BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز شریف کی آمد: قارئین کا آنکھوں دیکھا حال
شہر بھر میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان آنکھ مچولی
شہر بھر میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان آنکھ مچولی
منگل کے دن مسلم لیگ نون کے رہنما میاں نواز شریف کی لاہور واپسی اور ان کا ڈی پورٹ کیا جانا اس ہفتے کی اہم خبروں میں سے ایک ہے۔ بی بی سی اردو آن لائن کے بہت سے قارئین نے پاکستان بھر اور خاص طور پر لاہور کا آنکھوں دیکھا حال ہمیں بھیجا۔

عدیل، کراچی: آج لاہور کی سڑکوں پر پولیس ناکے اور دوسری سیکیورٹی فورسز دیکھ کر ایسا لگا کہ کوئی ان دیکھی مخلوق شہرِ لاہور پر حملہ کرنے والی ہو۔

وسیم شہزاد، لاہور: آج کا دن عام لوگوں کے لئے بہت برا تھا۔ جب میں صبح قائد اعظم لائبریری کی طرف جا رہا تھا تو ہر طرف پولیس ہی پولیس تھی۔ تقریباً دو بجے جب لائبریری سے نکلا تو باغِ جناح کے دروازے بند تھے۔ اگر حکومت شہباز شریف کو آنے بھی دیتی تو کیا قیامت آجاتی۔ یہ سیاست دان خود تو مزے میں ہوتے ہیں، پستی تو عوام ہی ہے۔ آج شہباز شریف کی وجہ سے مال روڈ ویسے ہی بند تھی جیسے پرویز مشرف اور جمالی کے شہر میں آنے سے ہوتی ہے۔ ہم لوگوں کے ان کے نہ آنے سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ان کے آنے سے زندگی حرام ہو جاتی ہے۔ اس سے تو اچھا ہے آدمی اپنے گھر میں ہی رہے۔

مبارک قدم
 فلائٹ کے اترتے ہی پورے شہر کی بجلی چلی گئی اور ڈی پورٹ ہوتے ہی آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے لوٹ آئی۔ مبارک قدم تھے۔
شکیل ساحل چوہدری، لودھراں

شکیل ساحل چوہدری، لودھراں، پاکستان: شہباز شریف کی فلائٹ کے اترتے ہی پورے شہر کی بجلی چلی گئی اور ڈی پورٹ ہوتے ہی آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے لوٹ آئی۔ مبارک قدم تھے۔

وقار عظیم، اسلام پورہ، لاہور: میں کوئی سیاسی کارکن نہیں ہوں لیکن یہاں لاہور میں جو کچھ سڑکوں پر ہورہا ہے انتہائی افسوس ناک ہے۔ پولیس جو عوام کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، دشمن ملک کی فوج لگ رہی تھی۔ ہر موٹر بائیک کے کاغدات سے لیکر ہر چیز کی چیکنگ ہو رہی تھی اور ان کی زبان ایسی تھی جیسے وہ شہر پر احسان کر رہے ہوں۔ چوک جمعدار پر پولیس اور پی ایم ایل نون کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ ٹائر جلانا اور پتھرزنی کھیل کا اہم حصہ تھے۔ پولیس عام شہریوں، بوڑھے لوگوں اور عورتوں تک کو مارنے سے گریز نہیں کر رہی۔

عمر فاروق رانا، : لاہور میں زندگی معمول کے مطابق تھی، کوئی بندہ سڑکوں پر نہیں تھا۔ خاص علاقوں میں شاید کوئی ہلکی پھلکی بات ہوئی ہو۔

محمد بلیغ الرحمان، بوہڑ گیٹ، بہاولپور: بہاولپور میں پولیس نے کل ہی سے گرفتاریاں شروع کر دی تھیں۔ یہاں پر موجود بہت سے کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو پولیس نے رات کو ہی مختلف کارووائیوں میں گرفتار کرلیا تھا اور انہوں نے رات تھانہ صدر، تھانہ بغداد اور مختلف مقامات پر زیرِ حراست گزاری۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں نقصِ امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ آج دوپہر کے بعد جب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ سب لوگ اب نواز شریف کے استقبال کے لئے لاہور نہیں جا سکتے تو انہیں رہا کر دیا گیا۔ اسی طرح حاصل پور میں پی ایم ایل نون کے ملک محمد نعیم کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ کون غلط ہے یا کون درست؟ یہاں مسئلہ ہمیشہ سے آزادیِ اظہار اور بنیادی حقوق کا رہا ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد