’ماں کو چھوڑ کر کیسے جاؤں؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’نہ جا ۓ رفتن نہ پا ۓ ماندن‘ یہ ہے ایک عراقی ڈاکٹر کا المیہ۔ ملک میں امن عامہ کی غیر یقینی صورتحال اور ضروری سہولتوں کی تباہ حالی کی وجہ سے کچھ عراقی ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کے لیے کسی ایسے فیصلہ پر عملدرآمد کرنا ان کی توقعات سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بی بی سی آن لائن سے بات کرتے ہوۓ بغداد کے الیرموک ہسپتال کے انتیس سالہ ڈاکٹر سمیرعلی نے ایسے ہی تذبذب کا اظہار کیا۔ وہ یورالوجی میں سییشلائزیشن کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سمیرعلی کے خیال میں نہ تو شہر میں ان کے شعبہ کے لیے خاطرخواہ سہولتیں دستیاب ہیں اور نہ ہی عراق چھوڑ کر جانا ان کے لیے ممکن دکھائی دیتا ہے۔ بغداد میں امن و عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے میں اپنی ماں اور بہن کو چھوڑکر نہیں جا سکتا۔ میرے خیال میں شہر میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ میرے زیادہ تر ہم پیشہ، شادی بیاہ اور گرین کارڈ کے ذریعہ عراق کو خیرآباد کہہ کر یورپ یا امریکہ جاچکے ہیں۔اگرچہ جنگ کے بعد ان میں سے کچھ واپس لوٹ کر آئے مگر ان میں ذیادہ تر وہی لوگ ہیں جوکہ اپنے والدین کی وجہ سے لوٹے ہیں۔ میں اپنی ماں کا اکیلا بیٹا ہوں، اور وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ میں انہیں چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں؟ دوسری طرف عراقی لوگ بھی ڈاکٹروں سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم ان کا علاج کرنےمیں دلچسپی نہیں رکھتے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ضروری سہولتوں کے نہ ہوتے ہوئے کام کیسے کر سکتے ہیں؟
مانا کہ ڈاکٹری ایک مقدس پیشہ ہے اور لوگوں کا علاج کرنا ہمارا فرض ہے مگر ہمیں بھی اپنا گھر چلانا ہوتا ہے۔ بغداد میں ایک کلینک کا کرایہ دو سو ڈالر تک ہے جبکہ میری ماہانہ تنخواہ ہی دو سو ڈالر ہے۔ عراق میں کوئی بھی عام سرکاری ملازم مجھ سے زیادہ کما سکتا ہے۔ یہاں پر تنخواہ کا انحصار اس بات پر نہیں کہ آیا میں سپیشلائزیشن کر رہا ہوں یا نہیں بلکہ اس پر ہے کہ مجھے ہسپتال کے ساتھ کام کرتے ہوئے کتنے سال ہو چکے ہیں۔ قطعہ نظر اس بحث کے اب میرے پاس وقت نہیں بچا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اب مجھے فیصلہ کرنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ماں کو دکھ دینا اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے ۔ میں صرف امید کر سکتا ہوں کہ میری ماں میری مجبوری کو سمجھ سکیں اور عراق چھوڑنے پر مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں وہ اپنے دل کی بجاۓ دماغ سے فیصلہ کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||