’میں ساجد نعیم سے ملا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ روداد کویت میں کام کرنے والے ایک پاکستانی کی ہے جو عراق میں قتل ہوجانے والے ساجد نعیم سے ملے تھے۔ میرا تعلق پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے ہے۔ میں وہاں بی اے میں پڑھ رہا تھا جب پچھلے سال اکتوبر میں تعلیم کو درمیان میں ہی خیرباد کہہ کر یہاں کویت میں ایک کمپنی کی ملازمت کے لئے آگیا۔ یہاں میری ملازمت سیٹلائیٹ ٹیکنیشین کے طور پر ہوئی۔ مجھے لگا کہ گریجوایشن کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ نوکری تو ملے گی نہیں۔ جس کمپنی میں میں کام کرتا تھا وہ عراق میں متعین امریکی فوجیوں کے لئے پراجیکٹ کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عراق بھی جانا پڑے گا۔ پیسے اچھے تھے، میں نے سوچا کہ رسک تو لینا ہی پڑے گا، باقی جو قسمت میں ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔
میں پہلی دفعہ نومبر میں عراق گیا جہاں ہمیں ناصریہ میں ایک فوجی کیمپ میں سیٹلائٹ کنکشن مہیا کرنے کا کام ملا تھا۔ ہم نے ہر دفعہ امریکی فوجیوں کے ساتھ ہی سفر کیا جس میں ایک گاڑی ہماری درمیان میں ہوتی تھی اور آگے پیچھے بہت سی امریکی گاڑیاں ہوتی تھیں۔ راستے میں عراقی لوگ امریکی گاڑیاں دیکھ کر پتھر وغیرہ بھی پھینکا کرتے تھے حالانکہ امریکی فوجی ان کے لئے کھانے پینے کی چیزیں پھینکتے رہتے تھے۔ اس کے بعد میں تقریباً چار دفعہ عراق گیا جس میں بغداد، بصریہ اور عمریہ شامل ہیں۔ پہلی دفعہ ناصریہ میں جس کیمپ میں میں کام کرتا تھا اس کے بارے میں سنا تھا کہ وہ صدام کے کسی بیٹے یا بیٹی کا محل ہوا کرتا تھا۔ یہاں کئی عراقی بھی کام کرتے تھے اور یہ سب امریکیوں کو اچھا سمجھتے تھے۔ وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ صدام بہت ظالم آدمی تھے۔ امریکی فوجی ہمارے ساتھ برابری سے پیش آتے تھے۔ دسسمبر میں میں جب بغداد گیا تو وہیں ہم نے ان کے ساتھ کرسمس اور نیو ائیر منائی۔ ہمیں کیمپ سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور تمام سامان وہیں مہیا کیا جاتا تھا۔ یہیں پر میری پہلی دفعہ ساجد نعیم سے ملاقات ہوئی۔ بغداد ائیر پورٹ سے ہمیں لینے وہی آئے تھے۔ وہ خوش مزاج اور معصوم سے آدمی تھے۔ ان کے پاس گاڑی تھی اور وہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ تک سامان لاتے اور لے جاتے تھے۔
جیسا کہ میرے علم ہے وہ تمیمی کمپنی کے لئے کام کرتے تھے۔ تمیمی کمپنی ان لوگوں کو مفت ویزا دیتی ہے جنہوں نے عراق میں کام کرنا ہوتا ہے لیکن ساجد نعیم اور زیادہ تر لوگ یہ ویزے پاکستان میں ایجنٹوں کے ذریعے خریدتے ہیں۔ رقم لگانے کے بعد یہ لوگ مجبور ہوتے ہیں کہیں بھی کام کرنے کے لیئے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کا کام کویت میں ہوگا لیکن کچھ دن کویت میں رکھنے کے بعد انہیں عراق بھیج دیا گیا اور یہ نہیں بتایا کہ تم عراق جا رہے ہو۔ رقم لگا کر آنے کے بعد یہاں سے لوٹنا گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔ وہاں عراق میں میری راولا کوٹ سے آئے ہوئے کئی دوسرے لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ ’ہمیں کویت کا کہہ کر بلایا گیا تھا‘۔ چونکہ وہاں ساری سیکیورٹی امریکیوں کی ہے اس لیے یہ لوگ کوئی خاص ڈرے ہوئے نہ تھے۔ وہاں کئی اور پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی بھی نظر آئے۔ میں سترہ دن اس کیمپ میں رہا جہاں ساجد نعیم سے میری تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ ہم جن حالات میں تھے گھر کی بات کرنے سے کتراتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ساجد جیسے آدمی پر جاسوسی کا الزام کیسے لگایا جا سکلتا ہے۔ وہ معصوم سے آدمی تھے۔ باقی ہاں امریکیوں کے لیے ضرور وہ کام کررہے تھے۔ بغداد ائیرپورٹ پر ہمیں واپس چھوڑنے بھی ساجد نعیم ہی آئے تھے۔ ہمارے پاس پیٹرول ختم ہوگیا تھا تو پیٹرول بھی انہوں نے ہی لاکر دیا تھا۔ یہاں پر امریکی ٹروپس ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہم نکلتے ہیں اور وہ ہمیں ہماری منزل پر چھوڑ دیتے ہیں یعنی کویت کے بارڈر پر۔
میں نے اس کے بعد وہ کمپنی چھوڑ دی اور دوسری کمپنی میں کام کرتا ہوں اور میرا پھر عراق جانا نہیں ہوا۔ جب میں نے یہ خبر سنی تو ظاہری بات ہے کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ میں انہیں جانتا تھا اور مجھے پتہ تھا کہ وہ کس قسم کے آدمی ہیں۔ سننے میں آرہا کہ اگرچہ پاکستانی حکومت نے لوگوں کو خراب حالات کی وجہ سے عراق بھیجنا بند کردیا ہے اور سختی کر دی ہے لیکن لوگ پھر بھی اندر اندر ہی اندر جا رہے ہیں، غیر قانونی طریقوں سے پہنچ رہے ہیں کیونکہ تنخواہ بہت ہے۔ انہیں دن کے تقریباً تینتیس کویتی دینار (تقریباً ساڑھے چھ ہزار پاکستانی روپے) تک مل جاتے ہیں جو کہ بڑی رقم ہے۔ میں تو صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ساجد نعیم کی موت کی ذمہ داری عراق، امریکہ یا پاکستان پر عائد نہیں ہوتی، یہ ان ایجنٹوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے انہیں نہیں بتایا کہ وہ عراق جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||