے اور ہمیں اپنی ماں، بھائی اور بھابھی سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا: ’ماں سے ملنے کی خواہش مجھے زندگی بھر رہی۔ ہم نے زندگی میں ماں کا پیار دیکھا ہی نہیں تھا لیکن اب پتا چلا ہے کہ ماں کا پیار کیا ہوتا ہے۔ ہم سب بہت خوش ہیں کیونکہ ہم دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘ کافی عرصہ تک اس خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ ان میں سے کون زندہ ہے اور کون نہیں۔ لیکن سات سال پہلے جب منظور حسین اور زینت بی بی کو ایک رشتہ دار کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ان کی ماں زندہ ہے اور احمد آباد میں رہتی ہے تو وہ ماں سے ملنے کے لیئے بیقرار ہو گئے۔ دو سال قبل وہ اپنی ماہ کے گھر کا فون نمبر حاصل کرنے ماں کامیاب ہوئے اور 15 اگست 2001 کو انہوں نے چالیس سال بعد پہلی مرتبہ اپنی ماں کی آواز سنی۔ اس کے بعد ان کی اپنی ماں سے ٹیلیفون پر بات چیت جاری رہی اور تصاویر اور خطوط کا تبادلہ ہوا۔ لیکن ملنا ابھی بہت دور تھا کیونکہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات نہایت کشیدہ تھے اور جنگ کی سی صورتِ حال تھی۔ جولائی میں کافی عرصہ بند رہنے کے بعد دوبارہ شرروع ہونے والی دہلی۔لاہور بس سروس نے بالآخر بچھڑوں کو ملانے کا سامان فراہم کیا۔ ان کی بیٹی زینت بی بی کو افسوس ہے کہ ان کی ماں اپنے نواسے کی شادی میں شرکت نہیں کر سکیں جو گزشتہ ماہ انجام پائی تھی۔ لیکن پہلے ہربنس کور کو ویزہ نہ ملا اور اس کے بعد بس کا ٹکٹ دیرسے ملا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں ماں سے ملنے کے لیئے بڑی بے چین تھی، انہیں دیکھنا چاہتی تھی، ان سے باتیں کرنا چاہتی تھی۔‘ لیکن انہیں اس بات کا بھی دکھ ہے کہ اگلے ماہ ماں واپس ہندوستان چلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ملاقات کے بعد بچھڑنے کا اور بھی زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ لیکن میری والدہ کے وہاں بھی بچے ہیں، ان کو تو جانا ہی تھا۔ لیکن وہ اب ہمارے پاس آتی جاتی رہیں گی۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||