ممبئی: تین کہانیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کا ایک اپارٹمنٹ بلاک، پلیٹینم گیسٹ ہاؤس۔ سنوکر کا میز، بیئر کی بوتلیں۔ چلی اور انڈونیشیا سے آئے سماجی کارکن سگریٹ کے دھوئیں میں گتھیاں سلجھاتے۔۔۔ ’ویرو تمہاری تنخواہ کتنی ہے؟‘ ’ڈھائی ہزار روپے۔‘ ’لیکن گیسٹ ہاؤس کے منتظم کے لیے یہ کم نہیں؟‘ ’صاحب، یہ ممبئی نگری ہے، یہاں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سر پر چھت مل جائے۔ وہ مجھے مفت میں ملی ہوئی ہے۔‘ ’لیکن اس میں بچتا کیا ہے اور گھر کیا بھیجتے ہو؟‘ ’اس میں سے کیا بچانا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کبھی میری ایک نوکری تھی اور میری تنخواہ تیرہ ہزار روپے تھی۔‘ ’اچھا۔۔۔؟ تو اس نوکری کا کیا ہوا؟‘ ’وہاں پہلے جو میڈم تھی وہ بہت اچھی تھی لیکن ہمارا اس سے لفڑا ہو گیا۔‘ ’ کس بات پر؟‘
’میں چھٹی پر دیرہ دون اپنے گھر گیا۔ جب واپس آیا تو ایک دن بعد پتہ چلا کہ میرا بھائی کارگل میں مارا گیا ہے۔ میں نے میڈم سے کہا کہ مجھے جانا ہے لیکن اس نے چھٹی نہیں دی۔ بس پھر ہم نے کہا کہ ہم جا رہے ہیں۔۔۔ ہمارا بھائی تھا آخر صاحب۔‘ ’ہاں یہ تو ٹھیک بات ہے۔‘ ’لیکن بار والے دن اچھے تھے۔ کرینہ کپور، رتک روشن، یہ سب میرے دوست تھے۔‘ جہانگیر آرٹ گیلری، کالا گھوڑا، ممبئی ’ادھر تو اندر جانے کے لیے لائن لگی ہوئی ہے، کوئی فنکشن ہے کیا؟ ’نہیں فوٹوگرافی کی نمائش ہے۔‘ ’واہ کیا بات ہے۔ پاکستان میں تو جو مرضی ہو جائے، آرٹ ایگزیبشن کے لیے لائن نہیں لگ سکتی۔ ممبئی کے لوگ آرٹ کے کتنے دلدادہ ہیں۔ اگر آپ کی آرٹ گیلریوں پر اس طرح کا رش ہے تو آپ کے آرٹسٹ کتنے خوش قسمت ہیں۔۔۔ لیکن آپ لوگ ہنس کیوں رہے ہیں؟‘
’میرے بھائی، یہ نمائش بال ٹھاکرے کے بیٹے کی فوٹوگرافی کی ہے اور یہ آرٹ کے دلدادہ لوگ حاضری لگوانے آئے ہیں۔‘ ’اوہ‘ ممبئی میں سنا گیا ایک ڈائیلاگ ’ایک عجیب ڈرامہ ہوا یار، لیکن دل کو ٹھنڈ پڑ گئی۔‘ ’ کیا ہوا؟‘ ’یار یہ ممبئی کی لوکل ٹرین ہے نا۔۔۔ پہلی دفعہ سفر کیا تو کسی نے ٹکٹ چیک نہیں کی۔۔۔ دوسری بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ جب تیسری بار سالم ٹکٹ لے کر سٹیشن سے باہر نکلا تو اندر کے پاکستانی نے آواز دی کہ ادھر تو ٹکٹ خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ انڈین لوگ ڈرپوک ہیں، ٹکٹ چیک نہیں بھی ہوتی تو خرید لیتے ہیں۔‘ ’پھر؟‘ ’ آج صبح دوستوں سے ملنے ورلی جا رہا تھا تو میرے سامنے والی سیٹ پر شلوار قمیض پہنے ایک ڈاڑھی والا شخص آ کر بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ بیٹھے آدمی نے اسے پہچان لیا۔ وہ کسی ہوٹل میں ملے تھے۔‘
’اچھا‘ ’باتوں باتوں میں بتایا کہ پشاور سے آیا ہے۔اس کا پیٹ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ تاجر ہے اور بیگ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ مال خرید کر آ رہا ہے۔۔۔ تو بس ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ٹی ٹی آ گیا۔‘ ’اوہ اچھا، ٹکٹ تھا نا تیرے پاس؟‘ ’ہاں بابا، ٹکٹ تھا۔ ٹی ٹی نے انگریزی میں ٹکٹ مانگا یار!‘ ’نہیں یار۔‘ ’ہاں تو اور۔۔ اس دن میرا رکشے والا بھی انگریزی والے سائن بورڈ پڑھ کر راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔‘ ’ابے رہنے بھی دے۔‘ ’قسم سے۔‘ ’اچھا پھر ٹی ٹی نے تجھے او کے کر دیا۔‘ ’ہاں میں تو او کے ہو گیا لیکن پشاور والا پاکستانی اپنی جیبیں ٹٹول رہا تھا۔ ٹی ٹی نے بڑے تحمل سے باقی ڈبے کی ٹکٹ چیک کی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ پشاوری کنکھیوں سے اس امید پر قائم تھا کہ ٹی ٹی اس کو بھول کر اگلے ڈبے میں چلا جائے گا۔‘ ’ٹکٹ نہیں تھا؟ اوئے ہوئے۔‘ ’ہاں مجھے پتہ چل گیا تھا۔ لیکن اس نے بھی کوئی کم ایکٹنگ نہیں کی۔ جیبوں کے بعد اپنے سارے بیگ کھول دیئے اور چہرے پر پریشانی طاری کر لی۔ ٹی ٹی اس کے سر پر آ کر کھڑا ہو گیا اور ٹکٹ مانگا۔‘ ’ کیا بولا؟‘ ’بولنا کیا تھا۔۔۔ بہانے۔ ٹکٹ لیا تھا، گِر گیا، گم ہو گیا۔ ٹی ٹی نے بڑے تحمل سے اس کی بات سنی، پھر بولا ’نو پروبلم۔ آپ ڈیڑھ سو روپے فائن دے دیجیے اور اگلے سٹیشن پر سیکنڈ کلاس والے ڈبے میں چلے جائیے۔‘ ’پشاوری کیا بولا؟‘
’ایک سیکنڈ کے لیے تو اسے یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ پھر تھوڑی چوں چراں کی، شاید اس امید میں کہ ٹورسٹ سمجھ کر اس کی جان بخشی ہو جائے گی۔ لیکن ٹی ٹی بولا ’ایک تو ٹکٹ نہیں اوپر سے بیٹھا بھی فرسٹ کلاس میں ہے۔ بس چپ چاپ جرمانہ دیا اور اگلے سٹیشن پر سیکنڈ کلاس کمپارٹمنٹ میں چلا گیا۔‘ ’یار یہی سیچوایشن پشاور کی ٹرین میں ہوتی تو کیا ہوتا؟‘ ’ کیا ہوتا۔۔۔ یا تو ٹی ٹی اس کے قبیلے کا ہوتا یا اس کے قبیلے سے سو سالہ جنگ شروع ہو جاتی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||