BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 May, 2004, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز شریف کی آمد اور واپسی
لاہور میں پولیس تعینات
لاہور میں پولیس تعینات
خلیجی ایئر لائن کے ایک طیارے سے مسلم لیگ کے رہنماشہباز شریف لاہور کے ہوائے اڈے تک آئے اور چند گھنٹوں میں ہی انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ شہباز شریف کی آمد سے چند گھنٹے قبل مسلم لیگ کے متعدد سیاسی کارکنوں کی گرفتاری ہوئی۔ بعض مقامات پر پولیس تعینات ہے۔

کیا آپ لاہور میں ہیں؟ لاہور کی سڑکوں پر کیا صورتحال ہے؟ لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں لوگ شہباز شریف کی آمد کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ جنرل پرویز مشرف کی حکومت شہباز شریف کی واپسی سے متعلق کیا اقدامات کررہی ہے؟ ہمیں لکھئے۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


مبارک قدم
 فلائٹ کے اترتے ہی پورے شہر کی بجلی چلی گئی اور ڈی پورٹ ہوتے ہی آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے لوٹ آئی۔ مبارک قدم تھے۔
شکیل ساحل چوہدری، لودھراں

شکیل ساحل چوہدری، لودھراں، پاکستان: شہباز شریف کی فلائٹ کے اترتے ہی پورے شہر کی بجلی چلی گئی اور ڈی پورٹ ہوتے ہی آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے لوٹ آئی۔ مبارک قدم تھے۔

عمر فاروق رانا، : لاہور میں زندگی معمول کے مطابق تھی، کوئی بندہ سڑکوں پر نہیں تھا۔ خاص علاقوں میں شاید کوئی ہلکی پھلکی بات ہوئی ہو۔

وسیم شہزاد، لاہور: آج کا دن عام لوگوں کے لئے بہت برا تھا۔ جب میں صبح قائد اعظم لایبریری کی طرف جا رہا تھا تو ہر طرف پولیس ہی پولیس تھی۔ تقریباً دو بجے جب لائبریری سے نکلا تو باغِ جناح کے دروازے بند تھے۔ اگر حکومت شہباز شریف کو آنے بھی دیتی تو کیا قیامت آجاتی۔ یہ سیاست دان خود تو مزے میں ہوتے ہیں، پستی تو عوام ہی ہے۔ آج شہباز شریف کی وجہ سے مال روڈ ویسے ہی بند تھی جیسے پرویز مشرف اور جمالی کے شہر میں آنے سے ہوتی ہے۔ ہم لوگوں کے ان کے نہ آنے سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ان کے آنے سے زندگی حرام ہو جاتی ہے۔ اس سے تو اچھا ہے آدمی اپنے گھر میں ہی رہے۔

محمد بلیغ الرحمان، بوہڑ گیٹ، بہاولپور: بہاولپور میں پولیس نے کل ہی سے گرفتاریاں شروع کر دی تھیں۔ یہاں پر موجود بہت سے کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو پولیس نے رات کو ہی مختلف کارووائیوں میں گرفتار کرلیا تھا اور انہوں نے رات تھانہ صدر، تھانہ بغداد اور مختلف مقامات پر زیرِ حراست گزاری۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں نقصِ امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ آج دوپہر کے بعد جب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ سب لوگ اب نواز شریف کے استقبال کے لئے لاہور نہیں جا سکتے تو انہیں رہا کر دیا گیا۔ اسی طرح حاصل پور میں پی ایم ایل نون کے ملک محمد نعیم کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ کون غلط ہے یا کون درست؟ یہاں مسئلہ ہمیشہ سے آزادیِ اظہار اور بنیادی حقوق کا رہا ہے۔

دم ہو تو کر لے کچھ
 جب صدرِ پاکستان وردی میں ہو تو ایسی تیسی قانون کی اور بھاڑ میں جائے عدالت۔
عدیل، کراچی

عدیل، کراچی: یہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے، یہ اس کا پاکستان ہے جو صدرِ پاکستان ہے۔ اور جب صدرِ پاکستان وردی میں ہو تو ایسی تیسی قانون کی اور بھاڑ میں جائے عدالت۔ کسی کے باپ میں دم ہو تو کر لے کچھ۔

عدیل، کراچی: آج لاہور کی سڑکوں پر پولیس ناکے اور دوسری سیکیورٹی فورسز دیکھ کر ایسا لگا کہ کوئی ان دیکھی مخلوق شہرِ لاہور پر حملہ کرنے والی ہو۔

وقار عظیم، اسلام پورہ، لاہور: میں کوئی سیاسی کارکن نہیں ہوں لیکن یہاں لاہور میں جو کچھ سڑکوں پر ہورہا ہے انتہائی افسوس ناک ہے۔ پولیس جو عوام کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، دشمن ملک کی فوج لگ رہی تھی۔ ہر موٹر بائیک کے کاغدات سے لیکر ہر چیز کی چیکنگ ہو رہی تھی اور ان کی زبان ایسی تھی جیسے وہ شہر پر احسان کر رہے ہوں۔ چوک جمعدار پر پولیس اور پی ایم ایل نون کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ ٹائر جلانا اور پتھرزنی کھیل کا اہم حصہ تھے۔ پولیس عام شہریوں، بوڑھے لوگوں اور عورتوں تک کو مارنے سے گریز نہیں کر رہی۔

فضائی حملے کا تاثر
 لگ رہا تھا کہ جیسے لاہور پر فضائی حملہ ہونے والا ہو۔
شمائلہ اقبال، واپڈا ٹاؤن، لاہور

شمائلہ اقبال، واپڈا ٹاؤن، لاہور: مجھے تو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے لاہور پر فضائی حملہ ہونے والا ہو۔ پاکستان میں جمہوریت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

سعید اختر، گلبرگ، لاہور: میں نے دیکھا کہ پورے لاہور کو سیل کردیا گیا۔ جگہ جگہ پولیس کی ناکہ بندی تھی اور مسلم لیگ کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ہورہی تھی۔

مصدق شیخ، سنت نگر، لاہور: مجھے گھر واپس جانے میں انتہائی دشواری ہوئی کیونکہ مال روڈ کو ریگل چوک سے لوئر مال روڈ تک بند کیا ہوا تھا۔ سڑکوں پر اتنا گند مچا تھا کہ لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

میاں خالد جاوید، لاہور:ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی بہت بڑی ڈکیتی ہو گئی ہو۔ چاروں طرف پولیس ہی پولیس تھی۔ مشرف اور قینچی لیگ والوں نے ایک دفعہ پھر ثابت کردیا کہ پاکستان میں عدالتیں، انصاف اور جمہوریت صرف فوجیوں کے غلام ہیں۔

راشد، راولپنڈی: جنرل مشرف نے ثابت کردیا ہے کہ وہ پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے۔

محمد صادق، ٹورانٹو: جنرل مشرف کی کرسی جس طریقے سے مضبوط وہ اسے قومی مفاد قرار دیا جاتا ہے۔

وقاص، بھکر: میں مشرف کے اقدام کا خیرمقدم کرتا ہوں، اپنے کیے کی سزا ملنی چاہئے۔

ثاقب محمود، پاکستان: شہباز کو واپس بھیج کر حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ حکومت لٹیروں کی ہے اور جب شیر آئے تو اسے واپس بھیج دیا۔

محمد افضال خان، پاکستان: یہی تو پاکستان ہے! مشرف کا ملک ہے، اور اسی کی جمہوریت

فراز، ورجینیا، امریکہ: شریف فیملی کو پاکستان سے کوئی محبت یا عقیدت نہیں ہے۔ بینظیر سمیت ان لوگوں کو ملک سے نکالنا جنرل مشرف کا صحیح فیصلہ تھا۔

خالد فاروق، آسٹریلیا: شہباز کو ڈِپورٹ کرکے حکومت نے یہ ثابت کردیا کہ عدالتوں کی کوئی قدر نہیں، یہ فرد واحد کا فیصلہ ہے، پاکستان کا نہیں۔

ہمایوں طارق، محتدہ عرب امارات: شہباز کو ملک بدر کرکے مشرف اور ان کی حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ ایک ظالم ٹولہ ہے۔

اسلم خان، ہانگ کانگ: شہباز شریف کو ڈِپورٹ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

کون سی قیامت ٹوٹ پڑتی؟
 شہباز شریف کی آمد کے روز لاہور میں ہرطرف پولیس تھی اور لوگوں کا آنا جانا مشکل تھا۔ اگر شہباز واپس آجاتے تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑتی؟
ندیم فاروقی، لاہور

ندیم فاروقی، لاہور: شہباز شریف کی آمد کے روز لاہور میں ہرطرف پولیس تھی اور لوگوں کا آنا جانا مشکل تھا۔ اگر شہباز واپس آجاتے تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑتی؟

ریحان جعفری، جنیوا: شہباز شریف کو نہ آنے دینے کا فیصلہ جنرل مشرف کے ذاتی مفاد میں ہے، نہ کہ پاکستان کی خاطر۔

غلام فرید شیخ، پاکستان: ہماری کشتی وہاں ڈوبی جہاں قیو لیگ کھڑی تھی۔

جہانگیر احمد، دوبئی: شہباز شریف کو ڈِپورٹ کرنے کا فیصلہ بزدلانہ قدم ہے۔

محسن نصیر، رائےوِنڈ: میں شام کے چھ بجے ہوائی اڈے کی جانب گیا لیکن چاروں طرف پولیس تعینات تھی۔

عمار بھٹا، امریکہ: شہباز شریف سے متعلق پاکستان میں عدالت کے فیصلے کی تحقیر ہورہی ہے۔

مسرور، جرمنی: انیس سو ننانوے میں کولمبو سے واپسی کے وقت جنرل مشرف کو پاکستان میں داخل نہ ہونے دینے کی کوشش کی گئی تھی۔

طاہر چودھری، نیو یارک: شہباز کو واپس بھیجنا ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں۔

سید شاداب، ٹورانٹو: شریف خاندان نے اپنے کیے کا کفارہ ادا کردیا ہے۔

عبداللہ خالد، پاکستان: لاہور میں بہت سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔

محمد خان، ٹورانٹو: یہ آئی ایس آئی اور مسلم لیگ کے درمیان ایک ڈرامہ ہے۔

کامران شاہ، آسٹریلیا: بلاشبہہ فوج اور مسلیم لیگ کے درمیان کوئی ڈیل ہے۔

فرخ راجہ، اسلام آباد: شہباز اپنے بھائی نواز شریف کی وجہ سے عظیم رہنما ہیں، مجھے مشرف اور ظفراللہ جمالی قبول نہیں۔

علی نقوی، آسٹریلیا: شہباز شریف سے کوئی غیرقانونی ڈیل ہوئی ہو لیکن اس کی عدالت میں کیا حیثیت ہے؟

سلمان، مانچسٹر: شہباز شریف کی آمد اور مسلم لیگ میں پھوٹ اس سب کے پیچھے کوئی بڑی سازش ہے۔

مرزا افضال، مدینہ ٹاؤن: اتنا عرصہ جلاوطنی گزارنے کے بعد شہباز شریف کو پاکستان کی یاد کیسے آگئی؟

بلال ٹیپو، پاکستان: شہباز شریف کا حق ہے، وہ اپنے ملک میں جب بھی چاہیں آسکتے ہیں۔

نبیل مجید، اسلام آباد: یہ لوگ ملک میں یا ملک سے باہر رہ سکتے ہیں، اللہ پاکستان کو ان لوگوں سے بچائے۔

امداد علی، لاہور: اگر شہباز نہیں آتے تو مسلم لیگ بکھر جائے گی اور ان کے لئے پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔

ذیشان، کوہ نور: شہباز شریف اپنے مفاد کے لئے پاکستان آرہے ہیں، پاکستان کی خاطر نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد