دلی جو ایک شہر ہےعالم میں۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا: دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے میر صاحب تو یہ شعر کہہ کر دلی چھوڑ گئے اور لکھنؤ جا بسے اور پھر واپس نہ نہ لوٹے۔ لیکن مرزا غالب اپنا شہر آگرہ چھوڑ کر دلی آ گئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے اور خوب شہرت پائی۔ آج بھی تقریباً تین صدیاں گزرنے کے باوجود دلی کے گلی کوچوں میں گھومتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ شہر واقعی مرزا غالب بلکہ ان سے بھی زیادہ امراؤ بیگم کا ہے جنہوں نے شدید غربت میں ایسے رکھ رکھاؤ سے زندگی گزاری کہ ایک مثال بن گئیں۔ دلی پر ان کا رنگ اتنا پختہ اور واضح ہے کہ چاندنی چوک اور اس سے ذرا پرے کوچہ قاسم جان میں اب بھی دکھائی دیتا ہے جہاں ان کا وہ مکان اب بھی ایک یادگار کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن دلی صرف مرزاغالب اور امراؤ بیگم کا ہی شہر نہیں تھا بلکہ ابراھیم ذوق سے لے کر دیوان سنگھ مفتوں تک، بہادر شاہ ظفر سے لے کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور آزادی کے بعد جواہر لال نہرو سے اٹل بہاری واجپئی تک کیسی کیسی نابغہ روزگار شخصیات اس شہر میں جلوہ افروز رہی ہیں۔ تاریخ کی یہی کشش تھی جو مجھے کشاں کشاں اس شہر لے گئی جو ایک زمانے سے علم و ادب، فن و ثقافت، آزادی کی تحریکوں اور علاقائی سازشوں کا مرکز رہا ہے۔ ہم بھارت کے یوم ِ جمہوریہ کے موقع پر دلی پہنچے۔ دلی نئی ہو یا پرانی، ایسے لگتا ہے جیسے اپنے لاہور کی انار کلی یا اپنے پرانے شہر میں گھوم رہے ہیں۔ زبان، ثقافت، شہر کا منظرنامہ بالکل ویسا ہی ہے۔ گلیاں اسی طرح گندی، سڑکوں پر اسی طرح تجاوزات لیکن حیرت انگیز طور پر لاہور دہلی سے قدرے صاف نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ شاید وہاں کی ہریالی اور کتر بیونت اور سڑکوں پر نواز شریف اور ان کے برادر خورد شہباز شریف کی خصوصی عنایت ہو سکتی ہے۔ ہم نے اپنی ڈیڑھ عشرے پر محیط صحافتی زندگی میں کبھی نہیں سنا کہ چودہ اگست یا تیئس مارچ کو پاکستان میں بھارتی باشندوں سے ہوٹل خالی کرا لئے جاتے ہیں۔ البتہ دلی میں معاملہ ذرا مختلف ہے اور چھبیس جنوری کے موقع پر دلی ایک محاصرہ زدہ شہر کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانیوں سے غیر ملکیوں کے نام پر ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس خالی کرا لئے جاتے ہیں۔ ائیر پورٹ سے نکلے تو ایسا لگا کہ کسی مغل پایہ تخت میں ہیں۔لودھی روڈ، صفدر یار جنگ روڈ اور اسی طرح کے نام کچھ آشنا سے لگے لیکن ہر سڑک اور ہر کراسنگ پر پولیس پاکستانی ایجنٹوں کو کھوجتی ہوئی دکھائی دی۔
جانا تو ہم کو ماڈل ٹاؤن، دہلی یورنیورسٹی اور ٹی وی ہسپتال کے درمیان واقع کنگز وے کیمپ تھا جہاں نرملا دیش پانڈے جی کا گاندھی آشرم ہے لیکن اپنی ذرا سی غلطی کے باعث ہم نظام الدین اولیاء سٹیشن جا پہنچے۔ وہاں سب سے پوچھا لیکن کوئی گاندھی آشرم کے بارے میں نہیں جانتا تھا کیونکہ یہ مسلمانوں کا علاقہ تھا۔ پھر عبدالواحد کاشمیری سے ملاقات ہوئی جو سائنس میں ماسٹرز ڈگری رکھتا ہے اور دلی میں ٹرانسپورٹ کا کام کرتا ہے۔ عبدالواحد کاشمیری نے ہمیں کنگز وے کیمپ پہنچایا اور راستے میں بتایا کہ پاک بھارت دوستی کی نئی کوششوں کے باعث اب ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات میں کسی قدر بہتری آرہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کشمیری صرف عزت کی زندگی چاہتے ہیں، اس لیے دونوں ملک بیٹھ کر کشمیریوں کے مشورے سے اس مسئلہ کا کوئی بہتر اور سب کے لئے قابل قبول حل نکال لیں۔ نرملا جی کا کیمپ جسے گاندھی آشرم کا نام دیا گیا ہے، نچلی ذات اور غریب لوگوں کے لئے ہے جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت اور رہائشی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ یہاں اس مقام پر ایک یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے جہاں گاندھی جی اپنے قتل سے پہلے آخری دفعہ آ کر بیٹھے تھے۔ اس جگہ بیٹھنا ان کا روزانہ کا معمول تھا اور یہیں سے اٹھ کر وہ بھوک ہڑتال کے لئے گئے جہاں وہ ایک جنونی کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
ہماری دلی یاترا کا باقاعدہ آغاز راج گھاٹ سے ہوا جہاں گاندھی جی اور ان سے ذرا پرے اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور پھر گیانی ذیل سنگھ کی سمادھیاں ہیں۔ہم نے دیکھا کہ گاندھی جی کی سمادھی پر، جو سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے، کوئی داخلہ ٹکٹ نہیں تھا جبکہ ہم نے اپنے قائداعظم پر ٹکٹ لگا رکھا ہے۔ راج گھاٹ کی بناوٹ میں خوبصورتی اور گاندھی جی کا احترام دکھائی دیتا ہے۔ ان کی سمادھی پر ایک شعلہ ہر وقت رقصاں رہتا ہےجو ان کے دل میں آزادی کی تڑپ کو ظاہر کرتا ہے۔ سمادھیوں پر حاضری کے بعد ہم پارلیمنٹ ہاؤس، دہلی گیٹ اور پھر کناٹ پیلس پہنچے۔ کناٹ پیلس کا علاقہ لاہور کے گلبرگ جیسا ہے لیکن یہاں رونق نہیں ہے کیونکہ یہ سفارت کاروں کے لئےعلاقہ ہے۔ فیروز شاہ کوٹلہ پہنچ کر کچھ دیر تاریخ کو یاد کیا اور پھر اپنے خوابوں کی جگہ قطب مینار پہنچے۔ قطب مینار پر بھارتیوں کے لئے پانچ روپے کا ٹکٹ لیکن غیر ملکیوں کے لئے دس ڈالر کا ٹکٹ ہے۔ مینار کی سیڑھیاں مرمت کے لئے بند تھیں اس لئے ہم قریب کھڑے ہو کر باہر چلے آئے۔ قریب ہی جین مندر ہے جہاں یاتری عبادت کے لئے جوق در جوق جا رہے تھے۔ صفدر جنگ اور ہمایوں کے مقبرے ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں۔ یہ دیکھ کر اور بھی اچھا لگا کہ قبر میں لیٹا بادشاہ اب بھی قانون پر عملدرآمد کرا رہا ہے۔ دراصل سگنل نہ ہونے کے باعث مقبرہ ایک راؤنڈ اباؤٹ کی طرح ٹریفک ریگولیٹ کرنے کے کام آتا ہے۔
مقبرے سے ذرا دور نظام الدین اولیاء کا مزار ہے جہاں جانے سے پہلے غالب اکیڈیمی اور پھر چچا غالب کے مزار سے واسطہ پڑتا ہے۔مزار کے اردگرد کا پورا علاقہ نوسربازوں سے بھرا پڑا ہے۔ علاقہ میں داخل ہوں تو کوئی نہ کوئی آپ کے ساتھ لگ جائے گا جو یا تو بھارتی حکومت کا ایجنٹ ہوتا ہے یا پھر کوئی نوسرباز۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ دلچسپی کی جگہ امیر خسرو کی قبر تھی جو مزار کے احاطہ میں حضرت نظام الدین کی قبر کے پہلو میں ہے۔ لال قلعہ پر بھی دوہرا ٹکٹ ہے لیکن چاندنی چوک مزے کی جگہ ہے۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسان سائیکل رکشہ پر دوسرے انسان کا بوجھ کھینچتے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو پکار رہے تھے۔ بازار میں عملاً کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ ہر چیز اس بازار میں مل جاتی ہے۔ مٹھائی اس قدر لذیذ کہ ایک کلو بھی کھا لیں تو پتہ نہ چلے لیکن پاکستانی کے بارے میں بدگمانی بہت ہے۔ وہاں اٹھہتر سالہ سلور سمتھ نریندر صاحب سے ملاقات ہوئی جن کے خیال میں جمہوریت پاکستان اور بھارتی دونوں معاشروں میں بنیادی فرق ہے جس سے ہم نے بھی اتفاق کیا۔ لیکن ان کی اس بات سے ہم نے اتفاق نہیں کیا کہ پاکستان میں مولوی کلاشنکوف کے زور پر ہر ادارے پر قابض ہیں اور کراچی جیسے شہر میں بھی عورت کا پردے کے بغیر باہر نکلنا مشکل ہے۔ دلی شہر اب نوے کلومیٹر کے رقبہ پر پھیل گیا ہے۔ آس پاس کے کئی دیہات اور قصبات اس میں شامل ہو چکے ہیں اور اندازہ ہے کہ سن بیس سو پندرہ میں اس کی آبادی پینتالیس کروڑ ہو جائے گی۔ اسی لئے ریاستی حکومت نے زیر زمین میٹرو ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر عملدرآمد کے لئے شہر کو کھود ڈالا ہے لیکن مستقبل کے آرام کے لئے شہری یہ تکلیف ہنس کر برداشت کرتے ہیں۔ شہر میں ترقی ہوئی ہے لیکن کلچر ابھی بھی ہندی فلموں کی طرح بے باک نہیں ہوا۔لڑکیاں اسی طرح شرمائی اور لجائی رہتی ہیں جیسے کہ ہمارے اپنے قصبات اور دیہات میں۔ شکلا روڈ انارکلی کی طرح کا بازار ہے۔ مکانوں کے کرایے ہوش ربا اور کھانا شدید مصالحوں والا ۔ شہر میں صفائی کا عالم ہمارے شہروں جیسا ہے لیکن یہ دیکھ کر دل خوش ہوا کہ ان کا بجلی کا محکمہ بھی ہمارے واپڈا کی طرح شہریوں کو اذیت دینے میں پیچھے نہیں ہے بلکہ ہمارے قیام کے تین دنوں میں پینتالیس مرتبہ بجلی فیل ہوئی۔ شہر میں گاندھی جی کے علاوہ بھگت سنگھ کی یاد میں بھی بھگت گھاٹ بنایا گیا ہے۔ ہندو مسلم ایک طرح کے غریب ہیں لیکن تعلیم میں مسلمان زیادہ پسماندہ ہیں جس کی وجہ وہی ہے جو پاکستان میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||