BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 April, 2004, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی تھائی لینڈ سےایک پاکستانی کی روداد

’شاید گورنمنٹ کو بھی کچھ پتہ نہیں کہ یہ سب کیا اور کیسے ہوا؟‘
’شاید گورنمنٹ کو بھی کچھ پتہ نہیں کہ یہ سب کیا اور کیسے ہوا؟‘
جنوبی تھائی لینڈ میں بدھ کے روز فوجی چوکیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد جھڑپوں میں اب تک ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ جھڑپیں مسلمان آبادی والے علاقے میں ہوئیں۔ حکومت نے ان حملوں کی ذمہ داری اسلحے کے مقامی سمگلروں اور علیحدگی پسندوں پر عائد کی ہے۔ بی بی سی اردو آن لائن کے قاری ذوالفقار علی یوسف زئی نے وہاں سے ہمیں اپنے ان دو دنوں کی روداد بھیجی ہے۔


صبح کا وقت تھا اور میں اٹھ کر نہانے کی تیاری کر رہا تھا۔ عادتاً میں نے سب سے پہلے ٹی وی آن کیا۔ خبریں سنیں تو پتہ چلا کہ یہ واقعہ ہوگیا ہے۔ جب باہر نکلا تو سری مارکیٹ ویران پڑی تھی۔ سڑکیں بلاک کر دی گئی تھیں اور پولیس کسی کو آگے جہاں پر یہ واقعہ پیش آیا تھا، جانے نہیں دے رہی تھی۔ یہاں پر خبروں کے مطابق ایک سو آٹھ لوگ مارے گئے ہیں، سترہ پکڑے گئے ہیں اور کئی فرار ہوگئے ہیں۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیسے ہوا؟ خیر میں تو مقامی نہیں یہاں مقامی لوگوں کو اور مجھے تو لگتا ہے کہ شاید گورنمنٹ کو بھی کچھ پتہ نہیں کہ یہ سب کیا اور کیسے ہوا؟

News image
حکومت کے مسلمانوں سے تعلقات
 حکومت نے مسلمانوں کو خاصی سہولیات مہیا کی ہیں۔ حکومت مسجدیں بناتی ہے، اماموں کو تنخواہیں دیتی ہے اور یہاں کے مسلمان علماء کا بھی حکومت کے ساتھ خاصا اچھا تعلق ہے۔

تھائی لینڈ کے تین ضلعےسانکڑہ، یلا اور پتانی مسلمان اکثریت پر مشتمل ہیں۔ اگرچہ بینکاک کے مقابلے میں یہ غریب علاقے ہیں لیکن ملک کے کئی دیگر حصوں کی نسبت خاصے خوش حال ہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ مچھلی اور ربر کا کام کرتے ہیں۔ حکومت نے مسلمانوں کو خاصی سہولیات مہیا کی ہیں۔ حکومت مسجدیں بناتی ہے، اماموں کو تنخواہیں دیتی ہے اور یہاں کے مسلمان علماء کا بھی حکومت کے ساتھ خاصا اچھا تعلق ہے۔

تھائی مسلمان خاصے عبادت گزار ہوتے ہیں خاص طور پر ادھیڑ عمر کے بعد۔ زیادہ تر آبادی سنی ہے اور امام شافعی کے ماننے والوں پر مشتمل ہے۔اکثر لوگ پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تبلیغی بھی ہیں لیکن یہ لوگ شدت پسند نہیں اور انتہائی نرم گو ہوتے ہیں۔ ایک مختصر تعداد سخت گیر خیالات رکھنے والوں کی بھی ہے جو غیر مسلموں سے میل جول پسند نہیں کرتی تاہم باقی تھائی آبادی کی طرح یہ بھی نرم مزاج لوگ ہی ہیں۔

یہاں گڑ بڑ کا آغاز جنوری کے مہینے سے ہوا ہے لیکن کسی کو بھی حالات کے اس حد تک آجانے کی توقع نہ تھی۔ ٹی وی کے مطابق مارے جانے والے مقامی اور زیادہ تر نوجوان لوگ تھے۔ انہوں نے گیارہ چوکیوں پر حملہ کیا جس کے بعد حکومت نے کاروائی کی۔ جس مسجد میں تیس سے زیادہ لوگ مارے گئے، میں وہاں کئی مرتبہ گیا ہوں۔ یہ مسجد بہت بڑی تو نہیں لیکن چار سو سال سے زیادہ پرانی ہے اور لوگ اس کا بہت احترام کرتے ہیں۔ اس کے پاس ہی ایک بدھ مندر بھی ہے۔ یہاں عموماً مسجدیں اور مندر آس پاس ہوتے ہیں۔

News image
مندر مسجد پاس پاس
 یہ مسجد بہت بڑی تو نہیں لیکن چار سو سال سے زیادہ پرانی ہے اور لوگ اس کا بہت احترام کرتے ہیں۔ اس کے پاس ہی ایک بدھ مندر بھی ہے۔ یہاں عموماً مسجدیں اور مندر آس پاس ہوتے ہیں۔

ان دو دنوں میں عجیب و غریب خبریں سنائی دیتی رہی ہیں۔ ٹی وی پر آیا ہے کہ یہ لوگ اسلحہ پر قبضہ کرنا چاہ رہے تھے۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ منشیات وغیرہ کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ یہ خبر بھی آئی کہ یہ علیحدہ پسند۔ کچھ بھی ہو بحرحال اتنا بڑا واقعہ اس علاقے میں میرے دس سالوں میں کبھی پیش نہیں آیا۔ پتہ نہیں آنے والے سالوں میں اس کے کیا اثرات ہوں گے۔

میرا تعلق بنیادی طور پر مردان سے ہے۔ میں نے پشاور سے تعلیم حاصل کی اور انیس سو پچانوے میں یہاں تھائی لینڈ آگیا۔ یہاں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ ایک بڑی تعداد انڈینز اور ملیشیائی باشندوں کی بھی ہے۔ پاکستانی زیادہ تر کاروباری ہیں جن میں سے بیشتر کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ میں شروع میں ان سے ہول سیل پر کپڑا خرید کر مارکیٹ میں جا کر بیچا کرتا تھا۔ اس کے بعد یہیں پر میں نے شادی کرلی اور میرا ایک بچہ ہے۔ شادی کے بعد میں نے ایک وڈیو کی دوکان کھول لی اور اب یہی کاروبار ہے۔

پہلے تھائی لینڈ میں ان غیر ملکیوں کو جو عرصہ دراز سے مقیم ہوں، شہریت دے دیتے تھے لیکن اب انہوں نے کچھ سختی کردی ہے۔ ویزا دے دیتے ہیں۔ خصوصاً جن کی شادی یہیں ہوئی ہو ان کو آسانی سے ویزا مل جاتا ہے۔
میں جہاں رہتا ہوں اس جگہ کا نام نارتی واٹ ہے اور یہ جنوبی تھائی لینڈ کے ان علاقوں کا حصہ ہے جہاں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔

پاکستانیوں کو یہاں کوئی خاص خوف نہیں ہے کیوں کہ ابھی تک صرف مقامی لوگوں کو ہی پکڑا گیا ہے۔ اس وقت بھی کئی لوگ میرے گھر پر جمع ہیں اور ہم بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ لاشیں وارثوں کے حوالے کر دی گئی تھیں اور اب انہیں دفنایا جا رہا ہے۔ اللہ جانے آگے کیا ہوگا؟

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد