BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 June, 2004, 17:04 GMT 22:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم نے وہ رات دہشت میں گزاری۔۔۔‘
ترلوچن سنگھ
ترلوچن سنگھ
انیس سو چوراسی میں ترلوچن سنگھ کی پرانی اور آبائی دکان گولڈن ٹمپل کے چند میٹر کے فاصلے پر واقع تھی جو آپریشن بلوسٹار کے دوران تباہ کر دی گئی۔

ترلوچن سنگھ اور دیگر دکانداروں نے ٹین کے چھجوں کے اندر دکانداری کا آغاز کیا لیکن چند ہی برس بعد انہیں یہاں سے بھی بےدخل کر دیا گیا کیونکہ حکومت نے گولڈن ٹمپل کے گرد حفاظتی حصار تعمیر کرنےکی غرض سے یہ علاقہ خالی کرانےکا فیصلہ کیا۔

ترلوچن سنگھ نے بتایا کہ ’میری دکان اگرچہ بہت چھوٹی تھی لیکن کاروبار کے حوالے سے یہ جگہ بہت مناسب تھی۔ دکان کے آگے سے گزرنے والے گلی اس قدر تنگ تھی کہ وہاں سے سائیکل رکشہ بھی باآسانی نہیں گزر سکتا تھا لیکن بازار ہمیشہ سیاحوں اور گاہکوں سے بھرا رہتا۔

’شدت پسندوں کی جانب سے متعدد بار ہڑتال کے اعلان اور انتظامیہ کی جانب سے مختصر مدت کے لئے کرفیو نافذ کیے جانے کے باوجود کاروبار میں اضافہ ہو رہا تھا۔

’گولڈن ٹمپل کے گرد و نواح میں اس بازار کو خاصی اہیت حاصل تھی۔ گوردوارے کی زیارت کے لیے آنے والے لوگوں کا دورہ اس وقت تک مکمل نہ ہوتا جب تک وہ اس بازار سے نہ ہو لیتے۔ یہ لوگ گولڈن ٹمپل میں حاضری کے بعد بغیر جوتے پہنے ہی بازار کا رخ کر لیتے اور خرید و فروخت کرتے۔ بیشتر مغربی ممالک سے بھارت آئے ہوئے سیاح گولڈن ٹمپل دیکھنے ضرور آتے۔

’لیکن گولڈن ٹمپل میں ہندوستانی فوج کی کارروائی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ہماری زندگیاں بدل کر رکھ ڈالیں۔

فائرنگ معمول بن گئی۔۔۔
 گردوارے کے اندر اور باہر فائرنگ کی آواز معمول کی بات بن چکی تھی لیکن جب مئی انیس سو چوراسی کے اختتام پر نیم فوجی دستوں نے گھروں کی چھتوں پر مشین گنیں نصب کرنی شروع کیں تو ہمیں احساس ہوا کہ ۔۔۔
ترلوچن سنگھ

’گردوارے کے اندر اور باہر فائرنگ کی آواز معمول کی بات بن چکی تھی لیکن جب مئی انیس سو چوراسی کے اختتام پر نیم فوجی دستوں نے گھروں کی چھتوں پر مشین گنیں نصب کرنی شروع کیں تو ہمیں احساس ہوا کہ اب بڑی لڑائی چند ہی روز دور رہ گی ہے۔ نیم فوجی دستوں کی ان سرگرمیوں کے چند ہی روز بعد فوج آ گئی اور اس نے ہمیں دکانیں بند کر کے گھروں کو جانے کو کہا۔

’تین جون کو جب کچھ دیر کے لیے کرفیو اٹھایا گیا تو میں روزانہ کی طرح صبح سویرے اٹھ کر عبادت کی غرض سے گردوارے چلا گیا۔ میں گھر تو لوٹ آیا لیکن جب بعد میں کرفیو دوبارہ نافذ کیا گیا اس وقت سینکڑوں سکھ گولڈن ٹمپل کے اندر موجود تھے۔

’ایک روز بعد ہی قہر برپا ہو گیا اور ہم نے وہ رات سخت دہشت میں گزاری۔ فائرنگ کے سبب آسمان یوں روشن تھا جیسے ایک ایک ہزار واٹ کے بلب جلائے گئے ہوں۔ میں دور اپنا بازار صاف جلتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ آگ فوج نے اس لئے لگائی ہے کہ شدت پسند فرار نہ ہو سکیں۔

’صبح سویرے تک جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور ان کے ساتھی ہلاک ہو چکے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں بہت سے عام شہری بھی تھے جو محض گردوارے کی زیارت کے لیے یہاں آئے تھے۔ ظاہر ہے ان لوگوں کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہ تھا۔‘

آپریشن بلوسٹار کے بعد کئی ماہ تک ترلوچن سنگھ اور متعدد دکانداروں کو بازار کے قریب جانے کی اجازت نہ تھی۔ لیکن جوں جوں ماحول میں تلخی کم ہوتی گئی لوگوں نے ٹین کی چھتیں ڈال کر کاروبار کا دوبارہ آغاز کیا۔ گاہک واپس آنے لگے اور ایک بار صورت حال معمول پر آتی دکھائی دینے لگی۔

لیکن چند ہی برس بعد مسلح سکھ علیحدگی پسندوں نے گولڈن ٹمپل کو ایک بار پھر استعمال کرنے کی کوشش کی جس کے بعد حکومت نے گولڈن ٹمپل کے گرد حفاظتی حصار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہماری مفلسی۔۔۔۔
 ہم ایک ہی رات میں ایک بار پھر مفلسی کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے۔ یہاں کوئی گاہک نہ تھا اور بہت سے دکانداروں نے تو الاٹ کی گئی نئی دکانیں بیچ کر کہیں اور کا راستہ ناپا اور بہت سے تاجر برباد ہو گئے۔
ترلوچن سنگھ

’حکومت کا موقف تھا کہ اس نے گردوارے کے گرد و نواح کو دلکش بنانے کے لئے یہ منصوبہ تیار کیا ہے جس کی خاطر اس نے گولڈن ٹمپل سے مخصوص فاصلہ پر واقع تمام عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ پرانے بازار کے دکانداروں کو اولڈ سٹی کے کنارے ایک دور افتادہ مقام پر بھیج دیا گیا۔

ہم ایک ہی رات میں ایک بار پھر مفلسی کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے۔ یہاں کوئی گاہک نہ تھا اور بہت سے دکانداروں نے تو الاٹ کی گئی نئی دکانیں بیچ کر کہیں اور کا راستہ ناپا اور بہت سے تاجر برباد ہو گئے۔

’بیس برس گزر جانے کے بعد آج بھی نئی دکان سے حاصل ہونے والی آمدن کا پرانی دکان کی آمدنی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ مجھے زندہ رہنے کے لئے کاروبار تبدیل کرنا پڑا۔ ہم دکانداروں کی نگاہ میں سوال ہندوؤں یا سکھوں کا نہیں ہے بلکہ آپریشن بلوسٹار نے ہم سب کو متاثر کیا ہے۔‘

نوٹ: چھ جون کو گولڈن ٹمپل میں فوجی کارروائی کے بیس سال ہورہے ہیں۔ اس موقع پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی جانب سے شائع کی جانے والی یہ آپ بیتی اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ آپریشن بلو سٹار کے عینی شاہدین کی کہانیوں پر ایک ضمیمہ چھ جون کو شائع کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد